روزہ اوررمضان کی اہمیت

استقبالِ رمضان

ماہِ رمضان بڑی فضیلت، عظمت، رحمت، مغفرت اور برکت کا مہینہ ہے،رمضان کی صحیح قدرو قیمت کا احساس در اصل اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کو تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم رجب کے مہینے کے شروع ہوتے ہی رمضان کا استقبال و انتظار فرمایا کرتے تھے،بلکہ پوری امت کو یہ حکم فرمایا کہ :”احصوا ہلال شعبان لرمضان“․رمضان کے لیے شعبان کے چاندکو اچھی طرح یاد رکھو۔(ترمذی) اور رمضان تک پہنچنے کی دعا مانگنا شروع فرما دیا کرتے تھے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

”اللّٰھمَّ باَرِکْ لَنَافِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان“

اے اللہ!ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔(مسند احمد ،رقم الحدیث2228)

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب رمضان کا چاند دیکھتے تو قبلہ کی طرف رخ فرما کر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اے اللہ! اس (چاند) کو ہمارے اوپر امن وایمان اور سلامتی واسلام ،وعافیت داربنا ،بیماریوں سے حفاظت اور روزے، نماز (وتراویح) اور قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ مزّین رکھیے۔ یا اللہ! ہمیں رمضان کے لیے اور رمضان کو ہمارے لیے سلامتی وعافیت کے ساتھ رکھیے، اور رمضان اس حال میں مکمل ہو کہ آپ نے ہماری مغفرت فرما دی ہو اور ہم پر رحم فرما دیا ہو اور ہمارے قصور معاف کر دیے ہوں۔ (فضائل رمضان لابن ابی الدنیا ،رقم الحدیث20)

بعض احادیث میں یہ دعا منقول ہے:اے اللہ!مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھیے اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کا ذریعہ بنا دے۔(کنزالعمال)

 

رمضان کی نسبت اللہ کے ساتھ:

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر ودیلمی ،فیض القدیر)

 

رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کی خاطر چاند دیکھنے اور شعبان کے چاند کی تاریخوں کو یاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:شعبان کے چاند(اور اس کی تاریخوں)کے حساب کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تا کہ رمضان کا حساب صحیح ہو سکے(ترمذی واللفظ لہ،سنن دار قطنی،السنن ا لکبری)۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم شعبان کے(چاند اور اس) مہینے کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے،پھررمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے اور اگر(29شعبان)کو چاند دکھائی نہ دیتا تو تیس (شعبان کے)دن پورے کرکے پھر رمضان کے روزے رکھتے تھے۔(ابو داود،مسند احمد،سنن دار قطنی)

 

آپ صلی الله علیہ وسلم اس مہینے میں عبادت واطاعت کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا تھا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی نمازوں میں زیادتی ہو جاتی تھی اور دعاوٴں میں تضرع وزاری بڑھادیتے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ سرخ ہو جاتا تھا ۔(شعب الایمان للبیھقی)ایک دوسری جگہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم اپنا تہبند کس لیتے تھے پھر اپنے بستر پر نہیں آتے تھے یہاں تک کہ رمضا ن کا مہینہ گزر جاتا۔ (شعب ا لایمان للبیھقی)

 

معلی ابن الفضل تابعی فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین رمضان سے چھ مہینے پہلے اللہ سے دعائیں مانگنا شروع فرما دیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!ہمیں رمضان تک پہنچا دے اور رمضان کے بعد چھ مہینے تک یہ دعا کیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!رمضان میں جو عبادتیں کیں ان کو قبول فرما ۔

 

ہمارے بزرگوں کا معمول بھی رمضان میں اپنے آپ کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کا تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی رمضان کا استقبال اور انتظار کرنے کے لیے مذکورہ باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے:

1…یہ دعا کی جائے کہ اللہ ہم کو بخیر وعافیت رمضان تک پہنچائے اور پھر رمضان کی رحمت،خیروبرکت سے خوب استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

2…دوسری مصروفیات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

3…رمضان کے جو کام پہلے ہو سکتے ہیں ان کو پہلے کر لیں اور جو کام موٴخر ہو سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں۔

4…29شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں۔

5…رمضان سے پہلے ہی گناہوں سے پکی وسچی توبہ کر کے اپنے گناہوں کی بخشش اور دل کی صفائی کر لیں تا کہ پہلے ہی دن سے رمضان کی برکتوں سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں۔

 

روزے کی اہمیت

روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، اللہ رب العزت نے فرمایا: اے ایمان والو! تمہارے اوپر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاوٴ۔(سورہ بقرہ:183)

 

1… روزہ گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھا اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابوداوٴد، ترمذی)

2… روزہ گناہوں سے ڈھال ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دے۔

3… روزہ جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے اور جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے۔(شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:8857)

4… روزہ جہنم کی آگ سے ہزاروں میل دوری کا سبب ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھا تو اللہ تعالی اس کو جہنم سے اتنا دور فرمادیتے ہیں کہ جتنی مقدار کوّا اپنی عمر کی ابتداء سے بوڑھے ہو کر مرنے تک اڑتے ہوئے مسافت طے کرتا ہے۔ (شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:10388)

5… روزہ بہترین سفارشی ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ اور قرآن سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔

6… روزہ دار کی نیند عبادت، سانس لینا، تسبیح اوردعا مقبول ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ دار کی نیند عبادت ہے، اس کاسانس لینا تسبیح ہے، اوراس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔(حلیة الاولیاء،کنزالایمان)

7…. روزہ دار کے لیے جنت کی حور آراستہ اور مزین کی جاتی ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جنت ماہِ رمضان کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہے،اورحوریں بھی روزہ داروں کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں۔(شعب الایمان:کتاب الصیام،رقم الحدیث:3359)

8… روزہ دار کے لیے جنت میں داخلے کا خصوصی دروازہ…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے اس کا نام ”ریّان“ ہے اورقیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہونگے، کہاجائے گا ”روزے دار کہاں ہیں؟“،پھر وہ کھڑے ہو جائیں گے اورجب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تووہ دروازہ بند کر دیاجائیگا۔ (بخاری،مسلم)

9… روزہ جسم کی زکوة ہے۔ (شعب الایمان،کتاب الصیام)روزہ رکھو تندرست رہو۔

 

رمضان اور روزے کے فضائل پر قرآن وحدیث میں بیسیوں دلیلیں موجود ہیں ،سب کا مقصد یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ ہمارے لیے حاضر ہو گیا ہے، یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک پیکج ہے جس کی مدت بہت محدود ہے،جس قدر چاہیں ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور فائدہ وہی اٹھاتا ہے جو عقل مند ہو، اگر آپ اپنے آپ کو عقل مندوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں تو خوب خوب فائد ہ اٹھا کر اپنے عقل مند ہونے کا ثبوت دیں۔

 

حدیث مبارکہ میں ہے:

رمضان کی پہلی رات ہی سے شیطانوں،اور سر کش جنوں کو قید کر دیا جا تا ہے، اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جا تا ہے اور ان میں سے کو ئی دروا زہ بھی کھلا نہیں رہتا،اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جا تا ہے اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ” اے خیر کے طلب کرنے والے! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلب کرنے والے! رک جا“ اور اللہ کی طرف سے دوزخ سے بہت سے لوگ آزاد کیئے جا تے ہیں اور یہ واقعہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔

 

حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ:بلا شبہ جنت ماہ رمضان کیلیے شروع سال سے اخیر تک سجائی جا تی ہے، اور حوریں بھی رمضان کے روزے رکھنے والوں کیلیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں، جب رمضان شریف کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت (اللہ تعالی) سے عرض کرتی ہے اے اللہ ! اس مبارک مہینہ میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے میرے اندر قیام کرنے والے مقرر فرما دیجئے؛( جو عبا دت کر کے میرے اندر داخل ہو سکیں)اور (اسی طرح) حوریں بھی عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ ذوالجلال! اس با برکت مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے واسطے کچھ خاوند مقرر فرما دیجئے۔

 

رمضان آچکا ،آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے،جنت کے دروازے کھول دئیے گئے،رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے،جہنم کے دروازے بند کردئے گئے،سرکش شیاطین کی گردن میں طوق ڈال کر سمندروں میں پھینک دیا گیا،رمضان کورحمت مغفرت اور بخشش کاذریعہ بنادیا گیا،چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رمضان کا اول حصہ رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔

 

ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں اپنے اللہ کو راضی کرلیں ،اپنے گناہوں کی بخشش کروالیں،وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سید الملائکہ کی بد دعا ہو اور سید الانبیاء کی آمین ہو،ایک روایت میں ہے کہ:حضور صلی الله علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے، اور اپنے منبر کے پہلے درجے پر قدم مبارک رکھا تو فرما یا :آمین، جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرما یا :آمین جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا :آمین،جب آپ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)نے عرض کیا کہ: ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی ،آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرما یا ، کیا تم نے بھی وہ بات سنی ہے؟ ہم نے عرض کیا جی ، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے( جب پہلے درجے پر میں نے قدم رکھا تو)انہوں نے کہا :ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اسکے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھا پے کو پائے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائے میں نے کہا :آمین! پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا :ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ صلی الله علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے میں نے کہا :آمین! پھر انہوں نے کہا کہ: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضا ن المبارک کا مہینہ پایاپھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ،میں نے کہا :آمین۔

 

اس بد دعا کی قبولیت میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟لہذا اس حدیث کو ہر وقت سامنے رکھیں ،اور یہ خیال رہے کہ اس بد دعا میں ہم داخل نہ ہو جائیں۔ جبکہ روزہ رکھنے سے آدمی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے کہ روز ہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے)اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیا دہ پاکیزہ(اور پسندیدہ ہے)کما فی الحدیث۔

 

روزے کا صلہ اللہ جل شانہ خود دیتے ہیں ،چناچہ ایک روایت میں ہے:اللہ عزوجل فرما تے ہیں کہ: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا ، دوسری روایت کے مطابق اللہ فرماتے ہیں:روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔اسی محبت کی وجہ سے فرمایا کہ:روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے ہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے“،اوریہ محبت ہی تو ہے کہ محبوب کو محب سے ملاقات میں مزہ آتا ہے ،فرمایا:کہ روزہ دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت فرحت ملے گی۔

 

روزہ دار کے اعزاز کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنت میں داخلہ کے لیے اللہ نے روزہ داروں کے لیے ایک علیحدہ دروازہ کا اہتمام فرمایا جیساکہ حدیث میں ہے جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ”ریاّن“ ہے۔اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار داخل ہونگے ، قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے روزہ داروں کا نام لے کر بلا یا جائے گا ۔ وہ اس دعوت پر کھڑے ہونگے ، اور ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازہ سے داخل نہ ہوگا۔

 

رمضان کس طرح قیمتی بنائیں

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے :” ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس پر رمضان کا مہینہ گزر گیا اور اس نے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ “،آج رمضان کا مہینہ آتا ہے اور گزر جاتا ہے مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،معمول کی طرح زندگی چل رہی ہوتی ہے ،احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر رمضان کا مہینہ گزر رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سستی کرتے ہیں اور رمضان کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں ،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں اور کوشش کریں کہ ہمارا رمضان اس طرح گزرے جس طرح ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم گزارا کرتے تھے،اصحابِ پیغمبر گزارا کرتے تھے ،اسلافِ امت اور اکابرین گزارا کرتے تھے،اس کے لیے ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ ٹائم ٹیبل اور نظام الاوقات کے ساتھ گزارنا ہوگااور رمضان کے لیے ایک مضبوط پلاننگ اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے دستور العمل تیار کرناہوگا،تاکہ اس ماہ میں کسی بھی خیرکے کام اور اللہ کے وعدوں سے محروم نہ ہوسکیں اور رمضان کے یہ قیمتی اوقات اور ساعتیں قیمتی سے قیمتی تر ہو سکیں،لہٰذا دیگر امور اور معاملات کو جتنا موٴخر کر سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں،اگر رمضان میں چھٹی کا اختیار ہو اور پیچھے معاملات میں حرج نہ آتا ہو تو چھٹی کریں،اگر چھٹی کا اختیار نہ ہو توکم از کم اپنے اوقات کو ایسا مرتب کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی براہِ راست عبادت میں گذر جائے۔چناں چہ:

 

1…سب سے پہلے پکی وسچی توبہ کریں،تاکہ گناہوں سے پاک وصاف ہوکررمضان کے انوارات اور برکات سے مستفید ہو سکیں۔

2… اخلاص کے ساتھ روزہ کا اہتمام کریں …آج کل دین سے بہت دوری ہونے کی وجہ سے بعض مسلمان روزوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اور اکثر روزہ چھوڑ دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ روزے اور رمضان کے تمام فضائل سامنے رکھتے ہوئے اور بندگی بجا لاتے ہوئے اخلاص کے ساتھ روزوں کا اہتمام کریں۔

3…تراویح کا باجماعت اہتمام کریں…کیوں کہ تراویح مغفرت کا ذریعہ ہے کہ اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” من قام رمضان إیماناً واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ،“جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے گذشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، تراویح کے واسطہ سے روزانہ اللہ کے چالیس مقاماتِ قرب حاصل ہوتے ہیں،سجدہ مقامِ قرب ہے،اور یہی سجدہ معراج کے دن تحفہ میں ملا،پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے” الصلوة معراج الموٴمن“فرماکر اس کو موٴمن کی معراج قرار دیا۔اللہ ربّ العزت نے بڑے عجیب انداز سے اس بات کو قرآنِ کریم میں سمجھایا،فرمایا:”واسجد واقترب“کہ سجدہ کرو اور ہمارے قریب آجاوٴ۔

4…تلاوت قرآنِ کریم کی کثرت کریں…رمضان اور قرآن میں ایک خاص مناسبت اور جوڑ ہے،اسی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم،صحابہ کرام اور بزرگانِ دین اس ماہِ مقدس میں اور دنوں کی بنسبت تلاوت کلامِ پاک کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایک قرآن دن میں،ایک رات میں اور ایک تراویح میں،اسی طرح پورے رمضان میں اکسٹھ قرآن کریم کے ختم فرماتے تھے،علامہ شامی رحمہ اللہ روزانہ ایک قرآن ختم فرماتے تھے۔

5…سنتوں اورنوافل کا اہتمام کثرت سے کریں…ایک تو اس وجہ سے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”من تقرب فیہ بخصلة من الخیر کان کمن أدی فریضة فیماسواہ“رمضان میں نفل پر فرض کا ثواب ہوگا،دوسرا اس وجہ سے کہ جب نوافل کا اہتمام کیا جائے تو سنتوں پر پختگی ہوتی ہے اور جب سنتوں کا اہتمام کیا جائے تو فرائض پر پختگی ہوتی ہے،جب کہ رمضان میں ایک فرض کی ادائیگی سے ستر فرضوں کا ثواب ملتا ہے،تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن فرائض کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔

 

لہٰذا سنت موٴکدّہ اورغیر موٴکدہ کی پابندی کے ساتھ مندرجہ ذیل نوافل کا بھی اہتمام کیا جائے:

تہجد…سحری کے لیے تو بیدار ہوتے ہی ہیں صرف اتنا اہتمام کر لیا جائے کہ سحری سے آگے پیچھے تھوڑا سا وقت نکال کرچند رکعات نماز پڑھ لی جائیں۔کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ فرائض کے بعد سب سے افضل نماز تہجدکی نماز ہے(ترمذی:90)َ،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جو رات کو اٹھے اوراپنے اہل کو بھی اٹھا کر دو رکعت نفل پڑھے تو ان کانام ذکر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے “(ابن ماجہ)۔

 

اشراق (2سے 8 رکعت)… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ جل شانہ فرماتے ہیں ”کہ اے ابن آدم!تو دن کے شروع حصہ میں چار رکعت نمازخالص میرے لیے پڑھ،میں تجھ کو اس دن کی شام تک کفایت کرونگا“(ترمذی)۔

 

صلا ة الضحی یعنی چاشت(6سے 12 رکعت )…نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے”کہ جو شخص چاشت کی دورکعت میں مواظبت(پابندی) اختیار کرے، اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں“ (ترمذی:1/108)۔

 

صلاةالاوابین( 6سے 20 رکعت )…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :” کہ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھیں اور درمیان میں کوئی بری بات نہیں کی اس کو بارہ(12)سال کی عبادت کے برابر ثواب ملتا ہے “،اور فرمایا:”کہ جس نے بیس(20)رکعت پڑھیں اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ (ترمذی:1/98)

 

تحیة الو ضو…جب بھی وضو کریں تو اگر مکروہ وقت نہ ہو تو کم ازکم دورکعت پڑھ لیں۔یہی وہ نماز ہے جس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اس مقام پر فائز کیا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ،اے بلال( رضی اللہ عنہ!)تمہارا وہ کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے جنت میں تمہارے جوتوں کی کھٹکھٹاہٹ میں نے اپنے سامنے سنی،حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا،اے اللہ کے رسول !اور تو کوئی عمل یاد نہیں لیکن جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس سے نماز ضرور پڑھتا ہوں…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کریگا اس کے لیے جنت واجب ہوگی۔

 

تحیة المسجد …جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو کم از کم دو رکعت پڑھ لیا کریں۔(ترمذی:1/71)

 

صلاة تسبیح …جس کے بارے میں اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے اپنے چچا کو فرمایا،اے چچا میں آپ عطیہ نہ دوں،ہدیہ وگفٹ نہ دوں،کیا (بڑی) خبر نہ دوں،جب آپ یہ کام کروگے تو اللہتعالیٰ آپ کے اول وآخر،قدیم وجدید ،اور عمداً(وسہواً)،صغیرہ وکبیرہ،پوشیدہ وظاہرسب گناہ بخش دیگا،یہ نماز اگر ہر دن ہو سکے تو پڑھو ،ورنہ ہر جمعہ،ورنہ سال میں ایک دفعہ،اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے توعمر میں ایک دفعہ (ضرور)پڑھو۔

 

صلاةالحا جہ…جب بھی کوئی حاجت پیش آئے تو نماز پڑھیں۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ”کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی مجھے بینائی عطا فرمائیں حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر تم صبر کرو تو بہت ثواب ہوگا اگر کہو تو میں دعا کروں، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دعا فرمائیے، اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو صلاةالحاجة کی تعلیم فرمائی، جسے پڑھ کر اللہ تعالی نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی“۔(ترغیب وترھیب :174)

 

صلاة التوبہ…حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس کے بعد فورا ًطہارت کرکے دورکعت نماز پڑھے، پھر اللہ تعالی سے مغفرت چاہے اللہ جلّ شانہ اس کے گناہ بخش دے گا“(ترمذی:1/92)۔

 

صدقات کی کثرت…آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنداکرتا ہے اوربری موت کو ٹالتا ہے“اور فرمایا: ” تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے کیوں نہ ہو “۔(ترغیب وترہیب:221)

 

ذکراللہ کی کثرت…(تیسرا کلمہ ، درودشریف اور استغفار صبح وشام سو سودفعہ۔)․ذکر اللہ کی کثرت:جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ پاگل ہے“          اور فرمایا:”کہ اللہ جل شانہ کا ایسا ذکر کرو کہ منا فقین کہیں کہ یہ ریاکار ہے“۔(ترغیب وترہیب:383)

 

گناہوں سے بچنے کا اہتمام…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جو جھوٹ بولنااور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔(بخاری وترمذی)

 

دعا کی کثرت …حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ اگر کوئی چاہے کہ اللہ تعالی تنگی اور مصیبت کے وقت اس کی دعا ئیں قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کیا کرے ۔(ترمذی)

 

اللہ ربّ العزت ہم سب کو رمضان کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے۔