رمضان میں ورزش کیوں ضروری ہے؟

بہت سے لوگ رمضان کے مبارک مہینے میں ورزش سے کتراتے ہیں حالانکہ اُنہیں نہیں پتہ کے اِس مہینے میں تو ورزش کرنے کا زیادہ فائدہ ہے اور آپ اِس مہینے میں ورزش کر کے بہت اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اِس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کے رمضان کے مہینے میں ہم پُورا ایک مھینہ ایک مکمل ممعول کے مطابق کھانا کھاتے ہیں جس سے ہماری صحت پر بہت اچھے اثرات پڑتے ہیں۔

روزے کے دوران ورزش اہم اور مفید شمار کی جاتی ہے کیوں کہ اس سے انسانی جگر اور پٹھوں کے کام کرنے کی صلاحیت اور ان کی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے.. اور جسم کو نامیاتی زہر اور چربی سے چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ہَم اِس مبارک مہینے میں رُوٹِین کے مطابق صبح یا شام میں ورزش کریں تو آپ دیکھیں گے آپ کتنے صحت مند اور زندگی سے بھرپور نظر آئیں گے۔ ورزش نہ صرف آپ کو تندرست رہنے میں مدد کرتی ہے بلکہ آپ زیادہ وقت تک اپنے آپ کو چست محسوس کرتے ہیں اور زندگی کے تمام اہم امور خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں۔

 

چلیں آج ہم آپ کو رمضان میں ورزش کے چند بہترین فوائد بتاتے ہیں جو آپ کو اور بھی توانا اور جواں رہنے میں بھرپور مدد فراہم کریں گے۔

 

بہت سے ڈاکٹرز اور ہیلتھ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کے ورزش ایک مکمل معمول ہے اِسے اگر کسی مہینے ترک کر دیا جائے تو یہ آپ کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اسی لئے یہ بات بہت ضروری ہے کے ہم اپنی ورزش کی روٹین کو رمضان کی وجہ سے ختم ناں کریں بلکہ ایک نئے جذبے کے تحت زیادہ بہتر انداز سے تیار ہو کر روزانہ ورزش کرنی چاہیے تاکہ ہم جو نتائج حاصل کَرنا چاہتے ہیں وہ نتائج ہمیں حاصل ہو سکیں۔

 

رمضان میں ورزش کس حد تک

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم رمضان میں اپنی ورزش کے اوقات نارمل رکھیں۔ ورزش نہ بہت زیادہ کریں اور نہ ہی بہت کم کہ ورزش کا مقصد ہی فوت ہو جائے۔

 

بیماری کی حالت میں ورزش سے پرہیز ضروری ہے

ہیلتھ ایکسپرٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جوش میں آ کر آپ کوئی بیوقوفی بھی نہ کریں۔ جیسا کے دیکھا گیا ہے کے کچھ لوگ کسی کام کو سَر پر سوار کر لیتے ہیں اور بعض اوقات نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ اگر کسی دن آپ کی طبیعت نا ساز ہے اور آپ کمزوری محسوس کر رہے ہوں تو یہ ضروری ہے کہ اس دن ورزش نہ کی جائے بلکہ جسم کو آرام دینے میں زیادہ افادیت ہے۔

 

شوگر کے مریضوں کو ہدایت

جن حضرات کی بلڈ شوگر لیول زیادہ ہے اور وہ بہت جلدی تھک جاتے ہیں اور ان کا سانس بھی پھول جاتا ہے تو اُنہیں چاہیے کے آرام آرام سے روزانہ تیس منٹ تک پیدل چلنا ان کے لئے زیادہ مفید رہے گا۔

 

بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے ہدایت

اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضا لاحق ہے تو آپ کو بھی چاہیے روزانہ تیس منٹ تک آہستہ آہستہ پیدل چلیں۔ اِس سے آپ صحت مند اور توانا رہیں گے اور آپ کا روزہ بھی اچھے طریقے سے گزر جائے گا۔

 

رمضان میں ورزش کا وقت

ڈاکٹروں اور ماہرین کے مطابق رمضان المبارک میں افطار سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے کا وقت ورزش کے لیے بہترین ہے۔ یہ ورزش معتدل فضا میں ہونی چاہیے تاکہ جسم کو سیال اور نمکیات کے نقصان کی وجہ سے تھکاوٹ نہ ہو۔ افطار سے قبل ورزش کرنے سے دورانِ خون بھی سرگرم ہو جاتا ہے۔

 

افطار کے بعد ورزش کا بہترین وقت تقریبا دو گھنٹے بعد ہے۔ اس طرح روزے دار مختلف ورزشیں کر سکتا ہے جو چکنائی کو جلانے کا عمل تیز کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔