رمضان میں صحت کیسے برقرار رکھیں؟

ماہ رمضان شروع ہوتے ہی اچانک سے رہن سہن میں تبدیلی آتی ہے جس کے ساتھ ہم آہنگی بنانے میں بیشتر لوگوں کو عدم آگاہی کے باعث مشکل پیش آتی ہے۔ اسی حوالے سے ذیل میں کچھ مشورے دیئے گئے ہیں جو آپ کے لئے فائدہ مند ہوں گے۔

پانی

گرمیوں کے مہینے میں روزے رکھنے کے لئے سب سے ضروری چیز پانی ہے، یعنی جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے جسم کا 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور جسم میں پانی کی کمی سے مختلف تکالیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن (پیٹ کے امراض یعنی دست، پیچش وغیرہ) سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ روزے دار افطار کے بعد صبح سحری کھانے تک 8 گلاس پانی ضرور پیئں۔ جسم کی آبیدگی کے لئے مختلف جوسز اور دہی کا بھی استعمال کریں۔

کھجور

سحر و افطار میں کھجور ضرور کھائیے۔ یہ بہترین پھل بڑی تعداد میں کاربوہائیڈریٹ، ریشہ (فائبر)، شکر اور پوٹاشیم رکھتا ہے۔ چنانچہ روزے کے طویل دور میں جسم کو اس پھل سے مسلسل توانائی ملتی رہتی ہے۔ کھجور کا استعمال بھوک ختم کرنے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔اس میں چکنائی موجود نہیں ہوتی اور نہ کولیسٹرول ملتا ہے۔ کھجور میگنیشیم اور وٹامن بی۔6 کا بھی عمدہ ذریعہ ہے۔ افطاری میں کھجوریں کھائی جائیں تو انسان بسیار خوری سے بچ سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ چند کھجوریں کھا کر ہی پیٹ بھر جاتا ہے۔

سحری

افطاری کے ساتھ سحری بھی نہایت ضروری ہے کیوں کہ سحری شوگر اور توانائی کی سطح بڑھا کر جسم کو طویل روزہ رکھنے کے لئے تیار کرتی ہے۔اچھی سحری کھانے سے آپ سستی، بھوک، سر میں درد اور بے چنی جیسے مسائل سے دوچار نہیں ہوں گے۔ سحری کی بہترین خوراک یہ ہے۔ ایک گلاس دودھ، ایک روٹی، دلیہ، پھل (سیب، کیلا، تربوز، کھجور) اور پانی وغیرہ۔

افطار

اب یہ رواج بن چکا ہے کہ افطاری کے موقعے پر پکوڑے، سموسے، کچوریاں، چپس وغیرہ ضرور موجود ہوں اور لوگوں کی اکثریت انہیں کھا کر ہی روزہ افطار کرتی ہے، یہ مضر صحت رواج ہے۔

تب پچھلے پندرہ گھنٹے سے جسم حالتِ آرام میں ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں پیٹ سکڑ جاتا ہے اور آنتیں بھی متحرک نہیں رہتیں۔ ایسی حالت میں نہایت ضروی ہے کہ ٹھوس غذا رفتہ رفتہ نظام ہضم میں داخل کی جائے۔ اگر افطاری میں انسان پیٹ سموسوں، پکوڑوں وغیرہ سے بھر لے تو نہ صرف نظام ہضم خراب ہوسکتا ہے بلکہ گردوں جیسے اہم اعضا کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح افطار کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے چند کھجوریں کھائیے پھر دو گلاس پانی نوش کریں اور بہت زیادہ میٹھے سے اجتناب کریں۔ روزے میں قبض اور گیس کی شکایت عام ہے۔ خاص طور پر سحر و افطار میں مرغن اور تلے ہوئے کھانے کھانے سے مسئلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنی غذا میں فائبر کا استعمال بڑھائیے- ایسی غذا کھائیں جو فائبر(ریشوں) سے بھرپور ہو۔ تازہ پھلوں کی فروٹ چاٹ اور سبزیوں کا استعمال آپ کو تندرست اور توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان سادہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے جسمانی طور پر ماہ رمضان کو بہت اچھے طریقے سے گزارا جا سکتا ہے۔