لیلۃ الجائزہ  ۔ انعام ملنے والی رات

رمضان کا ایک ایسا عمل جس سے اکثر لوگ غافل اور بے فکر نظر آتے ہیں عید الفطرکی شب ھے جو کہ عبادت کی رات ھے۔ عید کی تیاریوں کے نام پر بکثرت لوگ شاپنگ مال اور مارکیٹس میں یہ عظیم اور بابرکت رات گنوادیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ وقت کا ضیاع ہوتا ھے بلکہ بد نظری کی لعنت کی وجہ سے رمضان المبارک میں محنت سے کمایا ہوا سارا نور اور اجر بھی ضائع ہو جاتا ھے اور خواتین تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ جاتی ہیں کہ مہندی لگوانے اور چوڑیاں چڑھوانے کے لئے اپنے ہاتھ لوگوں کو تھما دیتی ہیں اور خریداری کے نام پر غیر محرموں سے اختلاط اس قدر زیادہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالی کے غضب کو سر عام للکار رہی ہوتی ہیں۔ حالآنکہ یہی تو وہ رات ہے جس میں تمام رمضان بھر کے اعمال کی مزدوری دی جاتی ہے، اجر و ثواب کے خزانے اور مغفرت و رحمت کی بیش بہا دولت بکھیری جاتی ہے۔ کس قدر محرومی اور خسارے کی بات ہے کہ سارے دن کام کرنے کے بعد شام کو جب مالک کی جانب سے اجرت ملنے کا وقت ہو تو انسان اُس سے اعراض کرتے ہوئے رو گردانی کرکے بیٹھ جائے۔

اِس لئے اِس رات کی قدر دانی کرتے ہوئےاِس شب کو قیمتی بنانا چاہیئے اور اُس اجر و ثواب کے حصول کے لئے مُشتاق ہونا چاہیئے

جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو دیا جاتا ہے ۔

شبِ عید کے فضائل

1 . …پہلی فضیلت

:عید الفطر کی رات انعام والی رات ہے :

رمضان المُبارک کے اختتام پر آنے والی شب یعنی عید الفطر کی رات یہ ایک بابرکت رات ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ملنے والی رات ہے ، چنانچہ حدیث میں اس کو ”لیلۃ الجائزہ“ یعنی انعام ملنے والی رات کہا گیا ہے ، اِس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رات میں بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے۔

::شعب الایمان: 3421)

 

2…دوسری فضیلت :

عید الفطر کی رات میں عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا :

حضرت ابوامامہ ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : جس عیدین (عید الفطر اور عید الاضحی)کی دونوں راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔

(ابن ماجہ:1782)

(طبرانی اوسط:159)

3 …تیسری فضیلت

:عید الفطر کی شب عبادت کرنے والے کے لئے جنت کا واجب ہونا:

حضرت معاذ بن جبل﷜سے مَروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں:

: جو چار راتوں کو عبادت کے ذریعہ زندہ کرےاُس کے لئے جنّت واجب ہوجاتی ہے : لیلۃ الترویۃ یعنی آٹھ ذی الحجہ کی رات، عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کی رات ، لیلۃ النحر یعنی دس ذی الحجہ کی رات اور لیلۃ الفطر یعنی عید الفطر کی شب ۔

(أخرجہ ابن عساکر فی تاریخہ :43/93)

4 ..چوتھی فضیلت

:عید الفطر کی شب میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی:

حضرت عبد اللہ بن عمر﷠سے موقوفاً مروی ہے کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعاء کو ردّ نہیں کیا جاتا : جمعہ کی شب ، رجب کی پہلی شب ، شعبان کی پندرہویں شب ، اور دونوں عیدوں(یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی راتیں۔

لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ اس رات بے مقصد گھومنے پِھرنے اور گناہ کے کاموں میں گزارنے کی بجائے نوافل، نمازِ تہجّد، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات میں مشغول رہیں تاکہ اس کی برکات حاصل کر سکیں۔