وقت کی قدر

"احمد بیٹا! اب بس کرو، کمپیوٹر بند کرو اور پڑھائی شروع کرو۔” احمد کی ماما اسے کب سے یہی بات کہہ رہی تھیں لیکن اس پر کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا اور وہ کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے میں مگن تھا جو کہ اس نے انٹرنیٹ سےڈائون لوڈ کیے تھے۔ احمد کی ماما کو بے حد پچھتاوا ہو رہا تھا کہ انہوں نے احمد کی ضد مان کر اور اس کے پاپا سے ڈانٹ سننے کے باوجود بھی احمد کو انٹرنیٹ لگوا دیا تھا۔ اب احمد ہر وقت انٹرنیٹ سے گیم ڈائون لوڈ کرنے میں مگن رہتا، یا اپنی اسمارٹ واچ کا استعمال کرتا رہتا تھا، اب اسے ان گیمز کو کھیلنے کے علاوہ کسی اور چیز کا ہوش نہیں تھا۔ اسکول سے آکر وہ یونیفارم اتارے بغیر ہی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ جاتا اور پھر ا سے کسی چیز کی خبر نہ ہوتی۔ اس کی ماما اسے آوازیں دیتی رہ جاتیں لیکن اس پر ان آوازوں کا بھی کچھ اثر نہ ہوتا۔ وہ کمپیوٹر تب ہی بند کرتا جب بجلی چلی جاتی اور جب بجلی جاتی تو وہ باہر کرکٹ کھیلنے نکل جاتا یا دوبارہ اپنی اسمارٹ واچ کو استعمال کرنے لگتا۔

احمد کو اپنی پڑھائی کی ذرا سی بھی فکر نہیں تھی۔ وہ ہوم ورک بھی صبح اسکول جانے سے پہلے جلدی جلدی کرتا۔ اکثر تو اس کا ہوم ورک بھی رہ جاتا اور وہ اسکول سے ڈانٹ کھاتا لیکن پتا نہیں کیوں وہ پھر بھی سبق حاصل نہ کرتا۔ احمد کے فرسٹ ٹرم کے امتحانات قریب آرہے تھے اور اس کی کوئی تیاری نہ تھی۔ جس دن احمد پہلا پیپر دینے گیا، اس دن سے لے کر آخری دن تک احمد کا ایک بھی پیپر اچھا نہ ہوا۔

جس دن رزلٹ آیا، اس دن احمد روتا ہوا گھر آیا۔ جب اس کی ماما نے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ فیل ہوگیا ہے۔ اس کی ماما نے اسے وہ دن یاد دلائے جب وہ اسے پڑھائی کا کہتی تھیں اور وہ ان کی ایک نہ سنتا تھا اور کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر دن رات اپنا وقت برباد کرتا تھا۔ احمد کو بہت پچھتاوا ہوا، اس نے توبہ کرلی کے وہ آئندہ کمپیوٹر یا اسمارٹ واچ کا استعمال نہیں کرے گا، انٹرنیٹ کا کنکشن ہٹا دے گا اور اپنی پڑھائی کی طرف زیادہ توجہ دے گا، تاکہ جو نقصان پڑھائی میں ہو چکا تھا، وہ اس کا ازالہ کر سکے۔ ساتھ ہی اس نے دل میں عہد کر لیا تھا کہ اب وہ وقت کی قدر کرے گا۔