والدین کی فرمانبرداری

راجو اور ماریہ کے ابو پہلے تو بہت چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے، لیکن پھر ملازمت ملنے کے بعد وہ شہرآگئے اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگے۔ راجو اور ماریہ شہر میں ہی پیدا ہوئے تھےاور شہر کے اچھے اسکول میں پڑھتے تھے۔ اب کی بار جب گرمی کی چھٹیاں ہوئیں تو انہوں نے اپنے گاؤں جانے کی ضد کی۔ ابو مان گئے اور گاؤں آگئے۔ جہاں راجو اور ماریہ کے چچا، چچی، دادا، دادی، ماموں، ممانی اور کزن وغیرہ رہتے تھے۔ یہاں دونوں بچے رشتے داروں کے ساتھ اچھا وقت گذار رہے تھے۔ ایک دن دوپہر کو راجو کو کچھ بیزاری محسوس ہوئی تو اس نے اپنے چچا زاد بھائی یعقوب سے کہاں، ’’یعقوب! کیوں نہ ہم دونوں پاس والی ندی میں نہانے جائیں؟‘‘یعقوب راجو کی بات فوراً مان گیا لیکن ماریہ ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔ اس نے جاکر ابو سے شکایت کی۔ ابو آئے اور ان دونوں کو سمجھایا۔

’’میرے بچوں! تمہں وہاں نہیں جانا چاہیے۔ اس وقت بارش ہو رہی ہے اس لیے ندی میں پانی بہت تیز ہو گا۔ تیراکی کے لیے یہ وقت مناسب نہیں، خاص طور پر جب کوئی بڑا تمہارا ساتھ نہیں۔‘‘

’’ابو! ہم لوگوں کو کچھ نہیں ہوگا۔ ہم کنارے پر ہی نہائیں گے۔ آپ بے فکر ہو جائیں۔‘‘ راجو نے ابو کو اطمینان دلانے کی کوشش کی۔ ’’پھر بھی میرے بچوں! میری بات مانو۔ شام کا وقت ہے اور ندی کا راستہ بھی سنسان ہوتا ہے۔ تم لوگوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ فی الحال گھر پر ہی کھیل لو۔‘‘ ابو نے کہا توراجو اور یعقوب نے لٹکتے چہرے کے ساتھ ایک ساتھ ’’جی‘‘  کہا۔ ابّو چلے گئے، اور ماریہ بھی یعقوب کی بہن رانیہ کے کمرے میں گڑیا سے کھیلنے چلی گئی۔ راجوبولا، ’’یعقوب، ماریہ اور ابو چلے گئے، اب ہم بھی چلتے ہیں۔‘‘ ابو کے جانے کے بعد راجو کی نیت بدل گئی۔’’نہیں راجو!چچا جان ہمیں منع کر کے گئے ہیں ناں، ان کی نافرمانی کرنا ٹھیک نہیں۔ ہم گھر پر ہی کھیل سکتے ہیں۔‘‘یعقوب نے کہا۔ ’’نہیں یعقوب! ہمیں ندی میں نہانے جانا چاہیے، ویسے بھی گرمی بہت ہے۔‘‘راجو نے ضد کی۔ پھر بھی یعقوب نہ مانا تو راجو اصرار کرنے لگا۔ راجو کے پرزور اصرار پر یعقوب نے اس کے ساتھ ندی پر جانے کی حامی بھرلی۔ وہ پیدل ندی پر چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر ندی میں نہانے لگے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے چہرے پر پانی مارنے لگے۔ وہ پانی میں ہنس کھیل رہے تھے کہ اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ طوفان آنے والا ہے۔ تیز ہواؤں کے باعث ندی میں تیزتیز اور بڑی بڑی لہریں اٹھنے لگیں۔ پانی سے نکلنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک تیز لہر آئی اور ان دونوں کوہہا لے جانے لگی۔ وہ مدد کے لیے چیخنے لگے۔ قریب کے کھیت میں ایک کسان موجود تھا۔ اس نے جب بچوں کی چیخیں سنیں تو فوراً ندی کے کنارے پہنچ گیا۔ کسان نے دور سے ہی دیکھ لیا کہ دو بچے گہرے پانی میں ڈوب رہے تھے۔ اس نے جلدی سے ندی میں چھلانگ لگائی اور مہارت سے تیرتے ہوئے دونوں بچوں کو کنارے کی جانب گھسیٹنے لگا۔ جب تک وہ کنارے پر پہنچا کئی دوسرے گالؤں والے وہاں پہنچ چکے تھے۔ دونوں بچوں کو جب ہسپتال پہنچایا گیا تب تک وہ بالکل بے دم ہو چکے تھے۔ راجو اور یعقوب کے والدین رشتے داروں سمیت گاؤں کا بچہ بچہ ان کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔ صحیح وقت پر ہسپتال پہنچ جانے کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی بچ گئی مگر دونوں پراس حادثے کا گہرا اثر ہوا تھا۔ پھر ہاتھ اور پاؤں پر لگنے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے اب وہ آسانی سے چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ دیکھا دوستوں! نافرمانی کتنی بری بات ہے۔ جو اپنے بڑوں کی بات نہیں مانتا، نقصان اس کا منتظر ہوتا ہے، ہمیں اپنے بڑوں کی بات کو دھیان سے سننا چاہیٗے اور ان کی ہدایت پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ والدین کی فرماں برداری کرنے والے بچوں پر سب کو فخر محسوس ہوتا ہے۔