شیخ چلی کا پلنگ

روبینہ ناز

ایک گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ اس کا ایک کام چور بیٹا تھا، شیخی بگھارنے میں بہت ماہرتھا، اس کو شیخ چلی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ گڑیا محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ بھرتی تھی۔ ایک دن بڑھیا بیمار ہو گئی۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا رات کو ماں بیٹا دونوں نے فاقہ کیا۔ اگلے دن ماں نے کہا۔”اب تم کچھ کام کرو، جنگل سے لکڑیاں ہی لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزرا وقا ت ہو سکے۔ ”

شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی۔ جو درخت اس کے راستے میں آتا، وہ اس سے پوچھتا۔”میں تجھے کاٹ لو یا نہیں۔ ” کسی درخت نے بھی اس کا جواب نہ دیا۔ شام ہونے کو تھی شیخ چلی گھر واپس آنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک اور درخت نظر آیا اس نے پاس جا کر پوچھا۔ "میں تجھے کاٹ لوں؟”

درخت بولا۔ "ہاں کاٹ لے مگر ایک نصیحت کرتا ہوں۔ میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور بادشاہ کے دربار میں لے جانا، اگر بادشاہ اس کی قیمت پوچھے تو کہنا کہ پہلے ایک دو راتیں اس پر سوئے پھر اگر مناسب سمجھے تو خریدے۔ ”

شیخ چلی نے درخت کی ہدایت کے مطابق اس سے لکڑیاں کاٹ کر پلنگ تیار کیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے قیمت پوچھی تو شیخ چلی نے کہا۔”پہلے آپ اس کو ایک دو رات استعمال کریں اگر اس میں کوئی خوبی پائیں تو انعام کے طور پر جو دل چاہے دے دیں۔” بادشاہ بہت حیران ہوا اور شیخ چلی کے کہنے پر نوکروں کو حکم دیا کہ آج یہی پلنگ میرے کمرے میں پہنچایا جائے۔ جب رات کو بادشاہ پلنگ پر سویا تو آدھی رات کو پلنگ کا ایک پایہ بولا۔ "آج بادشاہ کی جان خطرے میں ہے۔” دوسرے نے کہا۔”وہ کیسے؟” تیسرا بولا۔”بادشاہ کےجوتے میں کالا سانپ تھا۔ ” چوتھے نے کہا۔ ” بادشاہ کو چاہیے کہ صبح جوتے کو اچھی طرح جھاڑ کر پہنے۔”

دوسری راجہ بادشاہ سویا تو پھر پایوں نے باتیں شروع کیں۔ ایک بولا کہ تم پلنگ کو سنبھالے رکھو۔ میں کچھ خبریں جمع کرلوں۔ تینوں پایوں نے پلنگ کو تھامے رکھا۔ جب چوتھا واپس آیا تو اس نے خبر سنائی کے بادشاہ کا وزیر سازش کر کے بادشاہ کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ پھر دوسرا پایا گیا اور خبر لایا کے بادشاہ کی بیوی وزیر سے مل کر بادشاہ کو زہر دینا چاہتی ہے تیسرا پائے نے تجویز پیش کی کہ بادشاہ کو چاہیے کہ وزیر کو مروا دے۔ چوتھا پایا گیا اور یہ خبر لایا کہ بادشاہ کوجو دودھ صبح پینے کو دیا جائے گا اس میں زہر ہوگا۔

بادشاہ یہ سب کچھ سن رہا تھا۔ صبح اٹھ کر جب اسے دودھ دیا گیا تو اس نے نہ پیا بلکہ ایک کتے کو پلا دیا۔ کتا اسے پیتے ہی مر گیا اس کا وزیر اور بیوی دونوں مل کر اس کی زندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے وزیر کو مروا دیا اور اپنی بیوی کو محل سے نکال دیا۔ بادشاہ نے شیخ چلی کو بلایا اور بہت انعام دیا۔ شیخ چلی اب مالدار ہو گیا اور لوگ ایسے شیخ چلی کے بجائے شیخ صاحب کہنے لگے۔ بادشاہ کے دربار میں اس کی عزت ہونے لگی اور دونوں ماں بیٹا بڑے آرام کی زندگی بسر کرنے لگے۔