شرارت کی سزا

سُنبل تصور ہاشمی

عمیر اور ناصر بہت اچھے دوست تھے، وہ دونوں دوست بھی تھے اور آپس میں کزن بھی تھے۔ ناصر ایک بہت سمجھدار اور لائق بچہ تھا، جبکہ عمیر ایک شرارتی اور بدتمیز بچہ تھا۔ اسی اختلاف کی وجہ سے ناصر اور عمیر کی دوستی کم ہونا شروع ہو چکی تھی۔ عمیر ناصر سے چڑنے لگا تھا۔ ایک تو ناصر امیر تھا اور دوسرا وہ لائق بھی بہت تھا۔ جس کی وجہ سے عمیر کے گھر والے ہر وقت ناصر کی مثالیں دے کر عمیر کو نصیحت کرتے رہتے۔  جس سے عمیر تنگ آچکا تھا۔

آج اسکول سے واپسی پر ناصر عمیر سے بولا، "عمیر کیا تم نے کل والا ٹیسٹ یاد کیا ہے۔ ”

ارے ہاں! کل تو ریاضی کا ٹیسٹ ہے۔ ناصر میں تو ٹیسٹ کے بارے میں بھول ہی چکا تھا۔ عمیر نے پریشانی سے ناصر کو بتایا۔

"عمیر تمہیں پتہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ میڈم نے ہمیں پانچ دن پہلے ہی بتا دیا تھا۔ خیر کوئی بات نہیں تم میرے گھر آ جانا میں تمہیں یاد کروا دوں گا۔”  ناصر نے دوستی کے ناطے ہمدردی سے عمیر کو کہا مگر عمیر کو ناصر کی بات پر بہت غصہ آیا کیونکہ عمیر سمجھتا تھا کہ ناصر اسے کمتر سمجھتا ہے، اسی لئے وہ اسے یاد کروانے کو کہہ رہا ہے۔ عمیر نے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ کل اسکول نہیں جائے گا۔ بلکہ ناصر کو بھی جانے سے روکے گا۔ اگلے دن عمیر، ناصر کے گھر گیا تو ناصر اسکول جا چکا تھا۔ تب ہی عمیر کے دل میں ایک شرارت آئی اور وہ اسکول چل دیا۔ عمیر زور زور سے اسکول کے دروازے پر دستک دینے لگا۔ عمیر نے سر پر بہت بڑی ٹوپی پہن لی تھی اور آنکھوں پر چشمہ لگا لیا تھا تاکہ چپڑاسی عمیر کو پہچان نہ لے۔ چپڑاسی بھاگتا ہوا آیا اور بولا، "اے لڑکے کیا بات ہے؟”  دیکھیں انکل! ناصر کو جلدی سے باہر بلا دیں مجھے اس سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ عمیر نے گھبرائے ہوئے لہجے میں چپڑاسی کو کہا، "دیکھو بیٹا مجھے کام بتاؤ میں ناصر کو بتا دوں گا۔ کیونکہ آج ایک بہت ضروری ٹیسٹ ہے۔ اس لیے بچوں کو باہر آنے کی اجازت نہیں ہے۔” چپڑاسی، عمیر کو گھبرائے ہوئے دیکھ کر پریشانی سے بولا۔ "انکل پلیز ناصر کو بتائیے گا کہ اس کی مما کی طبیعت بہت خراب ہے۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ اس لیے ناصر کے گھر والے انہیں جزل ہاسپیٹل لے کر گئے ہیں۔ ناصر کے پاپا نے ہی مجھے بھیجا تھا کہ میں جلدی سے ناصر کو لے کر آئوں۔ عمیر نے ایک ہی سانس میں چپڑاسی کو ساری بات بتائی۔”

"ارے بیٹا یہ تو واقعی بہت دکھ کی بات ہے۔ ناصر بہت لائق بچہ ہے، میں ابھی اسے بھجو اتا ہوں تم یہیں ٹھہرنا، ناصر کو ساتھ لے کر جانا۔” چپڑاسی یہ بات سن کر بہت گھبرا گیا اور فورا ناصر کو اطلاع پہنچائی۔ ناصر جلدی سے باہر آیا پر اسے باہر کوئی نظر نہ آیا۔ انکل آپ کو میری مما کے بارے میں کس نے بتایا یہاں تو کوئی نہیں ہے؟  ناصر نے پریشانی سے پوچھا۔ "ناصر بیٹا ایک لڑکا آیا تھا۔ شاید وہ چلا گیا ہے۔ پربیٹا تم جائو تمہاری مما کو تمہارے والد صاحب سپتال لے کر گئے ہیں۔” چپڑاسی نے گیٹ کے ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا۔ "ٹھیک ہے انکل میں جاتا ہوں، آپ میری مما کے لیے دعا کیجئے گا۔ یہ کہہ کر ناصر اسپتال چل دیا۔ ناصر بہت گھبرایا ہوا اسپتال پہنچا تھا۔ ناصر نے تقریبا پندرہ منٹ میں سارا اسپتال چھان مارا، پر اسے کوئی نہ ملا۔ تھک ہار کا ناصر گھر چل دیا۔

عمیر کب سے ناصر کے گھر کے باہر ناصر کا انتظار کر رہا تھا۔ عمیر بس ناصر کو اس حالت میں دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ ایک دم ناصر گھبرایا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ ناصر بیٹا تم، تم اتنی جلدی کیوں آگئے؟ آج تو تمہارا پیپر تھا ناں! شہزاد صاحب حیرانی سے ناصر کو دیکھتے ہوئے بولے۔”وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔  پاپا مما کو کیا ہوا ہے۔” ناصر نے شہزاد صاحب کی بات نظر انداز کر کے پوچھا۔ ارے بیٹا کیا ہوا ہے تمہاری مما کو کچھ بھی تو نہیں۔ ہاں وہ کل تھوڑا سا بخار تھا جو اتر چکا ہے۔ شہزاد صاحب ناصر کو بتانے لگے۔  ناصر بیٹا تم آ گئے۔ ناصر کی آواز سن کر روبینہ بیگم باہر آ کر بولیں۔ ناصر مما کو دیکھتے ہی ان کے گلے لگ گیا۔ ناصر نے جب گھر والوں کو ساری بات بتائی تو سب بہت پریشان ہوئے۔ "ناصر! تم بھی اتنی جلدی گھبرا جاتے ہو۔” تب ہی عمیر جو سارا منظر بہت مزے سے دیکھ رہا تھا، ناصر کے پاس آکر ہمدردی سے بولا، "ارے دوست بھول جائو، شاید کسی نے مذاق کیا ہوگا۔”

” پرعمیر آج بہت خاص ٹیسٹ تھا مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے کہ میں ٹیسٹ یاد کر کے بھی نہ دے سکا۔”

چلو کوئی بات نہیں، میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں چلو کرکٹ کھیلنے چليں۔” عمیر نے معصومیت سے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔ ایک دم فون کی بیل سنائی دی، فون کی بیل بجنے پر شہزاد صاحب نے ریسیور اٹھایا اور بولے،”ہیلو! جی جی اصغر بھائی کیسے ہیں آپ۔” عمیر نے اپنے پاپا کا نام سنا تو وہیں ٹھہر گیا۔ وہ شاید عمیر کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ” جی عمیر یہاں پر ہی ہے۔ کیا کہا؟ ٹھیک ہے میں عمیر کو لے کر آتا ہوں۔” فون بند ہوتے ہی عمیر بولا۔ "شہزاد چاچو کیا ہوا؟ پاپا کیا کہہ رہے تھے؟”

"بیٹا وہ تمہاری مما سیڑھیوں سے گر گئیں ہیں، تمہارے پاپا انہیں اسپتال لے گئے ہیں۔ آئو بیٹا جلدی چليں۔ ایک دم عمیر کو لگا جیسے چاچو اس سے مذاق کر رہے ہیں۔ جیسے عمیر نے ناصر سے مذاق کیا تھا۔ لیکن پھر وہ چاچو کے ساتھ چل دیا۔ عمیر کی مما کی طبیعت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ہمیں جب تک پیسے نہ مليں گے ہم علاج شروع نہ کریں گے۔ شہزاد صاحب نے پہنچتے ہی علاج کے لیے پیسے دیے اور عمیر کی ماما کا علاج شروع ہوگیا۔ عمیر کے آنسو تھم نہیں رہے تھے اور وہ اپنے خدا سے معافی مانگنے جا رہا تھا۔ تبھی عمیر  نے دیکھا کہ ناصر اپنے پاپا کے گلے لگ کر بہت رو رہا تھا اور عمیر کی مما کے لیے دعا کر رہا ہے۔ عمیر بہت شرمسار تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسے اس کی شرارت کی سزا ملی ہے۔ آخر عمیر کی دعا قبول ہوگی اور اس کی ماما ٹھیک ہوگئیں۔ عمیر نے اپنے رب سے وعدہ کیا کہ آج کے بعد وہ کبھی کسی سے کوئی شرارت نہیں کرے گا اور پڑھے گا بھی دل لگا کر۔

بچو! عمیر کو ایک واقعے کے ذریعے یہ احساس ہو گیا کہ اس نے جو کیا وہ غلط تھا۔ ہمیں بھی کسی سے بدتمیزی یا شرارت نہیں کرنی چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں چھوٹی سی شرارت کی کوئی بڑی سزا مل جائے۔