رحمدلی

’’رفعت!کیسی صفائی کی ہے یہ تم نے؟ ایسا لگ رہا ہے کہ صفائی کی ہی نہیں گئی۔‘‘ بیگم شازیہ ملازمہ پربرس رہی تھیں۔ یوں تو وہ روز ہی کام ٹھیک سے کرنے کے لئے سختی کیا کرتی تھیں، مگر کسی بات پر پریشان ہو کر آج ان کا سارا غصہ ملازمہ پر نکل آیا تھا۔ آج جتنی دیرملازمہ کام کرتی رہی وہ اس کو مسلسل کچھ نہ کچھ کہتی رہیں۔ انہیں کبھی کبھی ہی ملازمہ کی صفائی پسند آتی تھی۔ وہ دل میں یہ طے کئے بیٹھی تھیں کہ صحیح کام کروانے کے لیے ملازمین پرسختی ضروری تھی۔ ’’ارے یہ تم نے کیا کیا؟ اٹھاؤ اپنے بچے کو۔ دیکھو اس نے میرا صوفہ خراب کردیا۔‘‘ رفعت ایک دم لرزکررہ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔  دراصل اپنے چار سالہ بیٹے کو آج اپنے ساتھ لائی تھی اور بچے نے صوفے پر بوتل اورپانی گرادیا تھا۔ ’’امی جان کیا ہوا؟ پانی ہی تو ہے، کچھ دیر میں سوکھ جائے گا، کوئی بات نہیں۔‘‘ تیرہ سالہ حنا اپنی پڑھائی چھوڑ کر کمرے سے باہر آئی اوررفعت کو ڈرا سہما کھڑا دیکھ کر بولی۔’’ جاؤ تم اپنی پڑھائی کرو اس بارے میں بولنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ بیگم صاحبہ نے حساس دل حنا کو بھی کھری کھری سنا دیں۔ رفعت نے آنسو پونچھ کر بچے کو اٹھا لیا اورباہرکی جانب جانے لگی۔ ’’سنوبی بی! آج کچن کی صفائی کر دینا اچھے طریقے سے، رمضان کا چاند نظر آگیا ہے تو پھر وقت نہیں ملے گا مجھے۔‘‘ بیگم صاحبہ رفعت کوحکم دے کر کمرے میں چلی گئیں۔ حنا کو یوں کسی کا دل دکھانا، کسی کی بےعزتی کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ اپنی امی کے کمرے میں پہنچی اور بولی،

امی!آپ کو رمضان میں وقت کیوں نہیں ملے گا؟‘‘

امی بولیں، ’’کیونکہ میں عبادت میں مصروف رہوں گی۔‘‘

حنا بولی،’’امی! کل ہماری مس عارفہ کہہ رہی تھیں کہ رمضان ہمیں صرف عبادت کا سبق ہی نہیں دیتا بلکہ یہ تو رحمدلی، محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا مہینہ ہے۔ یوں توہمیشہ ہی سب کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے مگر ماہ رمضان خاص طور پر اچھے کاموں کی تربیت کے لیے ایک شاندار موقع ہے۔‘‘

’’ہمیں اپنے گھروالوں کے علاوہ، ملازمین اورآس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ رحمدلی کا سلوک کرنا چاہیئے۔ سب کی عزت کرنا ہی اسلام کی تعلیم ہے۔ چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، امیرہویا غریب۔۔۔۔ محبت اور رحمدلی کا سلوک یکساں ہونا چاہئے اورپھررمضان کے بابرکت مہینے میں تو ہمیں اپنا رویہ مزید بہتر بنانا چاہیئے۔‘‘

امی حنا کی بات دھیان سے سن رہی تھیں، انہیں احساس ہوا کہ ان کی بیٹی ان سے کہیں زیادہ ذہین، حساس اور رحم دل ہے۔ وہ توخود کوبرتر سمجھ کر دوسروں کے ساتھ من پسند سلوک کرتی رہتی تھیں مگر حنا کی نظر میں ’’حقوق العباد‘‘ کی اہمیت زیادہ تھی۔ یوں تو بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں مگر شاید اب انہیں خود اپنی ننھی بیٹی کی نیکی سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی اور اس میں برائی بھی کیا ہے؟ اچھی بات تو کوئی بھی بتا سکتا ہے سمجھا سکتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھاتے ہیں اور کبھی بچے اپنے معصوم اور سادہ سی بات سے نیکی کی تلقین کر جاتے ہیں امی کو حنا کی بات اچھی لگی تھی، انہوں نے کہا،’’حنا بیٹی! آپ ٹھیک کہہ رہی ہو، میں نے ملازمین کے ساتھ جو رویہ رکھا، وہ ٹھیک نہیں تھا۔ ہمیں کسی کے ساتھ ایسا برتائو نہیں کرنا چاہیے جواس کا دل دکھانے کا سبب بنے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مجھے ظلم کرنے سے بچا لیا۔‘‘ حنا، امی کی بات سن کر مسکرانے لگ گئی اور اپنی پیاری امی جان کے گلے لگ گئی۔ وہ جانتی تھی اس کی امی جان کبھی کبھی غصہ میں سختی کردیا کرتی تھیں مگر دل سے بے حد نرم اور ہمدرد تھیں۔

دوستو! آپ بھی رمضان کے بابرکت مہینے میں یہ طرزعمل اپنانے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی آپ کے سامنے کسی کے ساتھ برا رویہ اختیار کرے تو کوشش کیجئے کہ آپ اسے نیکی اور رحمدلی کا سبق دیں، کیونکہ نیکی کی ہدایت کرنا نیکی ہے۔