رحیم دادا کی چھڑی

ننھے ببلو کی شرارتوں سے سب ہی تنگ تھے۔ ابا میاں کتنی مرتبہ اس کی حرکتوں پراسے سزا دے چکے تھے لیکن وہ سدھرتا ہی نہیں تھا۔ جب گھر والے اس کی شرارتوں سے عاجز آ جاتے تو اسے سزا ملتی تو وہ اپنی پھوپھی اماں کے گھر بھاگ آتا جو ان کے محلے سے تھوڑی ہی دور رہا کرتی تھیں۔ پھر جب بھی پھوپھی اماں کے پڑوسی اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر اس کے ابامیاں سے رابطہ کرتے تو یہ واپس اپنے گھر چلا جاتا۔ ہر کوئی اس سے تنگ تھا۔

رحیم دادا پھوپھی اماں کے گھر کی طرف رہا کرتے تھےاور ایک اچھے، نیک انسان تھے۔ بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ اولاد کوئی تھی نہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ دار، نماز سے فارغ ہو کروہ بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے اور ایک چھوٹی سی کٹیا میں عبادت کرنے میں مشغول رہتے۔ کسی کو ان سے شکایت نہیں تھی۔ اگر بستی میں کبھی کسی کو کوئی مسئلہ ہوتا تورحیم دادا ہر طرح ان کی مدد کرتے، کبھی کوئی بیمار ہوتا ہر طرح سے اس کا خیال کرتے وہ کبھی کوئی فالتو بات نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی کا دل دکھاتے تھے۔

رحیم دادا اکثر اپنے ساتھ چھڑی رکھتے تھے۔ ایک دن ببلو سیرسپاٹے کرتا رحیم داد کی کٹیا کے پاس سے گزرا، اس نے وضو کا لوٹا جو صحن میں رکھے دیکھا تو اسے شرارت سوجھی۔ اس نے جلد سے وہ لوٹا جنگل میں چھپایا اورآرام سے وہاں سے چلتا بنا۔ جب نماز کا وقت ہوا اور رحیم دادا اپنا لوٹا اٹھانے گئےتو وہ وہاں نہیں تھا۔ نماز کو دیر ہو رہی تھی انہوں نے چھڑی سے کہا جس کی بھی یہ شرارت ہے اسے فوراً لے کر آلو۔

ببلو آم کے باغ میں آم کھانے میں مصروف تھا تب ایک چھڑی نے آکر اسے مارنا شروع کر دیا۔ اب تو ببلو جتنا بچتا چھڑی اتنا ہی اسے مارتی۔ مارتے مارتے چھڑی، ببلو کو رحیم داداکےسامنے لے آئی۔  رحیم دادا نے کہا ہمارا لوٹا دے دو۔  ببلو نے فوراً جنگل سے لوٹا لادیا۔ نماز کے بعد رحیم دادا مسکرانے لگے اور ببلو معافی مانگنے لگا کہنے لگا، آپ بہت بڑے جادوگر ہیں مجھے معاف کردیں آئندہ میں آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔

رحیم دادا کہنے لگے، ’’بیٹا میں جادوگر نہیں بلکہ ایک عام انسان ہوں۔ جیسے تم ہو، ہاں یہ فرق ہے کہ میں تمہاری طرح شرارتی نہیں۔‘‘

ببلو کہنے لگا پھر تو آپ کے پاس جادو کی چھڑی کہاں سے آئی؟ میں تو باغ میں تھا اور چھڑی نے مجھے ڈھونڈ لیا۔ دادا نے کہا ، ’’نیک کام کرنے والے کسی سے خوف زدہ نہیں ہوتے اور اپنی طاقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔ یہ چھڑی ایک تحفہ ہے، جو مجھے ایک رحمدل پری نے تحفے میں دی تھی۔ میں اسے عام طور پر استعمال نہیں کرتا، لیکن آج تمہیں یہ سمجھانا ضروری تھا کہ صرف دوسروں کو تنگ کرنے میں ہی مزا نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کرنے میں بھی نہایت دلچسپ کام ہے۔‘‘

ببلوکہنے لگا مجھے اس شرارت کے لئے کافی سزا مل گئی ہے آپ مجھے جانے دیں آئندہ آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔ رحیم دادا کہنے لگے’’ ایک شرط پر آج تمہیں یہاں سے جانے دوں گا کہ آئندہ تم کسی کو پریشان نہیں کرو گے اورروزانہ میرے پاس پڑھنے آؤ گے، ورنہ تم جہاں بھی ہوگے میری چھڑی تمہیں میرے پاس لے آئے گی۔ ’’ببلونے وعدہ کر لیا۔ آہستہ آہستہ ببلوکو اندازہ ہواکہ واقعی شرارت کے علاوہ اچھا بچہ بننے میں بھی مزہ ہے اور پھر وہ ایک بہت اچھا اور سب کی مدد کرنے والا بچہ بن گیا بالکل ویسے ہی جیسے رحیم داد اس کی مدد کرتے تھے۔

دوستو! کیا آپ بھی ببلومیاں کی طرح شرارتیں کرتے ہیں؟ ہمارا مشورہ ہے اچھے بچے بن جائیں، زندگی میں خوشی بھر جائے گی!