پُراسرار کمرہ

فریال، ایمان، سمیع اور شایان سمیت ہم سب چھت پر جمع ہو چکے تھے۔ سردی کا موسم عروج پر تھا اور چھت پر چلنے والی ٹھنڈی ہوا سردیوں کے نغمے گنگنا رہی تھی۔ ساتھ ہی سردیوں کی بھرپور تیاریاں گھر میں بھی چل رہی تھیں۔ سویٹر، کمبل نکالے جارہے تھے، بڑی بڑی گرم شالیں خریدی جاچکی تھیں۔ دن کے وقت تو دھوپ نکلی ہوتی، مگر جیسے ہی سورج غروب ہوتا اور اندھیرا چھانے لگتا ویسے ہی ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی۔

ہم سب چھت  پر جمع ہو چکے تھے۔  لکڑیوں کی مدد سے ہم نے آگ جلائی ہوئی تھی اور اس کے ارد گرد ہم سب گول دائرہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔

"سردیاں شروع ہونے والی ہیں۔ کتنا مزا آئے گا۔” شایان خوشی کے مارے بولا۔ "ہاں۔ پورا سال ہم سردیوں کا انتظار کرتے ہیں۔ مزہ تو آئے گا ہی۔” فریال نے کہا۔

"بھئی میں تو شام کے وقت جب تیز ہوا چلے گی تب باہر کرکٹ کھیلنے جائوں گا۔” سمیع نے کہا۔

"اتنی سردی میں؟” ہم نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔

"ہاں تو کیا ہوا؟” سمیع بے فکری سے کہنے لگا۔

"اپنے ساتھ بخار کی ایک گولی بھی رکھ لینا تاکہ جب تم کرکٹ کھیل کر آئو تو فورا کھا لو۔ کیونکہ اتنی سردی میں کھیلنے سے کم ازکم بخار تو ہو ہی جائے گا تمہیں۔” ایمان نے کہا۔

ابھی ہم لوگ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہماری نظر ہمارے محلے کے خالی میدان پر پڑی اور ہم چونک گئے۔ یہ میدان ہمارے گھر کی چھت سے صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس میں ہر طرف جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں۔ کوئی گھر نہیں تھا، کوئی رہتا نہیں تھا۔ ہم یہ دیکھ کر چونک گئے کہ وہاں جو ایک ٹوٹا پھوٹا سا کمرہ تھا، اس میں کوئی آگ جلا کر بیٹھا تھا۔  جو بیٹھا تھا وہ تو واضح طور پر نظر نہیں آرہا تھا پر ہم سمجھ گئے کہ ہونہ وہاں آسیب کا بسیرا ہے۔ ہماری بات بھی معقول تھی کیوںکہ ہم نے پہلے کسی کو کبھی یہاں آگ جلائے بیٹھے نہیں دیکھا تھا۔ پھر یہ انجان مخلوق کون تھی؟ جہاں تک ہمیں یاد تھا۔ آج سے ساتھ آٹھ سال پہلے اس ٹوٹے پھوٹے سے کمرے میں چوکیدار چاچا رہا کرتے تھے مگر وہ وہاں سے جا چکے تھے، اب تو دوسرے چوکیدار پہرا دیتے تھے، جن کا کمرا ہمارے محلے کے گیٹ کے پاس بنا ہوا تھا، پھر آخر اس پرانے کمرے میں کون تھا؟ ہم لوگ سہمے ہوئے تھے۔

"آخر وہ پراسرار بھوت کہاں سے آیا ہے؟” شایان نے پوچھا۔

"ہمیں پتا لگانا ہوگا۔” سمیع نے کہا۔

"پاگل ہو گئے ہو کیا۔ اس پراسرار بھوت نے ہمیں مار دیا تو؟”  ہم نے فکر مندی سے کہا۔ ” کچھ نہیں ہوگا ہم لہسن اور ہری مرچ کے ہار لے کر جائیں گے۔ سنا ہے بھوت پریت ان سے ڈرتے ہیں۔” ایمان نے کہا۔ ” ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ سب بے کار باتیں ہیں۔” ہم نے کہا۔ "لیکن سچائی کا پتہ لگانے کے لیے وہاں جانا تو پڑے گا نا؟ شایان نے کہا۔ "سچائی کا پتا لگانے کے لیے جان خطرے میں پڑ جائے گی۔” فریال نے کہا۔

” مگر ہمیں ہمت سے کام لینا ہوگا۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ شایان نے کہا۔

ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہماری نظر دوبارہ میدان کی طرف گئی اور ہم دوبارہ چونک گئے۔ وہاں اب آگ نہیں جل رہی تھی اور کوئی موجود بھی نہیں تھا۔ وہ بھوت وہاں سے چلا گیا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ہمیں اس پر اسرار کمرے کی طرف جانے کا اور زیادہ تجسس ہوا کہ آخر دیکھیں تو بھوت کیسا ہے، کیا کرتا ہے، البتہ ہم ڈرے ہوئے ضرور تھے، یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا، ہم ایک بھوت کا سامنا کرنے جا رہے تھے۔

اگلی شام ہم سب نے اپنی شاليں اوڑھیں اور باہر میدان کی طرف بڑھنے لگے۔ اندھیرا ابھی تک نہیں پھیلا تھا۔ اتنی روشنی تھی کہ ہم راستہ دیکھ سکیں، پھر بھی ہم اپنے ساتھ ٹارچ لے کر گئے تھے۔  خیر، ہم ٹارچ جلا کر شاليں لپیٹ کر ٹھنڈی ہوا میں میدان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اب تک وہاں کوئی آگ نہیں جل رہی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ سہمے ہوئے دلوں کے ساتھ قدم بڑھا ہی رہے تھے کہ کسی نے سمیع کی شال پیچھے سے پکڑلی۔ سمیع نے بنا پیچھے مڑے شال کھینچی مگر وہ ناکام رہا۔ اس لمحے بھوت کے تصور سے ہی ہمارے طوطے اڑ گئے اور ہم تھرتھر کانپنے لگے۔

"بھوت۔۔۔” سمیع بمشکل یہی الفاظ بول پایا۔ ہمارے پیروں سے تو زمین ہی نکل گئی۔ ہم کلمہ پڑھتے ہوئے پیچھے مڑے تو دیکھا کہ سمیع کی شال جھاڑیوں میں اٹکی ہوئی تھی۔ ہم نے لاکھ لاکھ شکر ادا کیا خیر ہم سمیع کی شال جھاڑیوں سے نکال کر اس کمرے کی طرف بڑھنے لگے۔

اب جب ہم نے کمرے کی طرف نظر ڈالی تو وہاں آگ جلی ہوئی نظر آئی۔ ہم خوف سے تھر تھر کانپنے لگے کہ ابھی تو یہاں کوئی آگ نہیں جل رہی تھی۔ اب اچانک آگ کیسے جل گئی۔ مگر بھوت کو دیکھنے کا تجسس ہمیں آگے پڑھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ آخر کار ہم کمرے کے باہر رک گئے۔

"میں تو ابھی بھی کہہ رہا ہوں۔ گھر چلتے ہیں ورنہ مارے جائیں گے۔” شایان نے کہا۔

"اچھا؟ بھوت سے ملنے کا سب سے زیادہ تجسس تمہیں ہی تھا۔ اب کیا ہوا؟ ہم اتنی دور کمرے تک آ ہی گئے ہیں تو اب واپس نہیں جائیں گے۔”  ہم نے ٹھان لی۔

اب شام سے رات ہو رہی تھی۔ اندھیرا ہمارے دلوں میں چھپے خوف کو اور زیادہ بڑھا رہا تھا۔ حالاںکہ ہم اپنے گھر سے کچھ زیادہ دور نہیں تھے، ابھی بھی ہمیں اپنا گھر نظر آرہا تھا مگر میدان سے گھر پہنچنے میں وقت تو لگتا تھا۔ لہذا ہم اس وجہ سے بھی کچھ فکر مند تھے کہ اگر بھوت ہمیں مارنے کے لیے بڑھا تو فورا ہم گھر بھی نہیں پہنچ سکتے۔

مگر نجانے ہم وہاں کیوں رکے ہوئے تھے۔  یہ تجسس بھی عجیب چیز ہے، کبھی کبھی انسان کی جان بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے، جیسے آج ہماری جان خطرے میں پڑی ہوئی تھی، مگر اس کے باوجود ہم وہاں رُکے تھے۔ ہم نے اللہ کا نام لے کر دروازے کو دھکا دیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ ہماری آنکھیں تو بند تھیں، مگر آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ سامنے سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔ ہم نے ہمت کرکے اپنی آنکھیں آہستہ آہستہ کھولیں تو اندر ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے کہ یہ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

"اماں جی! آپ یہاں پر کیسے؟ آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا؟” ہم نے پوچھا۔ "ہاں بیٹا میں ایک ہفتے سے یہاں رہ رہی ہوں۔ ” اماں جی نے کہا۔

"ہم تو سمجھے کہ یہاں آسیب کا بسیرا ہے۔ ہم اپنی چھت سے آگ کو بار بار جلتے اور بہجھتے دیکھتے تھے تو ہمیں لگا یہاں پر بھوت پریت رہتے ہیں۔” ہم نے کہا ۔ "بیٹا اندر آجائو۔ آگ  کے قریب بیٹھ جائو۔ باہر بہت ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔” اماں جی نے کہا۔

ان کے کہنے پر ہم آگ کے پاس بیٹھ گئے۔

"اماں جی آپ فکر نہ کریں ہم روز آپ کے لئے کھانا لایا کریں گے۔ یہاں اس کمرے میں اب کوئی نہیں رہتا۔ ہم اپنے امی ابو سے کہیں گے کہ وہ ہمارے محلے کے سیکریڑی سے بات کریں تاکہ وہ آپ کو یہ کمرہ مستقل رہنے کے لیے دے دیں۔ اب آپ کو کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب محلے والے آپ کا مل کر خیال رکھیں گے۔” ہم نے کہا۔

یہ سن کر اماں جی بہت خوش ہوئیں اور ہمیں دعائیں دینے لگیں۔

"بہت شکریہ بچوں۔” انہوں نے کہا۔ پھر ہم اللہ حافظ کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔ اگلے دن ہم نے اپنے امی ابو سے بات کی اور اماں جی کو وہ کمرہ مستقل طور پر مل گیا۔ ہم روز ان کو کھانا دینے جانے لگے۔ ہمارے محلے والے بھی ان کا خیال رکھنے لگے۔ اس سے ہم سب کو ان کی ڈھیر ساری دعائیں ملیں جو یقیناً ہمارے لئے قیمتی تھیں۔

دوستو! آپ بھی اپنے ارد گرد نظر ڈالیں، اگر کوئی ضرورت مند بزرگ شخص ایسا ہے جسے آپ کی مدد کی ضرورت ہے تو اپنے والدین کی اجازت کے ساتھ ان کی مدد ضرور کیجیئے ،یہ ایک بہت ہی نیک کام ہے۔