پیپر بوائے

تحریر: مختار احمد (اسلام آباد)

رات کافی ہو گئی تھی- کمرے میں گرمی بہت زیادہ تھی- ذیشان کو صبح اسکول جانا تھا، اس لیے وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا مگر گرمی کی وجہ سے اسے نیند ہی نہیں آ رہی تھی- چھت پر لگا پنکھا بھی گرم ہوا پھینک رہا تھا- اس کی چھوٹی بہن شائستہ  شائد کھیل کود کی وجہ سے تھک گئی تھی، وہ گرمی کے باوجود بے خبر سو رہی تھی- اس کی امی اور ابّا کی چارپائیاں خالی پڑی تھیں- وہ صحن میں تخت پر بیٹھے ہاتھ سے جھلنے والے پنکھے لے کر بیٹھے تھے- کمرے کی بڑی سی کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور اس میں سے ان کے ہلکے ہلکے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں-

اس کے کانوں میں ابّا کی آواز آئ- "ذیشان  کی ماں-  حالات بہت مشکل ہوگئے ہیں- مزدوری کبھی ملتی ہے کبھی نہیں- مجھ سے دو دو بچوں کی پڑھائی کا بوجھ  اب نہیں اٹھایا جاتا- میں سوچ رہا ہوں کہ ہم  شائستہ کو گھر بٹھا لیں- اس کا نام  اسکول سے  کٹوا لیں-  اسے کون سا نوکری کرنا ہے- شادی کے بعد یہ تو اپنے گھر کی ہوجائے گی-  دونوں  ہی بچے اب اگلی جماعتوں میں چلے گئے ہیں- نئی کاپیاں کتابیں، اگلی جماعت کی داخلہ فیس ،  پھر گرمیوں کی دو مہینے کی فیسیں، میں نے حساب لگایا تھا، کھینچ تان کر  تین چار  ہزار کا خرچہ  تو ہے ہی-  ان ساری چیزوں کے لیے ہمارے پاس صرف  مہینہ بھر  کا ٹائم ہے- اتنی جلدی اتنے پیسوں کا انتظام کیسے ہوگا؟ دو دنوں سے مجھے کام بھی نہیں ملا ہے- خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑتا ہے-”

ذیشان یہ سن کر بھونچکا رہ گیا اور  پریشانی کے عالم میں بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا- دوسرے ہی لمحے اس کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں آئ- "گزارہ تو واقعی بہت مشکل سے ہو رہا ہے- مگر ہمارے دونوں بچے پڑھنے میں بہت تیز ہیں اور دونوں کو ہی تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے-  میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر ہم شائستہ کو پڑھنے سے اٹھا لیں گے  تو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟ اس کی ساری سہیلیاں جب اسکول جایا کریں گی تو وہ تو  رنجیدہ ہوجایا کرے گی-”

"یہ تو ہے-” اس کے ابّا نے بڑے دکھ سے کہا- "اس کی دوسری صورت یہ ہو سکتی  ہے کہ شائستہ پڑھتی رہے، ذیشان کو  پڑھائی سے اٹھا  لیتے ہیں اور میں اسے اپنے ساتھ کام پر لے جانے لگوں- مگر پھر یہ بھی ہے کہ  اس کی  زندگی  بھی  میری طرح دوسروں کے گھروں میں رنگ روغن  کرتے ہی گزرے گی-”

"الله بڑا کار ساز ہے- اس کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئے گا- تم فکر مت کرو- میں اپنے بھائی سے قرضہ لینے کی کوشش کروں گی- حالات اچھے ہونے پر لوٹا دیں گے-” ذیشان  کی ماں نے کہا-

"تمھارے بھائی کے اپنے بکھیڑے کون  سے  کم ہیں، اس کے پاس اتنے پیسے کہاں ہونگے- پھر میں دوسروں کو تکلیف دینے کے میں حق میں نہیں ہوں- جیسے تیسے گزر رہی ہے گزار لو-  بات تو اپنے تک ہی ہے- دوسروں کو پتہ چلے گا  تو اس میں ہماری بے عزتی  ہوگی- ہم کسی سے آنکھ ملا کر بات بھی نہیں کرسکیں گے- پھر یہ بھی تو دیکھو  جیسے جیسے یہ لوگ اگلی جماعتوں میں جائیں گے، اخراجات بھی  بڑھتے ہی جائیں گے-  ہم کس کس سے قرض لیں گے-” ذیشان نے اپنے باپ کو کہتے سنا-

اس کے بعد وہ دونوں  خاموش ہوگئے- ذیشان کو اب گرمی کا بالکل احساس نہیں ہو رہا تھا- ماں باپ کی باتوں نے اسے بے حد پریشان کر دیا تھا- وہ بستر پر لیٹا سوچتا رہا، سوچتا رہا- اس کے ذہن میں رہ  رہ کر باپ کا فقرہ گونج رہا تھا "ہم شائستہ کو گھر بٹھا لیں- اس کا نام  اسکول سے کٹوا لیں-”  پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی-  اس نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا- تھوڑی دیر بعد اسے نیند نے آ لیا-

اگلے روز وہ اسکول سے آیا تو اس کی ماں  دھلے ہوۓ  کپڑے الگنی پر  سکھانے  کے لیے ڈال رہی تھی- شائستہ اندر گھر میں تھی- وہ ماں کے پاس کھڑا ہوگیا- "امی- ویسے تو دوسروں کی باتیں سننا بری بات ہے- مگر رات میں نے ابّا جان  اور آپ کی باتیں سن لی تھیں-”

اس کی ماں لمحہ بھر کو تو ہکا بکا رہ گئی پھر شائستہ کی گیلی فراک کا پانی جھٹک کر اسے رسی پر ڈالتے ہوۓ بولی- "گھروں میں لاکھ پریشانیاں ہوتی ہیں-  ایسی باتیں تو میاں بیوی کرتے ہی رہتے ہیں- ان پر پریشان نہیں ہونا چاہیے- بس الله سے دعا کرنا چاہیے-”

"مجھے پتہ ہے کہ ابّا جان گھر چلانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں- مہنگائی ہی اتنی ہوگئی ہے کہ گزارہ بہت مشکل ہوگیا ہے- بہرحال کچھ بھی ہو- میں کبھی یہ نہیں چاہوں گا کہ شائستہ کو اسکول سے اٹھایا جائے- آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم کتنا ضروری ہے- آپ نے بھی تو  دس  کلاسیں پڑھ رکھی ہیں- میں دیکھتا ہوں کہ آپ بہت عقلمندی اور سمجھداری سے گھر کے معاملات  چلاتی ہیں اور ہماری تربیت کرتی ہیں- آپ ہی نے تو کہہ کہہ کر ہمیں پڑھنے کی طرف راغب کیا تھا، ورنہ میرا تو دل چاہتا تھا کہ ہر وقت گلی کے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا رہوں-  اس میں آپ کی تعلیم کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو آپ نے شادی سے پہلے حاصل کی تھی- لڑکوں کی تعلیم روزی کمانے کے لیے اور لڑکیوں کی تعلیم ایک اچھا خاندان بنانے کے  کام آتی ہے-”

اس کی امی ہنس پڑیں اور اس کے سر پر ہلکی سی چپت مار کر  بولیں- "چلو اب چل کر کھانا کھا لو،  زیادہ عقل نہ بگھارو- تم ہو تو اتنے سے مگر باتیں کیسی کرتے ہو-”

"میں اس گھر کا بڑا لڑکا ہوں اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شائستہ اپنی تعلیم جاری رکھے گی- آپ کو  شائد پتہ  نہ ہو مگر  امی ہم میں سے اکثر لڑکے اپنے ماں باپ کے ڈر سے پڑھتے ہیں، انھیں خود سے کوئی شوق نہیں ہوتا-  مگر لڑکیاں اپنے شوق اور محنت  سے پڑھتی ہیں- جب ہی تو ہر سال نتیجہ آنے پر  وہ  لڑکوں سے بازی لے جاتی ہیں- ہمیں ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنا چاہیے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کو ہر قسم کی سہولیات بھی فراہم کرنا  چاہیں-”

"مجھے خوشی ہے کہ تم ایک حساس لڑکے ہو اور اپنی بہن سے اتنی محبّت کرتے ہو-” اس کی ماں نے خالی بالٹی اٹھاتے ہوۓ کہا-

"اور یہ محبّت صرف میں ہی نہیں کرتا-” ذیشان نے شوخی سے کہا- "وہ بھی مجھ سے بہت محبّت کرتی ہے- میں نے سوچ لیا ہے، چاہے میری پڑھائی چھوٹ جائے، شائستہ اپنی تعلیم جاری رکھے گی-”

"اچھا خاموش رہو- یہ تمھارے سوچنے کی باتیں نہیں ہیں-” اس کی ماں نے ایک پیار بھری  ڈانٹ  سے  کہا- "اب یہ بستہ رکھ کر گھر کے کپڑو پہنو- میں کھانا نکالتی ہوں-”

بظاہر تو اس کی ماں مطمئین نظر آتی تھی مگر اندر سے وہ بھی  بہت پریشان تھی- اس کا شوہر ایک محنتی آدمی  تھا، روز صبح سویرے کام ڈھونڈنے کے لیے نکل جاتا،  وہ گھروں میں کھڑکی، دروازوں اور دیواروں پر  رنگ کرنے کا کام کرتا تھا مگر یہ  ہوائی روزی تھی، کبھی ملی کبھی نہ ملی- ان کا خرچہ بہت مشکل سے چلتا تھا- وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ اس کا شوہر جو کچھ بھی کما کر لائے، وہ اسے نہایت عقلمندی اور کفایت شعاری سے خرچ کرے- اپنی کئی ضروریات کو ایک طرف رکھ کر، وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ذیشان اور شائستہ  کی تعلیم پر ہونے والے اخراجات بچا کر رکھے تاکہ وہ دونوں بے فکری سے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں- مگر اب حالات ایسے ہوگئے تھے کہ ان میں سے ایک کو  اسکول سے اٹھا کر گھر میں بٹھانے کی نوبت آگئی تھی-

دو تین روز گزرے تھے کہ اسے احساس ہوا کہ ذیشان زیادہ تر گھر سے باہر رہنے لگا ہے- ایک عجیب بات اس نے یہ بھی دیکھی کہ وہ فجر کی نماز کے بعد اپنی سائیکل لے کر گھر سے نکل جاتا اور اسکول جانے کے ٹائم سے دس پندرہ منٹ پہلے گھر آتا- جانے سائیکل پر کہاں گھومتا پھرتا تھا-  یہ سائیکل اس کے باپ کو ایک بھلے آدمی نے دی تھی جس کے گھر پر وہ  رنگ روغن کا کام کر رہا تھا- اس   آدمی کا بیٹا بڑا ہوگیا تھا اور کالج جانے لگا تھا- کام کے دوران اسے پتہ چل گیا تھا  کہ گھر پر رنگ کرنے والے کاری گر   کا ایک بارہ چوده سال کا بیٹا بھی ہے جس کا نام  ذیشان  ہے اور وہ  آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہے، اس لیے اس  آدمی نے یہ سائیکل ذیشان کے باپ کو دے دی تھی- ذیشان کا باپ اسے اٹھا کر گھر لے آیا- سائیکل پا کر ذیشان بہت خوش تھا- وہ اس سائیکل پر اسکول بھی جانے لگا-

ذیشان کی ماں نے ذیشان  کی ان حرکتوں سے  یہ  اندازہ لگایا کہ وہ بہن کی محبّت سے مجبور ہو کر یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اسے پڑھنے لکھنے سے دلچسپی نہیں ہے، اس لیے اس کے بجائے شائستہ کی تعلیم جاری رکھی جائے- شائستہ ان تمام باتوں سے بے خبر تھی اور اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ مالی پریشانیوں کی وجہ سے گھر میں کتنا بڑا مسلہ پیدا ہوگیا ہے- وہ اسی شوق سے اسکول جاتی تھی جیسا کہ پہلے جاتی تھی-

ایک روز جب سورج غروب  ہونے کے بعد ذیشان  گھر آیا تو اس کی ماں سے چپ نہ رہا گیا- "ذیشان میں بہت دنوں سے تمھاری حرکتیں نوٹ کر رہی ہوں-” اس نے قدرے خفگی سے کہا- "تم نے گھر سے باہر رہنا شروع کردیا ہے- تم یہ ظاہر کر رہے ہو جیسے تمہیں پڑھائی سے دلچسپی نہیں رہی ہے- مجھے پتہ ہے کہ یہ سب کچھ تم شائستہ کی خاطر کر رہے ہو تاکہ تمھارے ابّا اسے اسکول سے نہ اٹھائیں بلکہ تمہیں گھر بٹھا لیں-”

ذیشان نے اپنی امی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور ان کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا- اس کی ماں  دل مسوس کر رہ  گئی-

گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے اسکول بند ہونے والے تھے- اس  لیے اسکول والوں نے  دس پندرہ دن  پہلے شائستہ اور دوسرے تمام بچوں سے  کہہ دیا تھا  کہ وہ نیا کورس لے کر آجائیں تاکہ انھیں چھٹیوں کا  کام دیا سکے- جن بچوں نے اگلی جماعت کے داخلے کی رقم اور گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس جمع نہیں کروائی تھی، انھیں  خاص طور سے یہ تاکید کی گئی تھی کہ وہ دو دن کے اندر اندر  رقم جمع کروادیں ورنہ ان کا نام اسکول سے خارج کردیا جائے گا-

شائستہ نے یہ خبر اپنی امی کو دی جسے سن کر وہ پریشان ہوگئیں، مگر انہوں نے اپنی پریشانی شائستہ پر ظاہر نہ ہونے دی- وہ یہ ہی سوچ رہی تھیں کہ اب کیا کیا جائے- شائستہ کو اپنی نئی کتابوں کے آنے  کی بہت خوشی تھی، وہ اسی خوشی میں مگن ہو کر گھر کے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے لگی-

شام کو جب ان  کا باپ گھر آیا تو ذیشان کی ماں نے شائستہ والی  بات اسے سنائی- وہ خاموشی سے سنتا رہا پھر کوئی جواب دیے بغیر ہاتھ منہ دھونے لگا- ذیشان  کی ماں نے صحن میں بچھی  چار پائی پر دستر خوان  بچھا کر اس کا کھانا لگایا- وہ کچھ سوچتے ہوۓ دھیرے دھیرے کھانا کھاتا رہا- کھانے کے بعد اس کی بیوی برتن اٹھانے لگی تو وہ اداسی سے بولا- "ذیشان کی ماں- میری ہمت نہیں ہو رہی کہ شائستہ سے کیسے کہوں کہ اب ہم اسے آگے  پڑھانے کے قابل نہیں ہیں-”

"ذیشان بھی بہت پریشان ہے- وہ چاہتا ہے کہ اس کی پڑھائی چھوٹے تو چھوٹ جائے، شائستہ پڑھتی رہے- میں کئی دنوں سے دیکھ رہی ہوں- وہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اسے پڑھنے سے دلچسپی نہیں ہے- اس نے گھر سے بہت زیادہ باہر رہنا شروع کردیا ہے- دوپہر کو اسکول سے آنے کے بعد بھی کہیں نکل جاتا ہے اور سورج غروب ہونے کے بعد واپس آتا ہے-” ماں نے اداسی سے کہا- "جانے ہمارے حالات کب بدلیں گے-”

ابھی اس کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ صحن کا دروازہ کھلا اور ذیشان اپنی سائیکل سمیت اندر داخل ہوا- ماں باپ کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی-

"کہاں گئے تھے؟ کھانا نکالوں؟” اس کی ماں نے پوچھا-

"ہاں امی- بہت زوروں کی بھوک لگ رہی ہے-” یہ کہہ کر وہ سائیکل کو دیوار سے ٹکا کر گھر کے اندر چلا گیا اور اپنے صندوق میں سے کوئی چیز نکالنے لگا- اس کی ماں  باورچی خانے میں اس کا کھانا نکال رہی تھی کہ ذیشان اس کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا- اس کے چہرے پر  عجیب سی خوشی کے تاثرات تھے- اس نے اپنی جیب سے روپوں کی ایک گڈی نکال کر  اپنی  ماں  کو دی-

روپے دیکھ کر اس کی ماں حیرت سے گنگ رہ گئی- اس نے انھیں ہاتھ نہیں لگایا اور سختی سے بولی- "یہ تمھارے پاس کہاں سے آئے- کس نے دیے ہیں تمہیں؟”

"ان پیسوں کو میں نے کمایا ہے-” ذیشان نے بڑے فخر سے سینہ تان کر کہا- "میں ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ شائستہ کی پڑھائی چھوٹے- میرے ایک دوست کے ابّا اخباروں کے ایجنٹ ہیں- انھیں کسی ایسے لڑکے کی تلاش تھی  جو صبح ہی صبح ان کے گاہکوں کے گھروں پر اخبار ڈال سکے- میں نے اس کام کی حامی بھر لی- ہمارے شہر میں دوپہر کے اخبارات بھی نکلتے ہیں- میں ان اخباروں کو بازار کی  دکانوں اور بسوں میں بھی بیچنے لگا ہوں- ایک اخبار بیچنے پر ایک روپیہ کمیشن ملتا ہے- میں تقریباً ایک ماہ سے یہ کام کر رہا ہوں اور اس کام سے میں نے اتنے سارے پیسے جمع کر لیے ہیں- میں اب بڑا ہوگیا ہوں- لڑکے بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کا سہارا بنتے ہیں- میں بھی بن گیا ہوں- اب آپ کو کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں-”

اس کی ماں  نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چمچہ ہانڈی میں چھوڑا اور ذیشان کو گلے سے لگا کر جو زور زور سے روئی ہے تو اس کا  شوہر اور شائستہ گھبرا کر وہاں آگئے- ذیشان کے ہاتھوں میں اتنے سارے روپے دیکھ کر وہ دونوں حیرت  اور پریشانی سے اسے دیکھنے لگے-

تھوڑی دیر بعد ذیشان کی  ماں  کی حالت سنبھل گئی اور اس نے پوری کہانی اپنے شوہر کو سنا دی- اس کے شوہر نے بھی ذیشان کو گلے سے لگا لیا اور بولا- "بیٹا ذیشان- میں تم سے بہت خوش ہوں- تم نے ایک بہت بڑا کام کیا ہے- اپنے فیصلے سے میرا خود کا ضمیر بھی  مطمئن نہیں ہو رہا تھا اور میں بہت پریشان تھا- تم نے مجھے ایک بہت بڑی پریشانی سے نجات دلا دی ہے- مجھے فخر ہے کہ تم نے اپنے ماں باپ کی مجبوریاں سمجھیں اور اپنی  ذہانت اور محنت سے انھیں حل کرنے کی کوشش کی- اس میں تمھاری ماں کی تربیت کا بھی بہت بڑا حصہ ہے-”

شائستہ بولی- "بھائی- تم تو بہت اچھے ہو- میں اور امی تو سمجھتے تھے کہ تم سائیکل پر آوارہ گردی کرتے پھرتے ہو- ہمیں کیا پتہ تھا کہ تم اتنے محنتی اور ذمہ دار ہو اور پیسے کمانے جاتے ہو-”

"مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنی امی ابّا کا مشکل وقت میں ساتھ دیا-  اخبار بیچنے کے  کام کی وجہ سے میری پڑھائی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑرہا ہے- میں باقائدگی سے اسکول بھی جاتا ہوں اور رات دیر تک گھر میں  پڑھتا بھی ہوں- مجھے پیپر بوائے بن جانے کی بہت خوشی ہے- جب میں بلند آواز سے کہتا ہوں- "آج کا تازہ اخبار-آج کا تازہ اخبار” تو لوگ خوشی خوشی مجھ سے اخبار خریدتے ہیں-”

اس کے ابّا گلو گیر آواز میں بولے- "ہمارے دونوں بچے بہت اچھے اور تعلیم سے شوق رکھنے والے ہیں- کاش میں اس قابل ہوتا کہ انہیں پڑھنے کے علاوہ کوئی اور فکر نہیں ہوتی-”

"اس کی فکر تو آپ بالکل بھی نہ کریں-” ذیشان نے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا- "زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں- اس مشکل وقت کو اپنی ہمت سے آسان بنایا جا سکتا ہے- میرا اخبار بیچنے کا کام چل نکلا ہے- اب اگر آپ کو کسی روز مزدوری نہ بھی ملے تو پرواہ نہیں- الله نے چاہا تو ہمارے پاس تھوڑے عرصے میں ہی اتنے پیسے  ہوجائیں گے کہ ان سے  بسوں کے اڈے پر اپنا اخباروں، رسالوں اور کتابوں کا اسٹال کھول لیں گے- اس اسٹال پر ابّا جان آپ ٹھاٹ سے بیٹھئے گا- شائستہ اور میری پڑھائی بھی جاری رہے گی- ایک روز ہم بھی ایک بڑے آدمی بنیں گے- میں نے کئی مشہور لوگوں کے بارے میں پڑھا ہے کہ شروع شروع میں وہ بہت غریب تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی اور پھر وہ اتنے کامیاب ہوۓ کہ دنیا انھیں اب تک یاد رکھے ہوۓ ہے-”

اس کی ماں نے اسے  گھسیٹ کر اپنے گلے سے لگا لیا اور بولی- "آج میں بہت خوش ہوں-  الله کا شکر ہے کہ میری ایک بہت بڑی پریشانی ختم ہو گئی ہے- جیتے رہو ذیشان بیٹا!”