خزانے کا نقشہ

احمد ایک ذہین بچہ تھا، لیکن وہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ ہر وقت کھیل کود میں لگا رہتا تھا اور یہ ہی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز کھیل کود کے دوران اسے پھولوں کی کیاری سے ایک مڑا تڑا سا کاغذ ملا۔ اس نے کاغذ کو کھولا تو وہ ایک نقشہ تھا۔ وہ کسی خزانے کا نقشہ لگتا تھا جو باغ کے کونے میں دفن تھا۔ یہ دیکھ کر احمد کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور وہ سب دوپہر میں بڑوں کے سونے کے بعد گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے ساتھ زمین کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ جلد ہی ان کے ہاتھ کوئی سخت چیز آئی۔ انہوں نے مٹی ہٹا کر دیکھا تو وہ ایک صندوق تھا۔ احمد نے آگے بڑھ کر صندوق کھولا تو اندر سے ایک خوبصورت سا رنگین کاغذ نکلا، اس پر لکھا تھا:’’علم حاصل کرو علم سے زیادہ قیمتی خزانہ کوئی نہیں‘‘۔

احمد یہ پڑھ کر بہت شرمندہ ہوا، وہ تھوڑی دیر کے لئے بھول گیا تھا کہ اصلی خزانہ ہیرے جواہرات نہیں بلکہ علم ہے۔احمد نے اسی وقت یہ عہد کیا کہ آئندہ وہ دل لگا کر پڑھے گا۔

ایک راز کی بات بتاؤں؟ احمد کو آج تک یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ وہ صندوق خود اس کے ابو نے وہاں دبایا تھا اور وہ نقشے والا کاغذ بھی انہوں نے کیاری میں پھینکا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ احمد یہ سمجھ جائے کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت علم ہے جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ جس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ بلکہ یہ تو ایسا خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ تو دوستو! کیا آپ اس خزانے کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں؟