جھوٹ مت بولنا

کسی گاؤں میں تین دوست ’’سعد‘‘’’عمران‘‘ اور ’’پرویز‘‘ رہتے تھے۔ تینوں مل کر اسکول جاتے تھے اور شام کو ایک ساتھ کھیلتے تھے میٹرک کے بعد تینوں نے کالج میں داخلہ نہیں لیا، کیونکہ ان کے قصبے میں کوئی کالج نہیں تھا، دوسری طرف انہیں اپنے گھر والوں کی کفالت بھی کرنی تھی، لہذا ان تینوں نے اپنے لئے نوکری کی تلاش شروع کردی۔

سعد اور عمران کو کسی اسٹور میں کام مل گیا جبکہ پرویز کو فیکٹری میں نوکری مل گئی۔ تینوں دوست پڑھائی چھوڑ کر اپنے اپنے کاموں کی طرف توجہ دینے لگے۔ صبح سے شام تک تینوں کام میں مصروف رہتے اور چھٹی کے بعد تینوں مل کر سیر کو جاتے یا پھر مل بیٹھ کر خوب باتیں کرتے، چائے پیتے، تینوں میں بہت اتفاق تھا۔ ان تینوں دوستوں میں بہت سی عادتیں مشترکہ تھیں، مگر صرف پرویز تھا، جسے جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ وہ باتوں باتوں میں جھوٹ بول دیا کرتا تھا، عمران اور سعد اسے بہت منع کیا کرتے تھے مگر وہ باز نہیں آتا تھا۔ وہ مذاق میں بھی اکثر جھوٹ بول دیا کرتا تھا، عمران اور سعد کو جھوٹ بول کر بے وقوف بنانا اس کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا تھا۔ وہ کئی بار انہیں بے وقوف بنا چکا تھا۔ کبھی فون پر انہیں اپنے چھوٹے ایکسیڈنٹ کی خبر سنا کر پریشان کرتا وہ بیچارے بھاگم بھاگ آتے تو ان پر خوب ہنستا۔

ایک دن شام کا وقت تھا، پرویز کو فیکٹری میں بہت کام تھا، کام کرتے کرتے اسے کافی دیر ہو گئی۔ جب وہ فیکٹری سے نکلا تو اندھیرا ہو چکا تھا۔ وہ تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اسے ڈاکوؤں نے گھیر لیا۔ اسے آج ہی فیکٹری سے تنخواہ ملی تھی۔ ڈاکوؤں نے اسکی جیب سے بٹوا نکالا اور جتنی رقم تھی ساری رقم بٹوے سمیت لے جانے لگے۔ جب اس نے مزاحمت کی تو اسے خوب مارا پیٹا، اس وقت تک اسے مارتے رہے جب تک وہ بے ہوش نہ ہو گیا۔ جب وہ بے ہوش ہوگیا تو وہ اسے اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ پرویز کو اتنی بری مار پڑی تھی، اس لئے اس کی حالت بہت خراب تھی۔

کراہتے ہوئے اس نے اپنی قمیض کے اندر کی جیب کو ٹٹولا اور موبائل فون نکال لیا۔ اس نے بمشکل عمران اور سعد کے نمبر ملائے، انہیں ٹوٹی پھوٹی آواز میں حادثے کے بارے میں بتایا۔ مگر ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کی بات کا اعتبار نہ کیا۔ وہ یہی سمجھے کہ ہمیشہ کی طرح وہ انہیں بے وقوف بنا رہا ہے لہٰذا انہوں نے جھوٹ سمجھ کر اسے نظر انداز کردیا اور فون بند کردیا۔

صبح پرویز راستے میں بے ہوش پایا گیا۔ عمران اور سعد صبح سویرے جب اپنے کام پر جانے کے لئے نکلے تو انہیں راستے میں پرویز اس حالت میں ملا انہوں نے فوراً اٹھا کر اسے ہسپتال پہنچایا۔

جب اسے ہوش آیا تو اس نے دونوں دوستوں سے شکوہ کیا کہ میں نے آپ دونوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا تھا، مگر آپ لوگ مدد کے لیے نہیں آئے۔ عمران اور سعد کو بہت افسوس ہوا مگر انہوں نے پرویز سے کہا: ’’اگر تم جھوٹ بول کر ہمیں بے وقوف نہ بناتے رہتے تو آج ہم تمہاری بات کا اعتبار کرتے اور تمہیں اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی۔‘‘

یہ سن کر پرویز شرمندہ ہوا کیونکہ اسے احساس ہو چکا تھا کہ واقعی جھوٹ بولنے سے انسان کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے اس نے ہمیشہ کے لئے جھوٹ بولنے سے توبہ کرلی۔

پیارے بچو! جو جھوٹ بولتا ہے، وہ بہت نقصان اٹھاتا ہے، کیونکہ جھوٹ بولنے والے کا کوئی اعتبار نہیں کرتا، اس لیے مذاق میں بھی کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔