حارث کی شرارت

حسن اور حارث دو بھائی تھے۔ حسن بہت ذہین اور فرمانبردار بچہ تھا جبکہ حارث اس کے برعکس تھا۔ ’’ماما! آج پھر حارث نے گارڈ انکل سے چاکلیٹ لی۔‘‘حسن نے اسکول سے آتے ہی حارث کی شکایت اپنی ماما سے لگائی۔ بیٹا! میں نے منع کیا تھا ناں کہ کسی سے اس طرح کوئی چیز لے کر نہیں کھانی؟

سوری ماما! اب میں نہیں لوں گا حارث ہر بار اپنی ماما سے سوری کہتا لیکن پھر وہی کام کرتا جس سے سب منع کرتے تھے۔ شہر میں آئے روز بچے اغواء ہو رہے تھے اس لیے ان کے والدین دونوں بھائیوں کو گھر سے باہر جاکر کوئی بھی چیز لے کر کھانے سے منع کرتے تھے حسن تو اپنے والدین کی بات بخوبی سمجھ گیا تھا لیکن حارث نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

ایک دن حسن اور حارث اسکول سے واپس آرہے تھے حارث حسب معمول راستے پر شرارت کرتا ہوا آرہا تھا حسن اس کو منع کرتا رہا لیکن وہ باز نہ آیا۔ اسی دوران حارث نے راستے میں چلتے ہوئے اچانک ایک لڑکے کو تھپڑ لگا کر بھاگنا شروع کردیا۔ اب وہ بھاگتا ہوا حسن سے کافی آگے آگیا تھا۔ تھوڑی دور جانے کے بعد حارث کو اچانک ایک اجنبی آواز سنائی دی۔

حارث بیٹا! چاکلیٹ کھاؤ گے؟ ایک شخص اس سے پوچھ رہا تھا۔ جی انکل! کھاؤں گا۔ حارث نے اس اجنبی شخص کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ بیٹا! آپ ڈرو مت، میں آپ کے ابو کا دوست ہوں۔ یہ کہہ کر اس شخص نے چاکلیٹ حارث کو پکڑائی اور حارث چاکلیٹ کا پیپر کھولنے لگا۔

پکڑو اس کو پکڑو۔۔۔ یہ بچوں کو اغواء کرنے والا شخص ہے۔ ابھی حارث چاکلیٹ کھانے ہی لگا تھا کہ اچانک اس کو شور سنائی دیا اور ایک آدمی بھاگتا ہوا ان کی طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ یہ سب دیکھ کر حارث کو چاکلیٹ دینے والا شخص بھاگ گیا۔ بیٹا! یہ چاکلیٹ مت کھانا۔ اب حارث کے قریب کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔ اس چاکلیٹ میں نشہ آور دوا ملی ہوئی ہے۔ اس چاکلیٹ کو کھا کر بچہ خود بخود اس شخص کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے جس نے چاکلیٹ دی ہو۔ ایک شخص زور سے بولا۔

یہ سن کر حارث نے خوفزدہ ہو کر رونا شروع کر دیا۔ نہیں بیٹا! آپ روؤ مت، بلکہ شکر کرو آپ کی جان بچ گئی ہے۔ اب حارث کو اپنے والدین کی باتیں یاد آرہی تھیں۔ وہ اپنے کیئے پر بہت شرمندہ تھا۔ گھر جا کر اس نے سچے دل سے سب سے معافی مانگی اور پھر کسی اجنبی سے کوئی چیز نہ لینے اور والدین کی ہمیشہ بات ماننے کا وعدہ کیا۔

بچوں! والدین جب بھی کسی بات سے منع کرتے ہیں، اس میں آپ کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ جب بھی باہر جائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی اجنبی شخص سے کوئی چیز لے کر نہ کھائیں، چاہے کوئی یہ بات بھی کہے کہ وہ آپ کے ابو کا دوست ہے۔ آپ پھر بھی ان سے کھانے کی کوئی چیز نہ لیں۔ ہمیشہ بڑوں کی باتوں کو اپنے ذہن میں بٹھا لیں اور ان کے کہے پر ضرور عمل کریں۔