ہمدردی اور محبت کا جذبہ

جنگل کے بہت ہی گھنے اور خوبصورت حصے میں ایک پانڈا اور کالا بلا دونوں خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کی دوستی اور بھی گہری ہو رہی تھی۔ ایک روز دونوں سیر کے موڈ میں ندی کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے کہ جھاڑیوں میں سے کسی کے  کراہنے کی آواز سنائی دی۔ دونوں جھاڑیوں میں گھسے تو یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ وہاں ہاتھی کا ایک بچہ پھندے میں پھنسا ہوا تھا اور اپنے آپ کو اس پھندے سے آزاد کروانے کی کوشش میں تھا لیکن نکل نہیں پا رہا تھا۔ پانڈا کالے بلے سے بولا، "اس طرح تو یہ معصوم بچہ مر جائے گا۔ ہمیں اس کی مدد کرنی چاہئے۔ ”

"چلو ہم اسے پھندے سے نکالتے ہیں۔” کالے بلے نے جواب دیا۔ دونوں دوست کافی محنت اور کوشش کے بعد ہاتھی کے بچے کو اس پھندے سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ عین اسی وقت ایک عقا ب اڑتا ہوا وہاں پہنچا اور ان دونوں سے بولا،”میں اس کے پیر کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کے لیے پہاڑی کے پیچھے سے چنبیلی کے پھول لاتا ہوں جن کا رس لگانے سے اس کی تکلیف بھی کم ہو جائے گی اور زخم بھی جلد بھر جائے گا۔ ”

عقاب تیری سے پہاڑی کے جانب اڑ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں چنبیلی کے پھول لے کر وہاں واپس آ پہنچا، پھر تینوں مل کر اس کی مرہم پٹی کرنے لگے۔ مرہم لگنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ہاتھی کا بچہ  کراہتے ہوئے اٹھ کر چلنے کے قابل ہو گیا۔

تھوڑی ہی دیر میں ننھے ہاتھی کی ماں بھی وہاں پہنچ گئی اور اپنی سونڈ سے اپنے بچہ کو سہلا کر پیار کرنے لگی، ننھا ہاتھی بولا، "میری مدد کرنے کا شکریہ دوستو،ورنہ شاید آج شکاری مجھے اپنے ساتھ لے جاتا۔”

پانڈا, کالا بلا اور عقاب ننھے ہاتھی کو دیکھ کر مسکرانے لگے. پانڈا بولا,”ننھے ہاتھی میاں! ہم سب ایک دوسرے کا خیال رکھ کر ہی اس جنگل میں ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں، کل تم کسی کو مشکل میں دیکھو تو تم بھی اس کی خوب مدد کرنا۔ ”  جنگل میں شکار کے لیے پھندا لگانے والا شکاری جھاڑیوں میں چھپا ان جنگلی جانوروں کی یہ حرکتیں دیکھ رہا تھا کہ کس طرح انہوں نے درد اور تکلیف میں اپنے ساتھی جانور کی مدد کی اور اسے شکار ہونے سے بچایا۔ شکاری کو یاد آیا کہ ایک بار اس نے ہرنوں کا ایک جوڑا شکار کیا تھا جن کے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کو زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپتے دیکھتے رہے تھے لیکن وہ چھوٹے چھوٹے سے بچے بے بس تھے، اپنے والدین کو بچا نہیں سکے تھے۔ لیکن آج ہاتھی کا بچہ مشکل میں تھا اور اس کے ساتھی وقت پر اس کی مدد کے لیے پہنچ گئے تھے۔ یہ سب یاد کر کے شکاری کو بہت دکھ ہوا اور شرمندگی بھی۔۔۔! وہ سوچ رہا تھا کہ میں انسان ہوں، مگر شاید مجھ میں ہمدردی اور محبت کا جذبہ جانوروں سے کم ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں کتنا ظالم اور بے رحم ہوں، مجھ سے اچھے تو یہ بے زبان جانور ہیں۔ جانوروں کے پیار اور ہمدردی کے اس واقعے نے شکاری کی زندگی بدل دی اور اس نے فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ معصوم جانوروں کا شکار نہیں کرے گا۔