غلطی کی سزا

عالیہ اپنی امی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی ۔ اس کے والد فوت ہوچکے تھے ۔ عالیہ کی والدہ نہایت شفیق اور بردبار خاتون تھیں ۔ سلائی کرکے گھر کا خرچہ چلاتی تھیں ۔ عالیہ نہایت معصوم اور نادان تھی ۔ وہ اپنی امی کی ہر بات مانتی اور انہیں کبھی دکھ نہ دیتی، مگر جب وہ کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتی تو اسے پورا کرکے دم لیتی ۔ عالیہ جب پانچ سال کی ہوئی تو اس کی امی نے اسے گاؤں کے قریبی اسکول میں داخل کروادیا ۔ عالیہ نے باقاعدگی سے اسکول جانا شروع کر دیا ۔ عالیہ کا اسکول گاؤں سے ذرا ہٹ کر ندی کے اس پار تھا ۔ ندی پر ایک کم اونچائی والا چوڑا سا پل بنا ہوا تھا ۔ جس کے گرد چھوٹی سی دیوار لگی ہوئی تھی جو پانچ فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی تھی ۔

عالیہ روزانہ اپنی سہیلی زرینہ ( جو کہ اسے دو سال بڑی تھی) کے ہمراہ اسکول جاتی ۔ اسکول جاتے ہوئے دونوں کا گزر اس پل پر سے ہوتا ۔ چونکہ عالیہ کو خطرہ مول لینے اور شرارت کرنے میں مزہ آتا تھا، اس لیے اس نے کئی بار پل کی اس چھوٹی سی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کی مگر زرینہ کے منع کرنے پر اپنے ارادے سے باز رہتی ۔

برسات کے موسم میں یہ ندی پوری طرح پانی سے بھر جاتی اور اس کا پانی باہر نکل کرپل پر چڑھ آتا تھا، تب وہاں سے گزرنا مشکل ہو جاتا اور پھسلن بھی زیادہ ہو جاتی تھی ۔ عالیہ کو یہ منظر اچھا لگتا ۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب برسات کا مہینہ تھا ۔ ہر روز تیز بارش ہوتی۔ بارش کی وجہ سے ہر طرف کیچڑ ہو رہی تھی اور سڑکوں پر پھسلن بڑھ رہی تھی ۔ ندی نالے بارش کے پانی سے لبالب بھر گئے تھے ۔ ایسے ہی ایک دن جب ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔ عالیہ صبح صبح اٹھی، ناشتہ کیا اور اسکول جانے کے لیے تیار ہونے لگی ۔ امی نے کہا،’’عالیہ بیٹی، موسم بہت خراب ہے آج اسکول نہیں جانا۔‘‘عالیہ نے سوچا، امی اجازت تو دیں گی نہیں اور اس موسم میں اسکول جا کر کھیلنے کا مزہ ہی الگ ہے تو کیوں نہ ان کی اجازت کے بغیر ہی سکول جایا جائے ۔ اس نے کہا، ’’ٹھیک ہے امی!لیکن میں زرینہ کو بتا کر آتی ہوں کہ آج میں اسکول نہیں جاؤں گی، کہیں وہ میرا انتظار نہ کر رہی ہو۔‘‘ امی نے اجازت دے دی اور کہا کہ جلدی واپس لوٹ آنا ۔

تیار ہو کر وہ زرینہ کے گھر کی طرف چل دی، وہاں سے وہ زرینہ کو لے کر ندی کی جانب روانہ ہوگئی، جب وہ دونوں پل کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ پل پانی سے بھرا ہوا ہے اور سیلاب کا سامنظر پیش کر رہا ہے۔ پانی کی اونچائی کا اندازہ لگاتے ہوئے زرینہ بولی عالیہ آج پانی بہت زیادہ ہے اور یہاں سے گزرنا مشکل ہے، چلو گھر چلتے ہیں۔ ایک دوروزمیں جب پانی ندی میں اتر جائے گا تو دوبارہ اسکول جانا شروع کر دیں گے۔ عالیہ جھٹ سے بولی، ’’پل کی دیوار کافی اونچی ہے اور وہاں پانی بھی نہیں ہے کیوں نہ ہم وہاں سے چلے جائیں؟‘‘ زرینہ بولی، ’’مجھے ڈر لگتا ہے، میں نہیں جاؤں گی، چلو واپس چلتے ہیں۔ بارش کی وجہ سے ہر طرف پھسلن ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی حادثہ ہوجائے۔‘‘

’’تم تو ہو ہی ڈر پوک، اگر تم نہیں جانا چاہتی تو نہ جاؤ، میں جا رہی ہوں۔‘‘یہ کہتے ہوئے عالیہ پل کی دیوار پر چڑھ گئی ۔ زرینہ نے اسے بہت سمجھایا مگرعالیہ اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی، زرینہ اپنا سامان لے کر واپس آگئی ۔ عالیہ نے ابھی تھوڑا فاصلہ طے کیا تھا کہ ندی کے پانی میں ایک شور سا برپا ہوا اور پانی کی ایک بڑی سی لہر اٹھتی ہوئی پل کی جانب بڑھی، وہ اس اچانک افتاد کے لیے قطعی تیار نہ تھی، لہٰذا خوفزدہ ہو کرجیسے ہی پیچھے ہٹی اس کا پیر پھسل گیا اور وہ آناً فاناً ندی میں جاگری۔ کافی دیر تک وہ مدد کے لیے پکارتی رہی مگر کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا جو اس کی مدد کو پہنچتا۔ ادھر عالیہ کی امی سخت بے چین تھیں، ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔ کافی دیر انتظار کرنے کے باوجود بھی جب عالیہ گھر نہ پہنچی تو اس کی امی کو تشویش ہوئی۔ عالیہ کی امی نے برقع اوڑھا اور زرینہ کے گھر پہنچ گئیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ زرینہ تو گھر پر ہی ہے۔ زرینہ نے فوراً ہی بتا دیا کہ وہ اور عالیہ ندی کے کنارے گئے تھے اور منع کرنے کے باوجود عالیہ پل پر چڑھ گئی تھی۔

کافی تگ ودوکے بعد جب ندی کا پانی کچھ کم ہوا تو عالیہ کا بے جان جسم ندی کے کنارے پر پڑا ہوا ملا۔ وہ ندی کے سیلاب میں ڈوب چکی تھی عالیہ کی امی رو رو کے بے حال ہوگئیں ان کی پیاری بیٹی اپنی نادانی کی وجہ سے ان سے جدا ہو گئی تھی۔ بچوں! کبھی کبھی ہماری ایک چھوٹی سی غلطی ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے تکلیف میں مبتلا کر جاتی ہے اگر عالیہ اپنی امی کی بات مان لیتی اور بلاوجہ خطرہ مول نہ لیتی تو ایک بڑے حادثے سے محفوظ رہ سکتی تھی ۔ وہ کہتے ہیں ناں احتیاط علاج سے بہتر ہے۔