بُری عادت

دانیال اچھا بچہ تھا لیکن اس میں ایک خرابی تھی، وہ چاہےچیز اچھی ہو یا بری اس میں نقص ضرور نکالتا تھا، ساتھ ہی وہ غصے کا بھی تیز تھا ۔ یہ خرابی اس میں بچپن میں نہیں تھی لیکن رفتہ رفتہ پروان چڑھنی شروع ہوئی تھی اور اب جب وہ 8 سال کا ہو چکا تھا تو اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ جب تک وہ کسی چیز میں نقص نہ نکال لیتا یا کسی بات پر غصہ نہ کر لیتا تو اس وقت تک اس کو چین نہیں ملتا تھا ۔ ہر کوئی اس کی اس عادت سے پریشان تھا یہاں تک کہ امی، ابو اور اس کی اکلوتی بہن راحیلہ سب اس کے نقص نکالنے اور غصہ کرنے کی عادت سے ہر وقت پریشان رہتے تھے، یہ تو دانیال کا صرف واجبی سا تعارف تھا ۔ اب آگے پڑھئے۔

’’امی کھانا بنا دیں مجھے، کب سے کہہ رہا ہوں آپ کو۔‘‘ دانیال نے تنگ آکر کہا ۔’’لائی بیٹا!‘‘ امی نے بلند آواز سے کہا۔ ’’پتہ نہیں کب آئے گی روٹیآں‘‘ وہ بڑبڑایا۔ تھوڑی دیر بعد جب اسے روٹی مل گئی تو اس پر اپنی نقص نکالنے والی بیماری کا حملہ ہوا اور وہ تیز لہجے میں بولا۔ ’’امی! یہ  روٹی بنائی ہے آپ نے؟ کتنی عجیب سی ہے۔‘‘ امی نے اس کی بات کو سکون سے سنا اور بولیں۔۔۔’’دانیال بیٹا ! کتنی بار تم سے کہا ہے کہ رزق کے بارے میں اس طرح نہیں کہتے، نقص نکالنا ایک بری عادت ہے، تمہیں کتنی بار ٹوکا ہے، اس طرح غصے سے بات نہ کیا کرو‘‘۔

’’امی! میں بھی تو کام کرتا ہوں اس میں تو کوئی نقص نہیں نکال سکتا۔‘‘جواب میں دانیال نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’بیٹا ہر کوئی تمہارے جیسا تو نہیں ہو سکتا۔‘‘ اس کی امی  زیرِ لب مسکرائیں تو دانیال نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔ ’’ہاہاہا! واقعی آپ نے صحیح کہا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ کھانا کھانے میں لگ گیا ۔

’’امی! یہ دانیال کے نقص نکالنے اور غصہ کرنے کی عادت حد سے زیادہ بڑھتی جا رہی ہے،اب اس کا کوئی حل یا علاج کرنا ہی ہوگا‘‘۔ دانیال کی بہن راحیلہ نے اپنی امی سے کہا۔ ’’بیٹا! تم ہی  بتاؤ کوئی حل؟‘‘اس کی امی نے چہرے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’امی میرے ذہن میں ایک منصوبہ ہے، آپ اس پر عمل کریں گی کیا؟‘‘راحیلہ نے پوچھا۔ ’’ضرور کروں گی‘‘ امی بولیں۔ ’’اچھا قریب آئیں‘‘ راحیلہ نے کہا اور پھر وہ اپنا منصوبہ امی کو بتانے لگی اور امی کا سر’’ہاں، ہوں‘‘ کے انداز میں اوپر نیچے ہونے لگا۔

’’یہ تم کیسی دال لے آئے، پاگل تو نہیں ہو تم،کتنی خراب دال ہے۔‘‘ امی نے غصے سے کہا تو دانیال نے سر جھکالیا۔ ایک لمحے کے لئے امی کو اس پر بے تحاشا پیار آیا لیکن دانیال کی اصلاح کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے دل پر جبر کرکے چیخنے والے انداز میں کہا۔ ’’چلو جاؤ یہاں سے، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرنا آتا تمہیں۔‘‘ دانیال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا لیکن وہ خاموشی سے چلا گیا۔ دوسرے دن دانیال کی امی اس کے پاس آئیں اور بولیں۔ ’’دانیال! راحیلہ کی طبیعت خراب ہے، تم اپنے اسکول کے کپڑے خود پریس کر لو، میں کھانا پکانے جا رہی ہوں۔‘‘ ’’ٹھیک ہے امی، میں کر دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ کپڑے پریس کرنے لگا۔‘‘ وہ بڑی محنت سے کپڑے استری کر رہا تھا۔ 15 منٹ کے بعد اس کی امی آئیں اور کپڑے دیکھنے کے بعد بولیں۔ ’’دانیال یہ تم نے کپڑے پریس کیے ہیں؟‘‘ ’’جی امی‘‘ دانیال خوشی سے بولا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اچھا کام کرنے پر شاید اسے انعام ملنے والا ہے۔ لیکن اس کی امی نے کہا، ’’نکمے ہو تم! اس طرح کپڑے پریس کرتے ہیں، تمہیں تو کوئی کام ہی ڈھنگ سے کرنا نہیں آتا۔‘‘ امی نے یہ غصے میں جملے ادا کیے تو دانیال کا منہ لٹک گیا۔ وہ تڑپ کر بولا۔ ’’امی میں نے اتنی محنت کر کے کپڑے استری کیے اور آپ اس میں نقص نکال رہی ہیں اور غصہ بھی کر رہی ہیں؟‘‘

’’میری مرضی کیوں تمہیں نام دوں اب؟‘‘

امی اس طرح تو نہیں کہتے وہ رو دینے والے لہجے میں بولا تو اور کیا کروں، چلے جاؤ یہاں سے یہ کام بھی میں خود ہی کر لوں گی۔ اس کی امی نے غصے سے کہا تو وہ چپ چاپ باہر چلا گیا دانیال کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا اسے پتہ چل گیا تھا کہ اگر کوئی کام میں نقص نکالے تو کیسا محسوس ہوتا ہے سارا دن اسکول میں بھی چپ چاپ ہی رہا شام کو امی نے کہا بیٹا! برف لادو۔ وہ بازار تک گیا جب وہ واپس آیا تو پسینے سے چہرہ شرابور تھا۔ ’’یہ کیا کر دیا بے وقوف! یہ برف لائے ہو، سارا تو پانی ہی ہے، برف کہا ہے؟‘‘ امی نے غصے میں اس پر تنقید کی تو وہ رو پڑا اور بولا۔ ’’امی! مجھے معاف کردیں، میں آئندہ کسی کے کام میں نقص نہیں نکالوں گا، بلاوجہ کسی پر تنقید نہیں کروں گا اور غصے بھی نہیں کروں گا، پلیز! مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے، مجھے معاف کر دیں؟‘‘ اس نے باقاعدہ امی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔ ’’سچ کہہ رہے ہو ناں کہ آئندہ نقص نہیں نکالو گے اور تیز لہجے میں بات نہیں کرو گے؟‘‘’’جی امی! میں آج تک غلطی کرتا رہا ہوں، پلیز! مجھے معاف کر دیں۔‘‘ امی نے اس کو سینے سے لگالیا،امی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بالکنی پر کھڑی راحیلہ مسکرا رہی تھی کہ امی اور اس کا بنایا گیا منصوبہ رائیگاں نہیں گیا تھا۔ ان کا یہ منصوبہ ایک بری عادت کا شکار بچے کو راہ راست پر لے آیا تھا۔

پیارے بچو! ہمیں کسی چیز میں نقص نہیں نکالنا چاہیے اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنا چاہیے ہم جس کام یا چیزمیں نقص نکال رہے ہوتے ہیں درحقیقت اس کام کو کرنے یا کسی چیز کو بنانے میں بہت محنت کی گئی ہوتی ہے، نقص نکالنے یا بلاوجہ تنقید کرنے کی وجہ سے کسی بھی شخص کے دل کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے لہذا بلاوجہ نقص نکالنے اور غصہ کرنے کی عادت کو پروان نہ چڑھنے دیں۔