امی سے ڈانٹ پڑی ہے

تحریر: مختار احمد (اسلام آباد)

شدید گرمی کے موسم میں جب یکا یک آسمان پر گہرے سیاہ بادل امڈ آئے تو  ہر دل خوشی سے جھوم اٹھا- ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی تھیں اور بجلی  بار بار   چمک رہی تھی – دور سے بادلوں کی گڑگڑاہٹ  بھی سنائی  دے جاتی تھی لیکن  ابھی بارش شروع نہیں ہوئی تھی-

اس خوش گوار موسم میں ایک گھر کے سامنے تین سائیکلیں اسٹینڈ پر کھڑی تھیں- یہ سائیکلیں ان لڑکوں کی تھیں جو  گلی کے چند دوسرے لڑکوں کے ساتھ ایک گھر کے سامنے گھاس پر بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے- ان  لڑکوں کی عمریں دس سے چودہ برس کے درمیان تھیں اور وہ سب اسی محلے میں رہتے تھے-

بہت دنوں بعد موسم اتنا خوش گوار ہوا تھا اس لیے تمام بچے بہت خوش تھے اور پروگرام بنا رہے تھے کہ سیر کے لیے کہاں چلا جائے- کچھ کا خیال تھا کہ کسی پارک کا رخ کیا جائے، کچھ اس بات پر اصرار کررہے تھے کہ سائیکلوں پر پہاڑوں کی سیر کی جائے- پارک تو جایا جاسکتا تھا مگر پہاڑوں کی جانب جانے کی اجازت امی نہیں دیتیں، ایک تو وہ دور بہت تھا، دوسرے وہاں جانوروں کا بھی خطرہ تھا-

اچانک  ان کا ایک اور دوست  سلیمان اپنے گھر سے  منہ لٹکائے باہر نکلا اور خاموشی سے ان کے پاس آکر کھڑا ہوگیا- رفعت نے  اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور کہا- "ٹائم تو یہ دو بجے دوپہر کا ہے تمھارے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟”

"امی سے ڈانٹ پڑی ہے- اسی وجہ سے منہ پر بارہ بج رہے ہیں”- سلیمان نے بڑی صاف گوئی سے بتا دیا- "اور یہ کوئی نئی بات نہیں- ہر کھانے پر ان کی ڈانٹ سننا پڑتی ہے-”

"کھانا تمہاری پسند کا نہیں ہوتا ہوگا-” حنیف  نے سوالیہ لہجے میں کہا-

"نہیں یہ بات نہیں- امی تو بس چاہتی ہیں کہ میں ٹھونس ٹھونس کر کھاؤں-  میں کھانا بچا دیتا ہوں تو وہ  ناراض ہوتی ہیں- کہتی ہیں کہ میں اتنی مشکل سے پکاتی ہوں،  تم نہیں کھاتے ہو تو کھانا پھنک کر جاتا ہے-” سلیمان نے کہا-

اظہر خاموشی سے ان لوگوں کی باتیں سن رہا تھا- وہ خاموش ہوۓ تو  اس نے کہا- "یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے-  سارے بچوں کی ساری امیوں کو ان سے  یہ ہی شکایت  رہتی ہے کہ وہ ٹھیک طرح سے کھانا  نہیں کھاتے-  سلیمان کی بات سن کر ابھی ابھی  میرے ذہن میں بڑا اچھا خیال آیا ہے- ہماری امیوں کو یہ کھانا جو ڈسٹ بن میں پھینکنا پڑتا ہے، اس سے انھیں چھٹکارہ مل جائے گا- اس کے علاوہ اگر  میرے خیال  پر عمل کرلیا گیا تو پھر  وہ ناراض نہیں بلکہ خوش ہوا کریں گی اور کہا کریں گی کہ واہ- کتنی اچھی بات ہے کہ اظہر جیسا عقلمند لڑکا ان کے بچوں کا  دوست ہے جو انھیں اتنی اچھی اچھی باتیں بتاتا ہے-”

"اگر اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے فرصت مل گئی ہو تو آگے بھی کچھ کہو- ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ ہمارے عقلمند دوست  نے ایسی کیا بات سوچی ہے کہ تمام بچوں کی امیاں خوشی سے سرشار ہوجائیں گی اور مسکراتی پھریں گی-” زاہد نے  کہا-

"ضرور بتاؤں گا مگر ابھی نہیں-” اظہر نے اٹھتے ہوۓ کہا- "فی الحال تو میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے  گھروں کے سامنے والے خالی میدان  میں کتنی جگہ بے کار خالی پڑی ہے-  یہاں پر گھاس اور جھاڑیاں اگ گئی ہیں- میں تو چلا  انہیں صاف کرنے- اگر کوئی میرا ساتھ دے سکتا ہے تو دے ورنہ میں اکیلا ہی کام شروع کردوں گا-”

سب لڑکوں نے اس کی بات حیرت سے سنی- پھر سلیمان بولا- "ہم ان لڑکوں میں سے نہیں ہیں کہ  وقت پڑنے پر دوست کو اکیلا چھوڑ دیں- ہم بھی تمھارے ساتھ  اس میدان کو صاف کروائیں گے- اچھا ہے جگہ صاف ہوجائے گی تو پھر ہم وہاں کرکٹ اور بیڈ منٹن کھیلا کریں گے- کھیل کا میدان تو بہت دور ہے- وہاں جانے سے بھی جان چھوٹ جائے گی-”

"یہ سب بعد کی باتیں ہیں کہ ہم وہاں کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے”- اظہر نے کہا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا- وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ گھاس کاٹنے کی مشین تھی- اس نے کہا- "ہم اس میدان   کی  تقریباً سو مربع گز زمین صاف کریں گے-”

"یہ آج کا کام ہوگا- کل ہمیں پھر سو مربع گز زمین صاف کرنا پڑے گی- اور یہ ہم روز کیا کریں گے، اس وقت تک جب تک پورا میدان صاف نہ ہوجائے-” رفعت  نے ہنستے ہوۓ کہا-

اظہر نے اس کی بات پر کچھ نہیں کہا- لڑکوں نے اپنی اپنی سائیکلیں میدان میں لا کر کھڑی کردیں- اظہر اپنے ساتھ پیمائش کرنے کے لیے لمبا  فیتہ بھی لایا تھا- اس نے پہلے ایک ہموار زمین کا انتخاب کیا پھر فیتے کی مدد سے  چار اطراف میں پیمائش کرکے مشین سے گھاس کاٹنا شروع کردی- اس نے بڑی احتیاط سے چاروں کونوں کی صفائی کی تھی- اس کے بعد لڑکے  اس حصے میں موجود گھاس کو کاٹنے کے لیے باری باری باری مشین چلانے لگے-

ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد ان کی مطلوبہ جگہ بالکل صاف ہوگئی تھی- جگہ بھی کافی بڑی تھی اور مشین کو زور لگا کر چلانا پڑا تھا-  وہاں پر کٹی ہوئی گھاس کے ڈھیر کے ڈھیر نظر آرہے تھے- وہ سب دھان پان سے لڑکے تھے اس لیے تھک کر نڈھال ہوگئے-

سلیمان نے زمین پر بیٹھتے ہوۓ کہا- "اظہر بھئی مان گئے تمہیں- محنت کا کام کرو تو بھوک بڑے زور سے لگنے لگتی ہے- میں حالانکہ کھانا کھا کر آیا تھا مگر اب پھر بھوک لگنے لگی ہے- میں سمجھ گیا ہوں کہ تم نے اسی مقصد کے لیے ہم سے یہ محنت کا کام کروایا تھا کہ جب ہم  خوب محنت کریں گے تو بھوک خود بخود لگنے لگے گی- پھر ہم سب کی امیاں بھی خوش ہوجائیں گی کہ ان کے بچے  چپس، نوڈلز، پاستا اور میکرونیاں  چھوڑ کر ان کا پکایا ہوا کھانا خوب پیٹ بھر کر کھا رہے ہیں-”

اس کی بات سن کر اظہر مسکرانے لگا مگر  کوئی جواب نہیں دیا- کام چونکہ ختم ہوگیا تھا اس لیے وہ گھاس کاٹنے کی مشین  لے کر چلا گیا- واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں جھاڑو، پلاسٹک کا گاربیج پکر (جس سے کوڑا اٹھایا جاتا ہے)   اور کوڑے کی  بالٹی تھی- سب بچے جھاڑو دینے اور کچرا سمیٹنے میں لگ گئے- انہوں نے   گھاس کی کئی بالٹیاں علاقے کے کوڑے دان میں ڈالیں- صفائی مکمل ہوگئی تو وہ جگہ انتہائی خوب صورت نظر آنے لگی- اس حصے کے  تین اطراف  میں بڑی بڑی گھاس  موجودتھی- سامنے  کا  حصہ صاف تھا جہاں سے وہ اپنے گھروں کا نظارہ کر سکتے تھے-

ان کا کام ختم ہوگیا تھا- انھیں اس کام میں سیر سپاٹے سے زیادہ مزہ آیا تھا- اچانک آسمان سے بوندیں گرنے لگیں اور تھوڑی ہی دیر میں تیز بارش شروع ہوگئی- انہوں نے اپنا سامان سمیٹا، سائیکلیں سنبھالیں اور شام کو پھر ملنے کا کہہ کر اپنے اپنے گھروں کو آگئے-

شام کو بارش رک گئی تھی مگر آسمان پر بادل بدستور موجود تھے- بارش رکتے ہی لڑکوں نے پھر باہر کا رخ کیا- وہ سیدھے اسی میدان میں آئے جسے دوپہر کو انہوں نے صاف ستھرا کر کے چمکا دیا تھا- یہ دیکھ کر انھیں حیرت ہوئی کہ اظہر وہاں پہلے ہی سے موجود ہے- ان کی یہ حیرت اس وقت مزید بڑھ گئی جب انہوں نے میدان میں قطار در قطار  پلاسٹک اور مٹی کے چھوٹے بڑے برتن  رکھے دیکھے-

"ان برتنوں   کو یہاں رکھنے کا مقصد میری تو سمجھ میں آیا نہیں ہے-” حنیف نے سر کھجا کر کہا- دوسرے لڑکے بھی اظہر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے-

"یہ  جگہ ایک انوکھا فوڈ سینٹر  ہوگی- یہاں پر  آکر جانور اور پرندے کھانا کھا سکیں گے-” اظہر مسکرا کر بولا- "میں سلیمان کا بہت مشکور ہوں کہ اس کی بات سن کر  ہی مجھے یہ فوڈ سینٹر بنانے کا خیال سوجھا  تھا- دوسرے بچوں کی طرح اسے بھی  امی سے ڈانٹ پڑی تھی کہ وہ کھانا بچا دیتا ہے اور پھر اسے  پھینکنا پڑتا ہے- میں نے یہ بات سن کر سوچا  کہ ہم سب مل کر ایک ایسی جگہ بنائیں جہاں اپنے گھروں میں بچا ہوا  کھانا یہاں لا کر رکھ دیا کریں تاکہ اسے کچرے میں نہ پھینکنا پڑے  اور اس کی بے ادبی نہ ہو- رزق کی بے ادبی بہت بری بات ہوتی ہے- اس کے علاوہ اس طرح ہم پرندوں اور جانوروں کی بھی مدد کر سکیں گے- ہم ان برتنوں  میں اپنے اپنے گھروں کا وہ کھانا لا کر ڈال دیا کریں گے جو ہم پلیٹوں میں چھوڑ دیتے ہیں اور امی اسے کوڑے دان کی نذر  کر دیتی ہیں- یہ ہی نہیں ہم پرندوں کے لیے  باجرہ، دال، چاول اور  کنگنی  بھی اپنے جیب خرچ سے خرید کر یہاں رکھیں  گے- یہاں ان کے پینے کے لیے پانی کا بھی انتظام ہوگا- چھوٹی بلیوں کے لیے ہم   دودھ بھی ڈالا کریں گے-  چڑیوں اور کوؤں کے لیے سوکھی ہوئی روٹیوں کو پانی میں بھگو کر رکھا کریں گے- وہ اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں- ان سوکھی ہوئی روٹیوں کو چھان بورے والے لے جا کر بے ایمان لوگوں کو بیچ دیتے ہیں اور وہ اسے گندم میں ملا کر  پیستے ہیں اور مضر صحت آٹا بنا کر فروخت کردیتے ہیں اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ ان سوکھی روٹیوں کو چھان بورے والوں کو نہ دیا جائے تاکہ لوگوں کی صحت کو کوئی نقصان نہ پہنچے-”

اس کی بات سب لڑکوں کی سمجھ میں آگئی تھی- زاہد نے کہا- "بہت خوب- یہ تو بہت ثواب کا  بھی کام ہوگا- جانور اور پرندے بھی الله کی مخلوق ہیں- ان بے زبانوں  کا خیال رکھنا بہت اچھی بات ہے-  یہ سب ماحول دوست ہوتے ہیں- ان کی وجہ سے ہمارا ماحول صاف ستھرا رہتا ہے- ہم سب کو ان کا خیال رکھنا چاہیے-”

"اس  کام کے لیے ہمیں تھوڑا سا ذمہ دار بننا پڑے گا اور  روزانہ اپنے اپنے گھروں سے بچا ہوا کھانا لا کر یہاں رکھنا پڑا کرے گا-” اظہر نے کہا- "لیکن فکر کی کوئی بات نہیں، ایک اچھے کام کے لیے ہم یہ ذمہ داری قبول کریں گے- اسمارٹ اور کامیاب  لوگ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں- انھیں آرام نہیں کام پسند ہوتا ہے- شکر ہے کہ  تم سب کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے-”

جب ان لڑکوں نے  اپنی  اس بات  کا تذکرہ گھر جا کر اپنی اپنی امیوں سے کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں- انھیں ایک خوشی تو اس بات کی تھی کہ اس طریقے سے رزق کو بے ادبی سے بچایا جا سکے گا اور وہ بھوکے جانوروں اور پرندوں کی غذا بن جائے گا- دوسری خوشی کی بات یہ تھی کہ عمر میں کم ہونے کے باوجود ان کے بچوں کو  بے زبان پرندوں اور جانوروں  کی بھوک پیاس  کا احساس تھا- اس سلسلے میں انہوں نے بھی  اپنے بچوں کے اس مشن کا حصہ بننے کا فیصلہ کرلیا- اسکول سے آنے کے بعد جب سب کھانے سے فارغ ہوجاتے تو ان کی امی بچا ہوا کھانا ایک جگہ اکھٹا کرکے ان کے حوالے کردیتیں جسے وہ میدان میں لے جا کر  برتنوں میں ڈال دیتے- میدان تو تھا ہی بالکل ان کے گھر کے سامنے، انھیں دور بھی نہیں جانا پڑتا تھا-  اپنے جیب خرچ کے کچھ پیسوں  سے وہ باجرہ  وغیرہ بھی خرید کر وہاں رکھ دیتے تھے-

اب کتے ، بلیوں اور پرندوں   کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے کچرے دانوں کو نہیں کھنگالنا پڑتا تھا- جب بھی انھیں بھوک لگتی تھی، وہ سیدھے اس میدان کا رخ کرتے اور  اپنی اپنی پسند کا کھانا کھا کر  بھوک مٹاتے- پرندے تو نہ صرف یہاں سے اپنا پیٹ بھرتے تھے بلکہ گھونسلوں میں موجود اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کا دانہ دنکا  بھی یہیں سے لے جاتے تھے- محلے میں کچھ لوگوں نے مرغیاں بھی پال رکھی تھیں- پہلے تو وہ گلی میں ہی چگتی پھرتی تھیں مگر اب وہ بھی بھاگ کر اس جگہ آ کر خوب مزے سے چاول، باجرہ اور بھیگی ہوئی روٹی کھاتیں-

اظہر اور اس کے دوستوں  کے  اس کام  کی  ان کے اباؤں نے  خوب شاباش دی اور چھٹی کے ایک روز  خاص طور سے اس جگہ  کو دیکھنے کے لیے آئے-

زاہد کے ابّا نے کہا-  "بچوں کا یہ کام دیکھ کر دل خوش ہوگیا ہے- ہمارے اس دور کے تمام  بچے نہ صرف   خوب شوق سے تعلیم حاصل کررہے  ہیں بلکہ اپنے ماں باپ اور استادوں کا ادب کرنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے- صبح ہوتی ہے تو ہر بچہ کتابوں کا بیگ اٹھائے اسکول جاتا نظر آتا ہے- یہ لوگ  دوسروں کے دکھ  درد  کا احساس کرنے والے بھی  ہیں-  اس کا ثبوت سامنے میدان میں نظر آ رہا ہے- مجھے امید ہے کہ اپنی ان ہی عادتوں کی وجہ سے  یہ بچے اپنے ملک کا نام روشن کریں گے کیوں کہ ان کی  سوچیں  تعمیری ہیں- ”

سب بچے بھی وہیں کھڑے تھے اور یہ باتیں سن رہے تھے- وہ اس بات پر بہت خوش تھے کہ ان کے اس عمل  کی ان کے والدین  نے بہت تعریف کی تھی- اظہر نے سلیمان کے کان میں کہا- "اگر تمہیں امی سے ڈانٹ نہ پڑتی تو ہمیں یہ کام کرنے کا بھی خیال نہ آتا- اسی لیے تو کہتے ہیں کہ ڈانٹ تو اچھی ہوتی ہے-” اس کی بات سن کر سلیمان منہ پھیر کر مسکرانے لگا-

اسی وقت چڑیوں کا ایک غول وہاں آیا اور چوں چوں کر کے باجرے پر ہلہ بول دیا-  دو تین چڑیوں کا کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے وہ پانی کے برتن میں غوطے لگا کر نہانے لگیں- وہ سب لوگ انھیں دلچسپی سے دیکھنے لگے-