احمد اور لطیف

احمد اور لطیف دو بھائی ہیں۔ لطیف، احمد سے دو سال چھوٹا ہے اور پڑھائی میں اس سے دو کلاس جونیئر بھی ہے۔ لطیف ساتویں کلاس میں پڑھتا ہے اور احمد نویں کلاس میں ہے۔ دونوں کی عادتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ لطیف کم عمر ہونے کے باوجود اکیلا رہنا پسند کرتا ہے اور بات چیت بھی کم کرتا ہے جبکہ احمد اتنا شرارتی ہے کہ گھر کے  سب لوگ اس کی شرارتوں سے تنگ رہتے ہیں۔  دونوں بھائی پڑھائی میں بہت اچھے ہیں، اس لیے احمد کے پاپا، شرارتوں کے باوجود ان سے خوش رہتے ہیں۔ شرارتی احمد کو اپنے چھوٹے بھائی کو چڑانے میں بہت مزہ آتا ہے، اس کا مقصد لطیف کا دل دکھانا نہیں بلکہ وہ صرف اسے ‏ہنسانے اور اس کے ساتھ کھیلنے کے لئے ایسا کرتا ہے لیکن اکثر لطیف اتنا ناراض ہو جاتا ہے کہ احمد سے کئی دن تک بات نہیں کرتا۔

ان کے گھر کے نزدیک ایک بہت گھنا باغیچہ ہے۔ جس میں آم، جامن اور امرود کے بہت سے درخت ہیں۔ اکثر امرود کی ڈالیوں پر ڈھیر سارے طوطے اور چڑیاں بیٹھے ہوتے ہیں جنھیں دیکھنا لطیف کو بہت اچھا لگتا ہے۔ ویسے بھی وہ شام کو باغیچے میں چلا جاتا ہے اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر طوطوں اور چڑیوں کو دیکھتا رہتا  یا کہانیاں پڑھتا رہتا ہے جبکہ احمد موقع پاتے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ ایک دن کا ذکر ہے کے دونوں بھائی کسی بات پر اتنا جھگڑے کہ نوبت مار پیٹ تک پہنچ گئی۔ حالانکہ جب  جب لطیف غصے میں آتا تو احمد خاموش ہوجاتا تھا لیکن اسے بھی پتا نہیں اس دن کیا ہوا کہ وہ لطیف سے الجھ گیا اور اتفاق سے کہیں سے پاپا بھی آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ماں کے سمجھانے کے باوجود دونوں لڑ رہے ہیں تو وہ بہت ناراض ہوئے۔انہوں نے کہا، "کیا میرے گھر میں نہ ہونے پر تم اسی طرح لڑتے ہو؟ آج تو میں ہوں کل نہیں رہوں گا تو کیا اسی طرح سے لڑو گے اور تم کو کون سمجھانے آئے گا۔ ”

پاپا کی بات کو احمد پر اتنا اثر ہوا کہ وہ بدل ہی گیا۔ وہ لطیف سے بھی زیادہ خاموش اور اکیلا رہنے لگا۔ لطیف کو احمد کا یہ بدلا ہوا روپ کچھ اچھا نہیں لگا۔ بھائی کا رویہ میرے ساتھ ایسا تو نہیں تھا۔ وہ تو ہمیشہ چہکتا رہتا تھا۔ یقیناً میری وجہ سے ہی یہ سب ہوا ہے۔ اس کو پہلی بار محسوس ہوا کہ احمد کی شرارتوں کی وجہ سے ہی گھر میں رونق رہتی ہے۔ اس نے کبھی ایسی اداسی گھر میں نہیں دیکھی تھی۔ یہ سوچتے سوچتے وہ باغیچے کی طرف چلا گیا۔ اچانک اس کی نظر پاس والے  امرود کے درخت پر پڑی۔ اس نے دیکھا کہ ایک طوطا اپنی چونچ میں اپنے بچے کو امرود کھلا رہا ہے بچے چوں چوں کر رہے تھے، آپس میں کھیل رہے تھے۔ یہ دیکھ کر لطیف کو اپنے بھائی کے ساتھ کھیلنا، کودنا، لڑنا باتیں کرنا یاد آیا۔ تب ہی آسمان کالے کالے بادلوں سے گھر گیا اور زوردار آندھی کے آثار بننے لگے۔  دیکھتے ہی دیکھتے ہوا تیز ہوگئی مگر لطیف اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ اچانک لطیف کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کا ہاتھ کھینچ رہا ہے، دیکھا تو یہ کوئی اور نہیں احمد تھا۔ تیز آندھی میں احمد، لطیف کو گھر واپس لے جانے کے لیے باغیچے میں آیا تھا۔ دونوں تیزی سے دوڑتے ہوئے گھر آئے اورلطیف، احمد سے لپٹ کر رونے لگا۔  احمد نے اس کی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، "بھائی! آپ شرارت کرتے اچھے لگتے ہیں، یوں اداس رہنا اچھا نہیں لگ رہا۔ چلو وعدہ کرتا ہوں اسے ہم مل کر شرارت کریں گے، کبھی کبھی جھگڑا ہو گا کیونکہ پیار ہو تو، جھگڑا بھی پیارا لگتا ہے۔  "دونوں کو خوش دیکھ کر ممی پاپا بھی مسکرانے لگے۔