پانی بڑی نعمت ہے

واصف ایک بہت پیارا بچہ تھا، وہ سب کا کہنا سنتا تھا اور بڑوں کا ادب بھی کرتا تھا۔ وہ بہت کم شرارتیں کرتا تھا۔ اس میں جہاں بہت سی خوبیاں تھیں تو ایک برائی بھی تھی، وہ یہ کہ جب بھی وہ نہانے، ہاتھ منہ دھونے یا واش روم جاتا، نل ٹھیک سے بند نہیں کرتا تھا اور گلاس میں بچ جانے والا پانی پھینک دیتا تھا۔ ساتھ ہی اس کے واش روم سے نکل آنے کے بعد نل مسلسل ٹپکتا رہتا اور بہت سارا پانی ضائع ہو جاتا۔ اس بات پر واصف کو گھر کے بڑوں سے بھی ڈانٹ پڑتی رہتی تھی لیکن وہ کوشش کے باوجود ان کی اس بات پر عمل نہیں کر پاتا تھا۔

اسکول کی چھٹیوں میں  واصف اپنے پاپا کے ساتھ شادی میں شرکت کرنے کے لیئے گھر سے گاؤں گیا۔ صبح کے وقت یہ لوگ گاؤں پہنچے۔ وہاں کا موسم بہت اچھا تھا۔ واصف کو ٹھنڈی ہوا اور گاؤں کی ہریالی دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی تھی۔ وہ یہی سوچ رہا تھا کہ گاؤں میں تو اتنی کُھلی اوربڑی جگہ ہے، جہاں کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔ جبکہ شہروں میں تو بہت چھوٹی چھوٹی گلیاں تھیں۔ اس کی فیملی جن رشتہ داروں کے یہاں شادی میں شرکت کرنے آئی تھی، ان کی شادی کی تقریبات بخیروعافیت نمٹ گئی تھیں، لہٰذا واصف کے ابو نے ولیمے کے اگلے دن شام کو واپس جانے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ انہوں نے شہر روانہ ہونے سے پہلے سب کو گاؤں کی سیر کروائی، واصف نے مزے سے درختوں سے پھل توڑ کر کھائے، وہ لوگ ٹیوب ویل پر خوب نہائے۔ یہاں اور تو کوئی مسئلہ نہیں تھا بس پینے کا پانی دور شہر سے بھر کر لانا پڑتا تھا۔

شام کو بادل آئے اورموسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ رات بھرتیزبارش ہوتی رہی، صبح جا کر جب بارش تھمی تو ہر طرف جل تھل ہوگیا، رابطہ سڑکیں منقتطع ہو گئیں، راستہ کھلنے تک انہیں گاؤں ہی میں قیام کرنا پڑا۔ بارش کی وجہ سے نہر کا سارا پانی مٹی والا ہو گیا اور پینے کے پانی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ گاؤں کے گھروں میں موجود پینے کا پانی ختم ہو گیا تو انہیں کنویں کا کھارا پانی استعمال کرنا پڑا۔ واصف پیاس ہونے کے باوجود یہ پانی اپنے حلق سے اتار نہیں پارہا تھا۔ بارشوں کی وجہ دودن مزید واصف اور اس کے پاپا کو گاؤں میں قیام کرنا پڑا، لیکن اس دوران صاف پانی کا حصول ان کے لئےبہت بڑا مسئلہ بن گیا۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند پڑا تھا۔ دو دن سے یہ لوگ نہائے بھی نہیں تھے، کپڑے بھی گندے ہو رہے تھےلیکن گاؤں کی بجلی ابھی تک بحال نہ ہو سکی تھی۔ واصف اپنے گھر میں روز نہاتا تھا۔ یہاں پانی کی اتنی پریشانی دیکھ کر اسے اپنے گھر کی سہولتیں یاد آگئیں۔ واصف کو اداس دیکھ کر اس کے پاپا اسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’بیٹا!امید ہے کہ کل سے بس سروس شروع ہو جائے گی تو ہم اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔‘‘واصف کی آنکھوں میں یہ بات سن کر آنسو آگئے۔ اس کے پاپا واصف کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہوگئے اور بولے، ’’بیٹا کیا بات ہے گھر اتنا یاد آ رہا ہے؟‘‘

واصف بولا۔ ’’پاپا!ہم تو اپنے گھر چلے جائیں گے لیکن یہ لوگ تو کہیں نہیں جا سکتے۔ ان لوگوں کو تو انہی حالات میں زندگی گزارنی ہے۔ پاپا! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ نل کھولو تو پانی فوراً مل جاتا ہے لیکن ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ ہم کبھی ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے جو ہمیں حاصل ہیں۔ پاپا! آج میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ پانی بہت احتیاط سے استعمال کروں گا اور کبھی بھی پانی ضائع نہیں کروں گا۔ ’’واصف کے پاپا اس کی بات سن کر بولے۔ ’’ہاں بیٹا!ہمیں اللہ تعالی کی دی ہوئی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی قدر کرنی چاہیئے۔‘‘

سڑکوں کے ذریعے شہر سے رابطہ بحال ہوا تو واصف اپنے پاپا کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔ کھانے کے بعد واصف نہا دھو کر کھانا کھانے لگا تو اس کی ماما اس سے بولیں۔’’بیٹا!نل توٹھیک بند کیا ہے ناں؟‘‘وہ فوراً بولا۔ ’’جی ماما۔۔۔! میں نے پانی کا صحیح استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ میں نل بھی ٹھیک سے بند کروں گا اور پینےکا پانی بھی کبھی ضائع نہیں کروں گا، میں جانتا ہوں کہ پانی ایک بڑی نعمت ہے، اس لیے آئندہ آپ کو مجھ سے پانی ضائع کرنے کی کبھی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘ واصف کی ماما حیرانی سے اس کی شکل دیکھنے لگیں تو واصف کے پاپا بولے۔ ’’ہاں بیگم! ہمارا بیٹا اب بہت سمجھدار ہو گیا ہے۔ اب اسے یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ بیٹا نل ٹھیک سے بند کرو پانی ضائع نہ کرو۔‘‘ یہ سن کر واصف مسکرانے لگا۔