لڑائی کا انجام

کسی جنگل کا قصہ ہے کہ ایک سہانی صبح ایک گیدڑ نے ایک بکرا شکار کیا اور کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔ ابھی وہ کچھ کھا بھی نہ پایا تھا کہ اچانک ایک بھوکا شیر وہاں آ گیا اور آتے ہی گیدڑ پر حملہ کردیا۔

گیدڑ نے اپنے ہاتھوں سے شکار نکلتے دیکھا تو دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگا۔ اس نے دل میں سوچا، ایسے مفت خور شیر سے کیا ڈرنا، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ اس بکرے کو میں نے شکار کیا ہے اور جب محنت میری ہے تو اسے کھانے کا حق بھی مجھے ہے۔ یہ سوچ کر گیدڑ انتہائی غصے میں شیر سے الجھ گیا۔ شیر تو پہلے ہی لڑائی کے لیے تیار تھا، گیدڑ نے حملہ کیا تو اس نے بھی مقابلہ شروع کر دیا۔ کافی دیر تک دونوں میں لڑائی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ دونوں لڑتے لڑتے لہولہان ہو گئے۔ زخمی ہو جانے کے باوجود نہ گیدڑ ہار مانتا نظر آرہا تھا نہ شیر۔ خوفناک لڑائی جاری رہی، آخر دونوں زخموں سے چور ہوگئے اور بے دم ہو کر زمین پر گر پڑے۔ پہلے والا جوش اور جذبہ اب غائب ہوچکا تھا، اب تو دونوں میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اٹھ کر اپنے اپنے گھر کی طرف چلے جاتے۔

ایک چالاک لومڑی بڑی دیر سے دور کھڑی یہ تماشہ دیکھ رہی تھی۔ وہ بڑی موقع شناس تھی۔ اسے معلوم تھا اس لڑائی سے دونوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ بھلا لڑ جھگڑ کر کبھی کسی کو کچھ ملا ہے؟ وہ شیر اور گیدڑ کی لڑائی کے خلاف تھی اور انہیں زخمی دیکھ کر افسوس کر رہی تھی لیکن موقع سے فائدہ اٹھانا اسے خوب آتا تھا۔ اس لیے وہ بلاجھجک آگے بڑھی اور بکرے کو شیر اور گیدڑ کے سامنے سے گھسیٹتے ہوئے بآسانی اپنے گھر لے گئی۔ شیر اور گیدڑ بے بسی کے عالم میں یہ منظر دیکھتے رہے۔ وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ لڑائی جھگڑے کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔