سرکاری خرچے پر

چوری کے الزام میں ایک ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ چور نے اپنی صفائی میں کہا۔

"جناب! میں اس بھری دنیا میں اکیلا ہوں، میں بے روزگار ہوں، رہنے کے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ ان حالات میں مجبوراً مجھے چوری کرنی پڑی۔”

جج نے یہ سن کر ملزم سے کہا۔ "تمہاری کہانی بڑی دردناک ہے، اس لیئے میرا یہ فیصلہ ہے کہ دو سال تک تمہیں سرکاری خرچے پر کھانا مہیا کیا جائے۔ دوست بنانے کا موقع دیا جائے اور رہنے کو مفت جگہ دی جائے۔ اور یہ آسانی جیل میں ہی مل سکتی ہے۔”