انتقال بھی نہیں ہوا

ایک بچہ عامل صاحب کے پاس گیا اور ان سے کہا۔ "مجھے اپنے دادا کی روح سے بات کرنی ہے۔ عامل اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے گیا جہاں اگربتیاں جل رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک بھاری آواز آئی۔ "کیوں آئے ہو بر خوردار؟”

عامل نے بچے سے کہا۔ "تمہارے دادا کی روح آئی ہے۔ پوچھو کیا پوچھنا ہے۔”

بچے نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔ "دادا جان! مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی روح یہاں کیا کر رہی ہے، ابھی تو آپ کا انتقال بھی نہیں ہوا۔”