ہمارے گھر

ہمارے گھر

ایک لڑکے کے والد کا جنازہ جا رہا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ زاروقطار روتا بین کرتا جا رہا تھا۔ "ابا جان! آپ تو وہاں جارہے ہیں جہاں پانی ہے نہ کھانا، روٹی ہے نہ کپڑا، چراغ ہے نہ روشنی، نہ کوئی پڑوسی جس کا کچھ سہارا ہو، نہ قالین ہے نہ کوئی چارپائی، نہ بستر ہے نہ تکیہ۔۔۔۔”

ایک اور لڑکا بھی اپنے والد کے ساتھ میت کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔ اس نے یہ باتیں سنیں تو ڈرتے ڈرتے اپنے والد سے بولا۔ "اباجان! کیا یہ میت ہمارے گھر لے جا رہے ہیں؟”