فکر کی کیا بات ہے

 

گاہک۔ "یہ آپ نے کیسا صابن دیا ہے، میرے سارے کپڑے سکڑ گئے۔”

دکاندار۔ "تو اس میں فکر کی کیا بات ہے۔ اسی صابن سے آپ بھی نہالیں، کپڑے برابر آجائیں گے۔”