اخلاقی فرض

ایک پروفیسر صاحب کافی دیر سے رکشے والوں کو ہاتھ دے رہے تھے مگر کوئی رُک ہی نہیں رہا تھا۔ اتنے میں ایک موٹرسائیکل ان کے سامنے آکر رکی اور ایک نوجوان نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

گھر پہنچ کر پروفیسر صاحب نے کہا۔ "میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔”

نوجوان بولا۔ "کوئی بات نہیں اباجان! یہ تو میرا اخلاقی فرض تھا۔”