مجازی خدا

(’’شیطانیاں‘‘ از ڈاکٹر یونس بٹ سے اقتباس)

میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس دنیا کا سب سے پہلا مہذب جانور کون سا ہے تو میں کہوں گا ’’خاوند‘‘۔ میں نے پوچھا ’’دوسرا مہذب جانور؟‘‘ تو جواب ملا ’’دوسرا خاوند۔‘‘
خاوند کو اردو میں عورت کا مجازی خدا اور پنجابی میں عورت کا بندا کہتے ہیں۔ جبکہ گھر میں اسے کچھ نہیں کہتے۔ جو کچھ کہتا ہے وہی کہتا ہے۔ سارے خاوند ایک جیسے ہوتے ہیں صرف ان کے چہرے مختلف ہوتے ہیں تاکہ ہر کسی کو اپنا اپنا خاوند پہچاننے میں آسانی ہو۔ ہر خاوند یہی کہتا ہے کہ مجھ جیسا دوسرا خاوند پوری دنیا میں نہیں ملے گا اور عورت اسی امید پر دوسری شادی کرتی ہے مگر اسے ہر جگہ کوئی دوسرا نہیں ملتا، خاوند ہی ملتا ہے۔
عورت مرد کا اس دنیا کا سب سے پہلا رشتہ خاوند بیوی ہی کا ہے اور پھر طوفان نوح سے اس دنیا کے ہر جاندار کا صرف یہی رشتہ بچا تھا۔ مختلف ادوار میں انسان ہر براعظم پر مختلف صورتوں میں پایا جاتا رہا لیکن وہ صورت جو ہر دور میں بکثرت ملتی رہی وہ خاوند ہی ہے۔ پھر یہی تو وہ چور دروازہ ہے جس کے رستے انسان مجازی خدا بن جاتا ہے۔ ’’ف‘‘ کہتا ہے انسان شادی خدا بننے کے لئے نہیں باپ بننے کے لئے کرتا ہے۔ شاید اسی لئے ماشا اللہ ’’ف‘‘ کے گھر میں ہر جنس کا بچہ ہے یعنی پورے تین بچے ہیں۔ ویسے میرے خیال میں بیوی کا اصل بچہ تو خاوند ہوتا ہے جو کبھی بڑا نہیں ہوتا۔ مرد دنیا میں دوبار یتیم ہوتا ہے ایک بار جب اس کی ماں فوت ہوتی ہے اور دوسری بار اس وقت جب اس کے بچوں کی ماں فوت ہوتی ہے۔
(’’شیطانیاں‘‘ از ڈاکٹر یونس بٹ سے اقتباس)