توازن طرزِ زندگی سے اچھی صحت کا حصول ممکن ہے

کھایا پیا چہرے سے نظر آتا ہے۔۔۔!

بزرگ یہ محاورہ یوں ہی نہیں کہا کرتے! اصناف کے دونوں گروہوں کے لیئے یہ بے حد اہم ہے کہ درست غذائیت کے مفہوم کو سمجھ کر غذا کا انتخاب کریں۔ اپنی خوراک کو تین کی جگہ چار سے پانچ حصوں میں تقسیم کرلیں تاکہ اہم غذائی اجزا بر وقت جسم کا حصہ بن سکیں۔ بے وقت کی بھوک تندرستی کی نہیں بلکہ جسم میں کسی ناگزیر وٹامن یا منرل کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

چہرہ مجموعی صحت کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کتنے صحت مند ہیں یہ آپ کا چہرہ بتا دیتا ہے۔ کھانے پینے میں احتیاط کرنا اچھی بات ہے مگر کھانا نہ کھانا بہت سی بیماریوں اور خاص کر اعصابی اور جسمانی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ڈائیٹ کا مطلب خوراک میں سے چکنے، مرغن کھانے اور ڈیری پراڈکٹس کو مکمل طور ہر ترک کرنا نہیں ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جو خوراک کے لیئے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ ڈائیٹ کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا طرزِ خوراک ہے جس میں محدود اور مخصوص غذا استعمال کی جاتی ہے یا ہر قسم کے ایسے کھانوں سے پرہیز ضروری ہے جن میں زیادہ چکنائی شامل ہو یا پھر مرچ مصالحے ان کا خاص جُز ہوں۔ ماہرین صحت بھی اس امر پر متفق ہیں کہ صحت مند جلد اور فزیکل فٹنس کا دارومدار اچھی خوراک اور متوازن طرزِ زندگی پر ہے۔

ناشتہ

انڈے میں شامل منرلز اور وٹامنز مجموعی صحت کے لیئے ناگزیر ہیں۔ یہ جلد کو نئی رعنائی دیتے ہیں۔ بالوں کی کھوئی ہوئی چمک بحال کرتے ہیں۔ ایک انڈا (ابلا ہوا یا فرائی)، برائون بریڈ کے دو سےتین سلائس، ایک کپ دودھ یا جوس، یہ ناشتہ بھرپور غذائیت کا حامل ہے اور پورے دن کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔

 

برنچ

ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے درمیانی وقفے کے دوران ایک سے دو پھل اور سادہ قہوہ لیں۔ یہ چھوٹی سی بھرپور مِیل دوپہر کے کھانے تک چاک و چوبند رکھتی ہے۔

دوپہر کا کھانا

ایک چپاتی یا ایک کپ چاول، فرائی سالن، دال، سبزی یا مچھلی کا ایک ٹکڑا (تکہ یا بھنا ہوا)، ایک پھل۔ دوپہر کے لیئے یہ کھانا مثالی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لنچ کے لیئے مختلف سبزیوں اور پھلوں کی سلاد اور دہی بھی کھائی جا سکتی ہے۔

شام کی چائے

چائے، کافی، فلیورڈ دودھ یا ملک شیک اور لسی، اس وقفے میں آپ ان لوازمات کے ساتھ بسکٹس، پنیر یا چکن کا سینڈوچ، میوہ یا پھل کچھ بھی موڈ کی مناسبت سے کھا سکتے ہیں

رات کا کھانا

اس وقت جسم اور اس کے تمام نظام آرام کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر نظامِ ہضم کوئی بھی ثقیل غذا ہضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ پتلی چپاتی یا چاول، شوربہ والا سالن، اسٹیمڈ یا بیکڈ مچھلی یا مرغی کا سلائس، سوئیٹ ڈش کے تین کھانے کے چمچ رات کے کھانے میں لیئے جا سکتے ہیں۔

اوقات کار

صبح کا ناشتہ آٹھ بجے، برنچ گیارہ بجے، دوپہر کا کھانا ایک بجے، شام کی چائے چار بجے، رات کا کھانا آٹھ بجے۔

بہت سے افراد کو رات کا کھانا جلد کھانے کے کچھ دیر بعد ہی بھوک ستانے لگتی ہے۔ اگر آپ انڈر ویٹ ہیں تو بھوک لگنے کی صورت میں دس سے گیارہ کے درمیان ایک ہلکا اسنیک لے سکتے ہیں۔

بہترین صحت کے لیئے یہ ضروری ہے کہ ہر کام کی طرح کھانے کے اوقات کار بھی طے کر لیئے جائیں۔ جسم ایک مشینری ہے اور اس کے ہر پُرزے کو کھانے کی شکل میں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناسب یہی ہے کہ انہیں بروقت خوراک پہنچائی جائے۔ کم عمری میں ہی اچھی اور صحت بخش خوراک کا نظریہ سمجھ لینے میں ہی فائدہ ہے۔ جتنا ممکن ہو پھل اور سبزیوں کو غذا کا لازمی حصہ بنا لینا چاہیئے۔ جُوسز اور سادہ پانی جسم کے اندر سے تمام زہریلے مواد فضلہ کے ذریعے باہر خارج کر دیتے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کا قدرتی ریشہ جلد، بالوں اور ناخنوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یعنی یہ مجموعی صحت کے لیئے ناگزیر ہے۔

ورزش

متوازن ڈائیٹ کے ساتھ ورزش بھی نہایت ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش کے لیئے ضروری نہیں کی کسی جِم کا رُخ کیا جائے۔ ہلکی پھلکی ورزشیں آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ جسمانی مشقت کے لیئے کسی ایسی سرگرمی کا انتخاب کریں جو طویل عرصے یعنی عمر کے بڑھتے دور میں بھی قابلِ عمل ہو۔ جاگنگ، سائیکلنگ، واک، تیراکی وغیرہ آسان ورزش کے زمرے میں آتے ہیں۔ اچھی صحت کا دارومدار درست غذائیت اور متوازن طرزِ زندگی پر انحصار کرتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ روزانہ کی روٹین اور کام کے اوقات کے درمیان کس طرح خود کو فٹ رکھ سکتے ہیں۔