گھٹنوں کا جان لیوا درد!

وزن کم کر لیجئے درد دور ہو جائے گا۔۔۔

جواد قریشی

یوں تو جوڑوں کے درد کا نشانہ اکثر خواتین بنتی ہیں مگر بہت سے مرد حضرات بھی اس تکلیف دہ بیماری سے بچ نہیں پاتے۔ خاص طور پر وہ خواتین و حضرات جنہیں اپنے روزمرہ کے امور کی انجام دہی کرسی پر بیٹھ کر کرنی پڑتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پٹھے بتدریج اکڑنے لگتے ہیں یہ عمل عمر کے مختلف مراحل پر مختلف ہوتا ہے اور ان افراد کے ساتھ زیادہ ہوتا ہے جو عمر کا ایک طویل حصہ باقاعدگی سے کسی ایسے کام پر صرف کردیتے ہیں جس سے ان کے بیٹھنے کا غیر فطری انداز مستقل برقرار رہتا ہے۔

طبی ماہرین کیا کہتے ہیں ۔۔۔؟

ماہرانہ رائے کے مطابق کسی بھی ایسے کام کے دوران اپنے گھٹنوں پر حد درجہ دباؤ ڈالنے سے گریز کریں۔ جب موقع ملے ٹانگوں کو کھڑے ہو کر ہلکے ہلکے جھٹکا دیں۔ بیٹھ کر ٹانگیں سیدھی کریں، کچھ دیر کے لیے پاوں کو جوتوں سے آزاد کردیں اور وقفے وقفے سے مختصر ہی سہی چہل قدمی ضرور کریں۔

فزیوتھراپسٹ اس ضمن میں متعدد ورزشیں اور علاج بتاتے ہیں۔ دواؤں کے ساتھ مساج سے دوران خون تیز کیا جاتا ہے تاکہ پٹھوں کا کھنچاؤ قدرتی طور پر ختم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اگر گھٹنوں میں درد کا مرض شدت اختیار کرجائے تو جوڑوں کی سرجری کی جاتی ہے۔ آرتھرواسکوپی طریقہ علاج بھی گھٹنوں کے پرانے درد میں مبتلا افراد کو تجویز کیا جاتا ہے مگر اس سے ہونے والا آرام بہت کم عرصے کے لئے ہوتا ہے اور یہ کوئی مکمل علاج بھی نہیں ہے۔ ایکوپنکچر (چینی طریقہ علاج) اور مساج کے خاص طریقوں سے بھی درد پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ یہ علاج بھی خاطرخواہ فائدہ نہیں دیتا اور مریض کے لئے آخری حل کے طور پر سرجری باقی رہ جاتی ہے۔

ماہرین کی ایک بڑی تعداد اس نتیجے پر متفق ہے کہ باقاعدہ واک اور ہلکی پھلکی ورزشوں سے گھٹنوں کے درد کو ابتدائی مرحلے پر ہی روکا جا سکتا ہے۔ وزن بڑھنا بھی گھٹنوں کیلئے خطرناک ہے۔ مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ وزن کے باعث بھی گھٹنوں پرر زور پڑتا ہے اور انسان چلنے پھرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • گھٹنوں یا جوڑوں کے درد سے بچنے کیلئے مناسب ترین طریقہ یہی ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے دس سے پندرہ منٹ ورزش کی جائے۔ جس میں گھٹنوں پر بہت زیادہ وزن پڑتا ہوں یا انھیں بار بار موڑنا پڑے۔ چہل قدمی ٹانگوں کے پٹھوں اور جوڑوں کے لئے مناسب ترین ورزش مانی جاتی ہے مگر گھٹنوں کی تکلیف کی صورت میں معالج کے مشورے کے بغیر کسی قسم کی بھی ورزش نہیں کرنی چاہیے۔
  • جاگنگ یا تیز قدمی سے پہلے جسم کو کچھ دیر گرم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر صبح سویرے اٹھتے ہی جاگنگ پر جانے کے بجائے معمولات سے فارغ ہو کر ہلکی پھلکی ورزش کے بعد جاگنگ شروع کریں۔ اس طرح جسم اپنا مخصوص درجہ حرارت حاصل کرلیتا ہے اور براہ راست جوڑوں پر اثر سے محفوظ رہتا ہے۔
  • کسی بھی مسخت ورزش کے پروگرام پر آغاز سے پہلے ایک لائحہ عمل تیار کرلیں۔ اگر آپ رانوں کے لیے مخصوص ورزش کر رہے ہیں تو ہر بار اس عمل کو دہرانے سے پہلے درمیان میں مناسب وقفہ ضروری ہے۔
  • ایسی ورزشیں جن میں حراروں کے جلنے کا عمل تیز ہو جیسے دوڑنا یا سیڑھیاں چڑھنا اترنا یہ ورزشیں براہ راست گھٹنوں کو متاثر کرتی ہیں لہذا جوڑوں کے درد کا شکار افراد ان سے گریز کریں یا احتیاط کے ساتھ عمل کریں۔
  • یہ بھی ضروری ہے کہ ورزش کی نوعیت کے مطابق  جوتوں کا انتخاب کیا جائے۔
  • ورزش میں زیادتی کی وجہ سے گھٹنوں کے جوڑ شدید متاثر ہو سکتے ہیں لہذا آپ میں وزن بڑھنے کی فطری صلاحیت زیادہ ہے تو اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیے۔