کریلا ۔ کڑوی مگر صحت کی مٹھاس سے بھرپور سبزی

بہت سے لوگ کریلے سے تیار ڈشز کھانا پسند نہیں کرتے کہ انہیں اس کی کڑواہٹ برداشت نہیں ہوتی مگر وہ لوگ شاید اس کڑواہٹ کے پیچھے چھپی فائدہ مند خوبیوں سے ناآشنا ہوتے ہیں تب ہی اس سبزی سے گریز کرتے ہیں، ورنہ انہیں اس سبزی کی شفا بخش خوبیوں کا علم ہوجائے تو پھر وہ شاید کسی اور سبزی کی طرف دیکھیں بھی نہیں۔

کریلے میں لاتعداد بیماریوں کے لیئے شفا ہے۔ یہ تاثیر میں ٹھنڈ۱، ہلکا دست آور اور کڑوا ہوتا ہے۔ اس کو استعمال کرتے رہنے سے یرقان بخار، جریان، کف، پیٹ کے کیڑے، پت اور خون کی خرابی جیسے امراض سے شفایابی حاصل ہوتی ہے۔ یوں تو ان ہرے بھرے کریلوں کو ان کی بیل سے توڑنے کے بعد خشک، اندھیری اور سرد جگہ پر کئی دنوں تک قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ انہیں فریج میں سلاد کے ریک میں رکھیں۔

ہمارے یہاں اکثر خواتین کریلا پکاتے ہوئے اس کی کڑواہٹ ختم کرنے کی غرض سے  کریلے کے قتلوں کو ڈھیر سارا نمک لگا کر کچھ دیر کے لیئے رکھ دیتی ہیں، اس کے بعد جب کریلوں کا پانی نکل جاتا ہے تو اسے صاف پانی سے دھو کر پھر پکاتی ہیں۔ یہ طریقہ بہت ہی غیر صحت مند ہے، اس سے کریلوں میں موجود صحت بخش غذائی اجزا بشمول نمکیات خارج ہوجاتے ہیں۔ اس طریقے سے تیار سبزی محض بھوک تو مٹا سکتی ہے پر کوئی غذائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ کریلوں کی کڑواہٹ ختم کرنے کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ اس کی تیاری میں پیاز کی زیادہ مقدار استعمال کریں اور آدھ کلو کریلے کی پکتی ہوئی ہانڈی میں ایک یا آدھ چائے کا چمچ چینی ملادیں۔ آپ کو اس ڈش کی کڑواہٹ بھی پھر بھلی لگے گی۔

کریلے سے مزے مزے کی ڈشز بشمول کریلا گوشت، چکن کریلا، کریلے کی بھجیا اسٹفڈ کریلا قیمہ سے لے کر کریلے کا اچار تک تیار کیا جاتا ہے۔ کریلے کو اگر صحت بخش ٹانک سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ معدے کے کئی امراض کے لیئے ایک مفید دوا، ایک پُر ہضم غذا ہے۔ گٹھیا اور جوڑوں کے امراض نقرس یا چھوٹے جوڑوں کا درد، تلی و جگر کے امراض کے علاج کے حوالے ایک بہترین سبزی ہے۔ اس سبزی کے بیج پیٹ کے کیڑے مارنے والی ادویات میں بھی شامل کیئے جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے علاج میں حکماء اور اطباء کریلے کے بیج، گودے، پتوں یہاں تک کہ جڑوں کو بھی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے آئے ہیں۔ حکماء اور اطباء کریلے کے پتوں کا پلٹس سر درد اور جلاد کے جل جانے والے حصوں کے علاج کے لیئے استعمال کرتے ہیں جبکہ اس کی جڑوں سے بواسیر کے مرض کا علاج کیا جاتا ہے۔