کمر گردن اور پٹھوں کا درد

ہمارا معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے۔ عالمگیریت اور کارپوریٹ کلچر نے معیارِ زندگی کے ساتھ طرزِ زندگی بھی بدل دیا ہے، اب گاؤں دیہات ہوں یا شہر، زندگی گذارنے کے ڈھنگ بدل چکے ہیں۔  فرق صرف اتنا ہے کہ  شہروں میں ٹیکنالوجی کی فراوانی زیادہ ہے۔  یہاں کے  لوگ دن بھر مشینوں کے جال میں جکڑے رہتے ہیں، گھر دفاتر اور دیگر معاملات زندگی کے لئے مشینوں کا سہارا لینا عادت سے زیادہ ضرورت بن گیا ہے۔ دفاتر میں مسلسل بیٹھے رہنا، بیٹھ کرنہ کھانا، کھانا کھا کر بیٹھ جانا تھکن کی حالت میں بھی کام کرتے رہنا، غیر صحت بخش کھانے اسنیکس، چائے، کافی اور مسلسل کمپیوٹر کا استعمال صحت کے لئے مضر ہے۔

اس ضمن میں نیند کی کمی بھی بہت سے مسائل کھڑے کر سکتی ہے، روزمرہ معمولات میں شامل بہت سی عادات گردن کے درد کا باعث بنتی ہیں۔  مثال کے طور پر گھنٹوں میز پر جُھک کر لکھتے یا پڑھتے رہنا، ٹی وی یا دیگر کاموں کے دوران ایسے الفاظ انداز میں بیٹھنا یا لیٹنا جس سے گردن کے غیر فطری زاویے بنیں۔ ٹی وی یا کمپیوٹر اسکرین کو بہت اوپر یا نیچے کی طرف گردن کر کے دیکھنا، غیر آرام دہ حالت میں سونا اور جاگنا، ورزش کے دوران بے احتیاطی کرنا وغیرہ ان تمام طریقوں سے گردن کے درد جیسے عوارض بڑھ رہے ہیں، ایسی صورتحال میں درد سب سے پہلے گردن کے پٹھوں کو متاثر کرتا ہے بیٹھنے کا ایسا انداز جس میں سر کا رُخ مسلسل ایک طرف رکھا جائے گردن کے پٹھوں کو اکڑا دیتا ہے اور ان میں سوجن آجاتی ہے ایسا گردن کا درد بام یا زیتون کے تیل کے مساج سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ برف کی سکائی سے بھی کافی آرام ملتا ہے اس کے علاوہ بالترتیب پہلے برف اور پھر استری سے گرم کر کے کپڑے کی سنکائی پندرہ سے بیس منٹ تک مسلسل کی جائے تو درد تقریباً غائب ہو جاتا ہے۔ خیال رہے کہ ان دونوں ٹریٹمنٹس کے درمیان ایک گھنٹے کا وقفہ دینا چاہیے۔

معالجین کا کہنا ہے کہ گردن کے مختلف انداز جیسے اسے کسی جانب موڑنا ایک رُخ میں مسلسل رکھنا اور سوتے ہوئے مختلف انداز اس کے پٹھوں کو اینٹھن کی شکایت میں مبتلا کردیتے ہیں بظاہر یہ درد ہے مگر اس کا گہرا تعلق جدید طرز زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔ سنگین نوعیت کی بیماری، ریڑھ کی ہڈی پر پرانا زخم یا مہرے ہل جانے کے باعث بھی گردن کا درد ہوتا ہے۔ عمر رسیدگی بھی جسم کے مختلف پٹھوں کو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور کر دیتی ہے ہڈی وجوڑوں کے امراض میں بھی اضافے کی ایک وجہ غلط طرز زندگی ہے ایسا درد جو محض پٹھوں میں بے قاعدگی سے ہوا اسے درد کش ادویات سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ شدید درد یا پیچیدہ صورتحال میں سافٹ کالر بھی خاص مدت کے لئے گردن کو سہارا دینے اور اسے درست رُخ میں واپس لانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

پٹھوں میں کھنچاو ہو جانا بھی عام ہے اور کسی بھی کام کے دوران یہ ہوجاتا ہے۔ ورزشوں کے ساتھ درد کش ادویات بہترین علاج ہیں۔ فریکچر (ہڈی ٹوٹنا) کی صورت میں معالج ایکسرے سے نشاندہی کرتا ہے اور مسئلے کی نوعیت کے پیش نظر علاج تجویز کرتا ہے۔ مسابقت کی دوڑ اور غیر صحت بخش طرز زندگی کے ساتھ گردن کے درد کے علاوہ جسم کے دیگر اعضا متاثر ہوتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کی بناوٹ میں کسی بھی قسم کی بیرونی یا اندرونی چوٹ یا تکلیف کی وجہ سے بھی گردن تک درد بڑھ سکتا ہے۔ جسمانی کمزوری خصوصاً بازوؤں میں درد اور دُکھن گردن کے درد کا باعث بن سکتا ہے آرام طلب طرز زندگی نے نئے نئے عوارض کو جنم دیا ہے لوگوں میں صحت کے متعلق بنیادی شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سوتے وقت اونچا تکیہ رکھنے سے بھی ریڑھ کی ہڈی کی قدرتی ساخت متاثر ہوتی ہے ایسے افراد جنہیں گردن میں درد کی شکایت ہو انہیں تکیہ کے بغیر سونا چاہیے، نیز آرتھوپیڈک سرجن کی مشاورت سے ورزش کی جائے عام طور پر لوگ اس درد کو نظر انداز کرتے ہیں اور تکیہ بدلنے یا بام میں مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہیں یہ طریقہ سراسر غلط ہے۔ کسی بھی قسم کے درد، کنھچاؤ یا تکلیف کی صورت میں معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اعصابی تنائو کے ساتھ کام کی انجام دہی، مسلسل ایک ہی پوزیشن میں جسم کئی گھنٹوں تک مصروف رکھنے، اور کسی پرانے درد کو نظر انداز کرنے کی صورت میں بھی پٹھوں میں مستقل درد رہنے لگتا ہے اس تکلیف دہ درد سے بچنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر کی جا سکتی ہیں۔  دفاتر میں کام کے دوران ایسی کرسی استعمال کی جائے جس کی پشت آرام دہ ہو۔ کمپیوٹر کے مانیٹر اسکرین کی پوزیشن بھی آنکھوں کے مثبت زاویے کی پہنچ میں ہو۔ کام کی نوعیت میں جھکنا ضروری ہو تو بھی تھوڑے تھوڑے وقفے سے گردن کو سیدھا کر لینا چاہیے۔ تکیہ کے علاوہ مسہری کا میٹرس یا پلنگ کا گدا بھی بہت نرم اور آرام دہ ہونا ضروری ہے۔ یاد رکھیے، کسی بھی قسم کا دباؤ یا تھکن گردن میں درد کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا باقاعدہ ہلکی پھلکی ورزش اور احتیاطی تدابیر کو معمولات میں شامل کرنا ہی عقل مندی ہے