کمر درد کے لیے ورزش فائدہ مند

کمر کا درد عام طور پر ہر شخص کو ہوتا ہے۔ یہ نہایت ہی تکلیف دہ درد ہوتا ہے اور مشکلوں سے ہی جان چھوڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمر درد کے لیے دوائیوں سے زیادہ فائدہ مند ورزش ہے۔

تحقیق کرنے والے ماہرین نے دنیا بھر میں 30 ہزار سے زائد افراد پر یہ تجربہ کیا اور نتیجہ نکلا کہ سال بھر بعد جن لوگوں نے باقاعدگی سے ورزش کی تھی ان کی کمر کے درد میں 40 سے 45 فیصد کمی آئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ورزش ہی اس مرض کا آسان علاج ہے تو پھر یہ اتنا عام کیوں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کمر درد سے نجات کے لیے ڈاکٹر مختلف اینٹی بائیوٹکس اور دیگر علاج جیسے بیلٹ پہننا وغیرہ تجویز کرتے ہیں۔ یہ چیزیں پٹھوں کو کمزور کردیتی ہیں۔ چنانچہ کمر درد کا شکار افراد اگر ورزش کریں تو وہ مزید تکالیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کی تجویز ہے کہ کمر درد کے لیے ورزش ہی سب سے آسان علاج ہے۔ کمر کا درد جسمانی حرکات میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے خاص طور پر ان لوگوں میں جو آفس میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور کم چلتے پھرتے ہیں۔

کمر درد سے نجات دلانے والی آسان ورزشیں

پہلی ورزش بچے کی طرح لیٹنا ہے۔ الٹا لیٹ کر ایک گھٹنے کو اس طرح اوپر کرلیں کہ آپ کا گھٹنا معدے پر دباؤ ڈالے۔ اس طریقے سے جتنی دیر تک ممکن ہو تب تک آرام کریں۔

یہ ورزش کمر درد میں کمی کے لیے نہایت معاون ہے۔

یہی ورزش سیدھا لیٹ کر بھی دہرائی جاسکتی ہے۔ سیدھا لیٹ کر گھٹنے کو اوپر (پیٹ کی طرف) اور نیچے کی سمت حرکت دیں۔ یہ عمل 7 بار دہرائیں۔

سیدھا لیٹ کر پاؤں کے پنجوں کو اپنی سمت اور مخالف سمت حرکت دیں۔ یہ عمل 6 سے 7 بار دہرائیں۔

ایک اور ورزش کے لیے سیدھا لیٹ کر سانس کی آمد و رفت کے ساتھ بازوؤں کو اوپر اٹھائیں اور نیچے کی طرف کریں۔ لیکن خیال رہے کہ اس دوران کمر یا پشت تکلیف کا شکار نہ ہوں۔

انتباہ: اگر کمر درد شدید ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے قبل ہرگز ان تجاویز پر عمل نہ کریں۔ کسی ورزش کے دوران کمر میں تکلیف کا احساس بڑھ جائے تو اس ورزش کو کرنے سے گریز کریں۔