غصہ چھوڑیے ۔ ہمیشہ صحت مند رہیئے

مزاج میں شگفتہ تبدیلیاں انسان کو السر اور امراض قلب سے بچاتی ہیں۔

وسیم عبداللہ

غصہ یوں تو بظاہر معمولی لفظ ہے لیکن انسانی زندگیوں میں اس کی جو غیرمعمولی اہمیت ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ غصہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حرام ہے۔ غصہ عقل کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔ معاف کر دینے اور اپنی غلطی پر نادم ہونے کی عادت اپنا کر غصے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں معاف کردینے کے رویے کم دیکھنے میں آتے ہیں اور لوگ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر نظر انداز کرنے اور معاف کر دینے کی خوبی کو رواج مل جائے تو جسم و روح کے کئی امراض کے لیے اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں بہت سے انسان ناانصافیوں کا شکار ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ مختلف ماحول میں پرورش پاتے ہیں اور ہمارا اکثر تلخ حالات اور واقعات سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔  کبھی قدم قدم پر ہمیں دل آزاری سہنی پڑتی ہے۔ کبھی بے روزگاری، کبھی اپنوں کی بے اعتنائی، کبھی دوستوں کی بے رخی جیسے دکھ سکھ سہنے پڑتے ہیں۔

دور جدید کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان باتوں کی وجوہات میں نا انصافی باہمی نفرتیں، حسد، کینہ پروری بھی شامل ہیں۔ حد سے تجاوز کرتی دنیاوی لذتوں کی لالچ نے ہوس، بغض، عداوت بن کر ہمارے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ان منفی جذبات کا اظہار غصے کے ذریعہ بھی ہوتا ہے۔

غصے سے زندگی کے ہر پہلو پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متواتر شدید غصے کی حالت سے ذہنی دباؤ، تناؤ اور بے چینی جنم لیتے ہیں جو بعد ازاں السر جیسے موذی مرض کا سبب بن کر عارضہ قلب میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یوں زندگی کی رخصتی اور ہر لمحہ موت کا دھڑکا دامن گیر رہتا ہے۔ ان خودساختہ مصائب سے نجات پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم آپس میں معافی اور درگزر سے کام لینے کو رواج دیں۔

معافی ایسا کوئی مشکل کام نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک مرتبہ آپ نے انتقام کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تو اس سے آپ کے اندر مثبت اور تعمیری سوچ پیدا ہوگی جو صحت مند فیصلے میں آپ کے لئے معاون و مددگار ثابت ہوگی۔ جب آپ اس رخ پر سوچیں گے تو آپ جذباتی اور جسمانی طور پر خود کو بہتر محسوس کرنے لگیں گے۔

جو افراد زیادہ غصہ کرنے والے ہوتے ہیں ان کا بلڈپریشر بڑھ سکتا ہے بغض، کینہ حسد، عداوت، مرد اور عورت دونوں کے نظام دوران خون اور قلب کو یکساں طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ غصے اور معاف نہ کرنے کی عادت کینسر کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔

حالیہ ریسرچ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غیر مصالحانہ رویہ عمر کو متاثر کرتا ہے اور جو افراد معافی کے حوالے سے برداشت اور تحمل کے سب سے نچلے درجے پر ہوتے ہیں عزت و احترام کے لحاظ سے بھی ان کا یہی حال ہوتا ہے لیکن یہ افراد بے چینی اور سخت ذہنی کھچاؤ کے انتہائی اونچے درجے پر شمار ہوتے ہیں۔ تاہم جو لوگ معافی اور درگزر سے کام لینا سیکھ لیتے ہیں ان کے عزت و مرتبے میں اضافہ اور بے چینی اور ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب وہ اپنی نگہداشت پر بہتر توجہ دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ یہ رویہ اپنانے کے بعد خود کو زیادہ جوان محسوس کرنے لگیں۔

قدرتی ماحول میں خودمختاری کے ساتھ جینے کی ایک ایسی مثال قائم کریں جس طرح ایک چھوٹا معصوم سا بچہ جیتا ہے اوراس کا دل حسد سے بالکل پاک ہوتا ہے۔

کون غلط تھا اور کون صحیح تھا ماضی کی یہ بات بھلا دینی چاہیے۔ معافی کا مطلب حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد خود کو کم ظرفی سے بالا تر کرنا ہوتا ہے۔ غصے اور نفرت کے نتیجے میں نقصانات سے بچنے کا واحد طریقہ معافی کے جذبے کو تمام منفی جذبوں پر غالب کر لینے میں ہے۔