دہی ۔ صحت کے لیے کس قدر مفید

یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے دہی دودھ ہی سے بنتا ہے لیکن دہی دودھ سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہی دراصل دودھ ہی ہوتا ہے لیکن دہی میں قدرت انسانی صحت کے لیے مفید بیکٹیریا ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دودھ کے مقابلے میں دہی بڑی آسانی سے نہ صرف ہضم ہوجاتا ہے بلکہ اپنے بہت سے مفید اجزاء کے ساتھ جسم کا جزو بھی بن جاتا ہے۔ مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دہی صرف کھانوں کی لذت بڑھانے ہی کے کام نہیں آتا، اسے محض دودھ کا نعم البدل بھی نہ سمجھیں بلکہ اس میں چند مفید بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو آپ کے جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں۔

یورپ کے ایک سائنسدان نے ملک بلغاریہ کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ بلغاروی لوگ جسمانی طور پر کافی قوی ہیں اور یہ لمبی عمریں بھی پاتے ہیں۔ دریافت پر انہیں معلوم ہوا کہ یہاں کے باشندے اپنے غذا میں دہی کا بکثرت استعمال کرتے ہیں لہذا پروفیسر موصوف نے دہی سے متعلق تحقیقات و تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا اور جو نتائج انہیں حاصل ہوئے ان کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گئے کہ ایک معمولی سی نظر آنے والی غذائی شے دہی انسانی جسم کے لیے کس قدر مفید ثابت ہوتی ہے۔

ایک پیالی دہی (250 ملی گرام) میں 360 ملی گرام کیلشیم جبکہ 250 ملی گرام دودھ میں 300 ملی گرام کیلشیم ہوتی ہے۔ تین سے 40 فیصد بالغ افراد کو روزانہ اتنی مقدار میں کیلشیئم ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ وٹامن بی گروپ میں شامل فولا سین، فاسفورس، پوٹاشیم کے حصول کے لیے بھی دہی بہترین ذریعہ ہے۔ دہی میں وافر مقدار میں وٹامن  B2 اور B1 پائے جاتے ہیں۔ وٹامن B2 اعصاب، آنکھوں اور جلد کے لئے مفید ہوتا ہے۔ وٹامن B12 ہڈیوں کی صحت کے لیے اور قلت خون سے بچنے کے لئے مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح اس میں وٹامن D اور E بھی ہوتے ہیں۔ وٹامن D جسم کہ ہڈیوں کے ڈھانچے کے لئے لازمی ہوتا ہے اور وٹامن E جلد کی صحت اور افزائش نسل کے اعضاء کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آنت میں پہنچ کر دہی میں موجود مفید بیکٹیریا وٹامن بی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم کو لیکٹک ایسڈ بھی مہیا کرتا ہے، یہ پروٹین کیلشیم اور آئرن کے ہضم ہونے کے بعد عمل کو فعال کرتا ہے۔

دہی میں کچھ خاص قسم کے ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو عفونت کو روکتے ہیں۔ دہی بننے کے دوران دودھ میں ترشی آنے لگتی ہے تو یہ جراثیم تعداد میں کئی گنا ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مفید جراثیم ہوتے ہیں جو دہی کو ایک ایسی منفرد غذا بناتے ہیں جو کئی لحاظ سے دوا کا بھی کام کرتی ہے۔ دہی کے یہ جراثیم بدبو پیدا کرنے والے جراثیم کو ہلاک کرتے ہیں۔ ترشی پیدا کرنے والے جراثیم کی وجہ سے دہی امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے مکمل طور پر پاک و صاف ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر پانی وغیرہ کے ساتھ دوسرے جراثیم اس میں مل جاتے ہیں تو وہ اس ترشی کے اثر سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

دہی کے جراثیم کی خوبی یہ ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی یہ امراض پیدا کرنے والے جرثوموں کے ساتھ جنگ کر کے ان کو مغلوب کر دیتے ہیں۔ معدے میں جاکر دہی کے جراثیم غذا کے نشاستہ اور شکری اجزاء کو ترشی میں تبدیل کرکے معدے کے آنتوں کو مضر جراثیم سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعفن اور خمیر سے پیدا ہونے والے امراض اور بدہضمی وغیرہ میں دہی کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔ پیٹ کی شکایت جیسے قبض اور اسہال میں دہی ایک عمدہ غذا اور دوا کی حیثیت رکھتا ہے، دہی میں موجود مفید جراثیم پیٹ کے السر، پیٹ کی سوزش اور پیٹ کے کینسر وغیرہ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس میں بہت سی لازمی معدنیات موجود ہوتے ہیں، مثال کے طور پر اس میں کیلشیم موجود ہوتا ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کو صحت مند رکھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

اسی طرح اس میں پوٹاشیم اور میگنیشیم بھی ہوتے ہیں۔ پوٹیشیم جسم میں مائعات توازن کو برقرار رکھتا ہے جبکہ میگنیشیم ہڈیوں کو مضبوط بنائے رکھنے میں کیلشیم کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

دہی کے دیگر فوائد بے شمار ہیں، غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ چہرے کی دلکشی بڑھانے میں بھی دہی معاون ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دہی کے بارے میں لکھا گیا تھا کہ ’’ یہ جسم کے عصبی مدافعتی نظام کی کارکردگی کو بترریج بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کسی بیماری کے نتیجے میں اینٹی بایوٹک ادویات کے استعمال سے جسم کا نظام ہضم سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، دہی کے بکثرت استعمال سے ہاضمے کی فعالیت بھی بحال ہوجاتی ہے‘‘۔ دراصل ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب اینٹی بایوٹک ادویات معدے میں پہنچ کر اپنا اثر دکھاتی ہیں اور ان کی وجہ سے آنتوں میں پائے جانے والے مفید اور نقصان دہ بیکٹیریا آنتوں میں بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح معدہ اور آنتوں کے نظام کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے بعض اوقات جب نقصان دہ بیکٹیریا آنتوں میں بڑھ جاتے ہیں، زہریلے مادے بھی اسی مناسبت سے بڑھنے لگتے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں دہی کا استعمال مسئلے کا حل مانا جاتا ہے۔ یہ نقصان دہ بیکٹیریا کو مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

خواتین دہی سے بہت سے فوائد حاصل کرسکتی ہے۔ تولیدی اعضاء کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ عام طور پر دوران حمل اچھے بیکٹیریا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور غذائی قلت کے باعث پیشاب کے ساتھ جلن کی شکایت ہو سکتی ہے۔ حاملہ خواتین یا برتھ کنٹرول کی گولیاں لینے والی خواتین جنہیں ذیابیطس بھی ہو، ان خواتین میں انفیکشن ہونے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔

اگر کسی خاتون کو یہ مرض لاحق ہو تو اپنی غذا میں صرف دہی کا استعمال بڑھادے کیونکہ مفید بیکٹیریا یا لیکٹو بیکیلی کی کمی سے خواتین کے اندرونی نظام میں یہ انفیکشن پیدا ہوتا ہے، جبکہ دہی میں لیکٹو بیکیلی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے لہذا اس انفیکشن میں مبتلا خواتین کو دہی کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔

اسٹیوپوروسس کا مرض ایشیائی خواتین میں بہت عام ہے۔ خواتین کے لئے یہ ایک سنگین بیماری ہے اس مرض سے نجات کے لیے کیلشیم، سپلیمنٹ دیے جاتے ہیں۔ یہ کیلشیئم کے نعم البدل کے طور پر تجویز کیے جاتے ہیں مگر مصنوعی طریقوں سے کیلشیم حاصل کرنے کے بجائے مناسب یہی ہے کہ قدرتی ذخیرے یعنی دہی سے استفادہ کیا جائے۔

جس طرح دہی کو کم حراروں والی متوازن غذا مانا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح پھلوں کے ذائقوں والے دہی میں حراروں کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سادہ دہی میں ساتھ کھانے کے چمچ شکر ملانے سے جتنے ہرارے بڑھ جائیں گے اسی قدر فلیورڈ دہی میں حرارے ہوتے ہیں یا اس سے بھی کہیں زیادہ۔ اگر فلیور دہی بھی چاہیے اور یہ بھی خیال رہے کہ حرارے بھی مقدار میں نہ بڑھے تو اس کے لیے آسان حل یہ ہے کہ سادہ دہی میں تازہ پسندیدہ پھل کو باریک کاٹ کر یا پیسٹ بنا کر ملا لیا جائے۔

یہ کیلشیم، وٹامن فائبر حاصل کرنے والی بہترین غذا بن جائے گی تازہ دودھ سے بنی دہی میں مفید بیکٹیریا کا تناسب زیادہ ہوتا ہے …. دہی کو ہمیشہ ٹھنڈی جگہ پر رکھئیے۔ فریج میں زیادہ بہتر ہے۔ اگر فریج نہ ہونے کی صورت میں جالی سے ڈھانک کر ہوا میں رکھا جاتا ہے۔ ٹھنڈی جگہ پر رکھنے کی اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مفید بیکٹیریا زیادہ درجہ حرارت میں پھلتے پھولتے نہیں ہیں۔ دہی میں موجود پروٹین جسم کے ٹشوز کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے۔ دہی میں فعال اور مفید جراثیم کے سبب آنتوں پر یہ کافی اچھا اثر ڈالتا ہے اور آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دہی جسم کی قوت مدافعت یعنی Immunity کو تقویت دیتا ہے جس سے دہی استعمال کرنے والے بہت سی بیماریوں سے آسانی سے بچ جاتے ہیں۔ ان پر انفیکشن، سوزشی کی بیماریاں اور الرجی اثرانداز نہیں ہوتیں۔

دہی کے باقاعدہ استعمال سے بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن اس میں بہت زیادہ چکنائی بھی ہوتی ہے۔ لہذا اسے باقاعدگی سے ایک محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے نہ کہ بھاری مقدار میں۔

دہی جسم میں خراب کولیسٹرول کو کم کرتا ہے جس سے دل کی بیماریوں سے تحفظ مل سکتا ہے۔ دہی میں موجود مفید اجزاء جلد اور بالوں کی بیماریوں سے اور شکایات سے بچاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ ایک دہی کے بے شمار فوائد کے پیش نظر آپ دہی کے باقاعدہ استعمال کو اپنی عادت بنالیں تو بہت سے امراض اور شکایات سے بچے رہیں گے۔