دال ۔ ہر موسم کی غذا

افادیت کے لحاظ سے گوشت سے کم نہیں

دال اپنی افادیت کے لحاظ سے کسی طرح گوشت سے کم نہیں بلکہ گوشت کا زیادہ استعمال مضر ہے جبکہ دال ایک بے ضرر اور نہایت مفید غذا ہے۔ بعض قوموں کی مخصوص غذا ہی دالیں ہیں۔ کئی قسم کی دالوں میں گیہوں سے چار گنا زیادہ اجزائے لحمیہ اور وٹامنز ہوتے ہیں۔ چاول کے مقابلے میں دالوں میں نمکیات زیادہ ہوتے ہیں، ان میں روغنی اجزاء کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ بعض لوگ دالوں کا چھلکا اتار کر پکا کر کھاتے ہیں جس سے اس کے وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں۔ دالوں کی توانائی ان کے چھلکوں میں ہوتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق بعض دالوں کو چھلکے سمیت تیز آنچ پر پکانے کے بجائے دھیمی آنچ پر پکانا چاہیئے کیونکہ تیز آگ سے بہت سے مفید اجزاء جل جاتے ہیں۔ دالوں میں سیاہ زیرہ، بڑی الائچی اور کالی مرچ ڈالنا مفید ہے۔ سردیوں میں ادرک ڈال کر آپ دال کو مزید خوش ذائقہ بنا سکتی ہیں۔ آئیے دیکھتے کہ جو دالیں آپ کھا رہے ہیں ان کے طبی فوائد کیا ہیں۔

مونگ کی دال

یہ زود ہضم ہے اور ہلکی پھلکی بھی، اسی لیئے معالج عام طور پر مریضوں کو مونگ کی دال یا اس کی کھچڑی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ دل کو تقویت دیتی ہے تاہم بادی مزاج والوں کو چاہیئے کہ اسے احتیاط سے استعمال کریں۔ اس میں گھی، سیاہ مرچ اور سیاہ زیرہ ڈالنا مفید ہے۔ بعض اطباء کے مطابق بخار کی صورت میں اس میں گھی نہیں ڈالنا چاہیئے۔

موٹھ کی دال

یہ گرم اور خشک مگر ہلکی ہوتی ہے۔ بلغم کو دور کرتی ہے، جسم کے بڑھے ہوئے مواد کو خشک کرتی ہے اور طاقت بخشتی ہے۔

ارہر کی دال

مزاج کے اعتبار سے گرم، خشک اور طاقت بخش ہے۔ بلغم دور کرتی ہے، دھنیا اور ہینگ ڈال کر استعمال کی جائے تو اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔

چنے کی دال

گرم اور خشک مزاج ہے۔ خون صاف کرتی ہے، بھوک لگاتی ہے۔ چنے کی دال رات کو دودھ میں بھگو کر صبح پیس کر دودھ میں شکر ملا کر پینے سے توانائی ملتی ہے۔ کمزور معدے والوں کے لیئے مضر ہے۔

ماش کی دال

گرم تر، بے حد مقوی، ثقیل اور قابض ہے۔ موٹاپا، کھانسی اور دمہ کے مریضوں کے لیئے مضر ہے۔ جگر، بد ہضمی اور قبض کے مریضوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسے زود ہضم بنانے کے لیئے ہینگ، سونٹھ اور ادرک ڈالنا مفید بتایا جاتا ہے۔

مسور کی دال

گرم اور خشک ہے۔ چھلکا اتار دینے سے اس کی گرمی کم ہوجاتی ہے۔ بلغم کو کم کرتی ہے، پھیپھڑے کے امراض میں اس کا پتلا شوربہ مفید ہے۔ پرانی پیچش اور بلغمی بخار میں فائدہ بخش ہے۔