آڑو ۔ خوش ذائقہ اور صحت بخش پھل

آڑو معدہ اور جگر کو طاقت دیتا ہے۔ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے خون کی گرمی رفع اور طبیعت کی گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے۔

آڑو ایک مقبول عام پھل ہے۔ جسے امیروغریب سب شوق سے کھاتے ہیں۔ وٹا منز  اور بے شمار غذائی خصوصیات سے بھرپور اس پھل میں بیماریوں سے نجات دلانے والے شفاء بخش اجزاء بھی کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

آڑو خون کی تیزابیت دور کر کے پھوڑے پھنسی اور جلدی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ شریانوں کی سختی دور کرکے ہائی بلڈ پریشر کوعتدال پر لاتا ہے۔

اس پھل کا فائدہ بھی اتنا ہی زیادہ ہے جتنا اس کا عمدہ ذائقہ۔ اس کی کئی قسمیں ہیں، لیکن اچھا آڑو وہ ہوتا ہے جس کی گھٹلی آسانی سے علیٰحدہ ہوجائے۔ بازار میں اس کی تین قسمیں گول، چپٹی اور لمبوتری ملتی ہیں۔ آڑوشاذو نادر ہی اپنی اقسام کے لحاظ سے بکتا ہے۔ لیکن اس کے گودے کا رنگ جو کبھی پیلا یا سفید ہوتا ہے۔ لازماً اس کی خریداری پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سفید گودے والا آڑو ذائقے میں زیادہ مزیدار ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ پیلے گودے والے آڑو کھانا پسند کرتے ہیں۔

آڑو ایک نہایت صحت بخش پھل ہے جس میں وٹامنز کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔

۱۰۰ گرام خشک آڑو میں280ملی گرام وٹامن اے، اس کے علاوہ وٹامن بی اور سی بھی بکثرت مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ قدرت نے اس کے چمکتے سرخی مائل پیلے رنگ میں کمال دلکش انداز میں سرخ ارغوانی رنگ بکھیر دیا ہے۔ آڑو مزاج کے اعتبار سے سرد ہوتا ہے۔ یہ معدہ اور جگر کو طاقت دیتا ہے۔ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے خون کی گرمی رفع ہو جاتی ہے اور گرمی کی وجہ سے طبیعت کی گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے ۔

آڑو کی گٹھلی میں جو مغز ہوتا ہے اس کا تیل نکال کر کان میں چند قطرے ٹپکا نا کان کے درد اور بہرے پن کے لیے بہت مفید ہے۔ آڑو وٹامنز اے، بی اور سی سے بھرپور ہے۔ جسم کو غذا اور بیماریوں کے لیے شفائی اثرات رکھتا ہے۔ اس میں گوشت بنانے والی شکر، نشاستہ دار اور روغنی اجزا تقریباً دس فیصد اور پانی90 فیصد شامل ہے۔ قدرت نے فولاد، کیلشیم اور فاسفورس کے اجزاء بھی اس میں رکھے ہیں۔ لُو کے موسم میں یہ جوانوں کا آرام جاں اور گرم طبیعت والوں کے لئے تسکین کا سامان ہے۔ خالص خون پیدا کرتا ہے۔ خون کی تیزابیت دور کر کے پھوڑے پھنسی اور جلدی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ شریانوں کی سختی دور کرکے ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے۔ اس میں شامل اجزا اپنے قبض کشا اثرات کی وجہ سے جگر معدہ اور انتڑیوں کے زہریلے فضلات کا اخراج کرتے ہیں۔ اس میں جراثیم کش اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ ہفتہ دو روز آدھ پاؤ سے آدھا کلو تک آڑو استعمال کرنے سے انتڑیوں کے چھوٹے بڑے کیڑے خارج ہوجاتے ہیں اور آئندہ پیدا نہیں ہونے پاتے۔ دھوپ کی تیزی اور تیز ہوا کے جھکڑ چلنے سے جب غذائی نالی میں سوزش ہو جائے تو اس کے استعمال سے درست ہوجاتی ہے۔ معدہ کی تیزابیت دور کرنے کے لیے اسے غذا سے پہلے کھانا چاہیے۔ چھلکے سمیت کھانا ہضم اور عمدہ قبض کشا ہے۔ آڑو بواسیر، جوش خون، کمزوری اور کمزوری پیدا کر نے والی رطوبتوں کے اخراج کو روکنے کے لیے دوا بھی ہے اور غذا بھی۔

آڑو جلدی خراب نہیں ہوتے۔ اگر پکا ہوا پیلا یا سفید پھل صاف حالت میں ملے تو اسے فوراً خرید لیں۔ خریدتے وقت اس کو ہلکا سا دبا کر دیکھیں۔ اسے تھوڑا نرم ضرور ہونا چاہیے لیکن گلا سٹرا، کسی جانب سے پچکا ہوا پھل ہرگز نہ خریدیں۔

آڑو کو آپ کمرے کے درجہ حرارت پر بھی رکھ سکتے ہیں لیکن زیادہ پکے ہوئے پھل کو آپ فریج میں دو دن کے لیے محفوظ کر سکتے ہیں۔ بوڑھے اور کمزور معدہ والے آڑو ہضم کرنے کے لئے اس کے ساتھ  شہد یا ادرک کا مربہ ملا سکتے ہیں۔

کین میں دستیاب یا سربند آڑوؤں کو شوگر سیرپ یا  سیب کے رس میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ پکانے کے دوران پکوان میں استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے ان میں ذائقہ اور مزہ پیدا ہوتا ہے۔