صحت مند زندگی کے اصول

سدرہ کاظمی

جاذبِ نظر شخصیت کا حامل ہونا ہر عورت کی فطری خواہش ہے۔ انسانی خوبصورتی کا معیار پرکشش اور متناسب جسم بھی ہے۔ دبلی پتلی کمزور خواتین خواہ کتنا بھی بنائو سنگھار کر لیں، ان کی شخصیت دلکشی سے محروم رہتی ہے۔ ضرورت سے زائد دبلا پتلا ہونا دراصل بیمار ہونا ہے۔ خوبصورتی اور دلکشی جسمانی توانائی کی محتاج ہے۔ دبلے پتلے ہونے کی شوقین خواتین ذہنی طور پر ہر وقت پریشان رہتی ہیں اور ڈائٹنگ کے جنون میں وہ اپنی صحت برباد کر لیتی ہیں۔ پیلی پڑتی رنگت اور جسمانی طور پر کم وزن ہونا خوبصورتی کی غلط تشریح ہے، ایک صحت مند جسم ہی خوبصورتی کے معیار کو پاسکتا ہے۔

جسم کی صحت کے لیئے ضروری ہے کہ کھانے میں مناسب کیلوریز والی خوراک کا استعمال کریں، چربی والی غذائوں، دودھ، مکھن، انڈے اور پھلوں کے متناسب استعمال کے بغیر خوبصورتی اور دلکشی کا حصول ناممکن ہے۔

موٹاپا دبلے پن کے مقابلے میں حسن کا زیادہ بڑا دشمن ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی بے احتیاطی جسم کے وزن میں اضافہ کرتی ہے اور اگر قد کی مناسبت سے وزن زیادہ ہوجائے تو خواتین کے جسم میں غیر ضروری پھیلائو اور بھدا پن احساس کمتری کا سبب بنتا ہے۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں عام طور ہر خواتین ٹی وی پر دکھائے جانے والے اشتہاروں کی یلغار میں بہہ جاتی ہیں اور یہ بھول جاتی ہیں کہ خوبصورت جسم کا مطلب دبلا پتلا ہونا یا موٹا ہونا ہرگز نہیں ہے۔

خوبصورتی اور دلکشی بنیادی طور پر توازن اور تناسب کا نام ہے اس لیئے اسمارٹ ہونے یا وزن کم کرنے کے لیئے کوئی بھی طریقہ اپنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں کہ وزن میں کمی یا زیادتی کسی خاص بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ ایک ماہر ڈاکٹر ہی بتاسکتا ہے کہ قد کے اعتبار سے وزن کتنا ہونا چاہیے اور وزن کو اسی اعتبار سے گھٹانے یا بڑھانے کے لیئے کون سی غذائیں اور ورزشیں کیوں، کیسے اور کب تک ضروری ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں کسی بھی سطح پر انسانی جسم کی ساخت اور ضروریات کے متعلق تعلیم دینے کا باقائدہ بندوبست موجود نہیں ہے۔ اسی بے خبری کے باعث بڑی تعداد میں خواتین بڑی تعداد میں حسن اور دلکشی بڑھانے کے لیئے بے تحاشہ خرچ بھی کرتی ہیں اور انجانے میں اپنے شخصی حسن کو تباہ بھی کرلیتی ہیں۔ مثلاً چاند سے چہرے سے مراد زرد اور پھیکا پن ہر گز نہیں۔ غیر ضروری  فاقہ کشی اور کھانے پینے میں بے احتیاطی سے دو نتیجے نکلتے ہیں، پہلی صورت میں چہرے کی رونق غائب اور زردی مائل بیمار چہرہ اور لاغر جسم جبکہ دوسری صورت میں جسمانی وزن میں  غیر ضروری اضافے کے سبب فربہی یا موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں۔

جسمانی کمزوری کے ساتھ ہی خواتین کی نیند میں کمی آنے سے رہی سہی کسر بھی نکل جاتی ہے، جبکہ وزن میں اضافہ ہوجائے تو سستی، کاہلی اور جسم کے بھدے پن سے پوری شخصیت دائو پر لگ جاتی ہے۔

خواتین میں پتلی کمر کے حوالے سے بھی کئی طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ پتلی کمر جسمانی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے لیکن پتلی کمر کے شوق میں اپنے وزن اور چربی میں کمی لانے کا مطلب ایک روگ بھی بن سکتا ہے۔ ایک متناسب جسم اپنے ہر عضو کی نشونما اور حفاظت کے اصول بھی طے کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خواتین کے کم از کم پانچ فٹ اور تین انچ قد کے لیئے ۱۲۵ پونڈ سے ۱۴۸ پونڈ تک وزن ہونا چاہیئے۔ پانچ فٹ تین ایچ قد میں ۱۲۵ پونڈ سے کم اور ۱۴۸ پونڈ سے زیادہ وزن کا یہ مطلب ہوگا کہ حجم اور جسمانی ساخت کا توازن بگڑ گیا ہے۔

ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ ظاہری حسن میں کسی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ شخصیت کمزور پڑگئی ہے۔ اپنے اخلاق و اطوار کو بہتر بنا کر شخصیت  کو چار چاند لگائے جاسکتے ہیں۔ بد اخلاق اور بد مزاج عورتیں کسی کے دل میں گھر نہیں کر سکتیں۔ حسن اگر جسم کی متناسب دلکشی کا نام ہے تو اس حسن کو میک اپ اور زیور کی ضرورت نہیں۔ خندہ پیشانی، صلہ رحمی، ایثار اور لوگوں کا احترام کرنے جیسے اوصاف ہی کافی ہیں۔