نفسیاتی الجھنیں اور تدارک

جس دن سے  انسان نے کرہ ارض پر قدم رکھا   ہے اور زندگی کی ابتدا کی ہے اس دن سے مختلف قسم کی ضروریات نے انسان کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ان ضروریات میں کچھ ایسی ضروریات شامل ہے جوابتدائی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور انسانی زندگی کی بنیاد  ہیں مثلًا روٹی، کپڑا اور مکان یہ بنیادی ضرورتیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی ضروریات ہیں جن کی کوئی حد مقرر نہیں اور نہ کسی کے بس کی بات ہے کہ ان تمام ضرورتوں کو حاصل کر سکے۔ اپنی ضرورتوں کے حصول کے لیے انسان کو بھاگ دور کرنی چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اپنے تمام توانائی کو خواہشات کی تکمیل کے لئے صرف کر دے۔ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہےکہ زندگی جو خداوند کریم کی عظیم نعمت ہے، اسے صحت کے معینہ اصولوں کے تحت گزارے۔ بے ڈھنگی اور الا ابالی زندگی سے نفسیاتی الجھاؤ جیسے عارضے پیدا ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ اس سائنسی دور میں انسان کو نفسا نفسی سے باہراس طرح نکلنا چاہیئے کہ وہ اپنی زندگی میں ٹھہراؤ پیدا کرے اور زندگی کو آسان اور سہل ، بامقصد اور بااصول بنانے کے لئے ضابطہ حیات مقرر کرے۔ مثال کے طور پر  خوشی و غمی، مختلف رسومات، مذہبی تہوار،  آپس کا میل جول وغیرہ تمام باتیں جو انسان کی روزمرہ زندگی کا احاطہ کرتی ہیں انہیں ایک اصول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں کہ زندگی ایک قاعدے کے مطابق گزاری جا سکتی ہے۔ لیکن اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ اصول اتنے سخت اور بے لچک نہ ہوں  کہ زندگی گزارنا مشکل ہو جائے۔ ذہنی اور نفسیاتی صحت برقرار رکہنے کے لیے چند رہنما اصول 24 گھنٹوں کے لئے ترتیب دیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے انسان پر سکون اور آسودہ زندگی بسرکر سکتا ہے۔

۱۔ عام طور پر مرد اور عورتوں کو ۲۴ گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے سونا لازمی ہے تاکہ تمام دن کی تھکاوٹ سے جسم اور دماغ کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کی جا سکے۔ بیدار ہونے کے بعد آٹھ گھنٹے اپنے معاش کی تگ دور میں صرف کئیے جائیں مثلًا محنت مزدوری، آفس ورک، تدریس یا کاروبار وغیرہ، تین وقت کے کھانے کے لئے ایک گھنٹے اس طرح سے صرف کئے جائیں بیس منٹ ناشتے کے لئ، بیس منٹ دوپہر کے کھانے کے لیئے اور بیس منٹ رات کے کھانے کے لیے وقف کیے جائیں اس گھنٹے میں کھانا نہایت آرام اور اطمینان کے ساتھ چبا چبا کر کھانا چاہیے۔  بقیہ سات گھنٹوں میں سیرو تفریح ، کھیل کود، ورزش یا ادبی سماجی، ثقافتی ومعاشرتی کاموں کے لئے مختص کیا جائیں.

۲۔ غصہ، حسد اور کینہ جیسی بدعادتیں انسان کی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔اس لئے ایسی منفی عادتوں کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیے۔غصے میں ضبط سے کام لینا چاہیے۔ جلد بازی میں بغیر سوچے سمجھے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر کامیاب فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اپنی عادتوں کو حالات کے مطابق ڈھالنے کا عادی بنانا چاہیے تا کہ ذہن پر ناگواری کاعنصرحاوی نہ ہو سکے۔

۳۔ انسان اپنی زندگی میں سکون کا متلاشی ہے اس لئےپرسکون رہنے کے لئے ضروری ہے کے گھر میں اہلخانہ، دفتر کے عملے، اسکول میں طلبہ و اساتذہ و دیگر افراد کے ساتھ محبت اور رواداری کو اپنا شعار بنا نا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرنے کے علاوہ تمام چھوٹے بڑوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اپنے ذہن پر کسی قسم کا کوئی بوجھ سوار نہیں کرنا چاہیے زندگی میں اعتدال قائم رہنا بہت ضروری ہے ۔

۴۔ لالچ وحرص انسان کی اندرونی کیفیات ہیں جو انسان کو ہمیشہ مادی فائدے کی تلاش میں سرگرداں رکھتی ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ کام کرنے کے لیے اکساتی ہیں۔ جو بھی شخص اپنے قوت سے زیادہ دوڑنے کی کوشش کرے گا اس کے ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہونے کاخدشہ بڑھ جائے گا۔ لہٰذا اپنی ہمت کے مطابق کام کریں اور اپنی قوت سےزائد دوڑ لگانے سے پرہیز کریں۔

۵۔ معاف کردینا، درگزر کر دینا صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ کسی بھی شخص کو کمتر نہ سمجھا جائے۔ ہر ایک کی بات تحمل سے سنیں لیکن عمل اور حتمی فیصلے کے لیے پوری طرح مطمئن ہو کر اپنی ضمیر کے مطابق حقیقت پر مبنی فیصلہ کریں۔

۶۔ انسان کو اپنی قوتِ ارادی سے کام لیتے ہوئے احساس کمتری کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جو بھی شخص اپنی ذات کو بے مقصد سمجھے گا اس میں احساس کمتری پیدا ہوجائے گی جو صحت کے لئے انتہائی مضر ہے اس لیے ہر شخص کو یقین رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔

۷۔ کسی بھی چیز کے عادی نہ بنیں مثلاً چائے ،سگریٹ ،پان ،نشہ آور چیزیں یا فلم وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں "پیسے کا زیاں” کے علاوہ صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

۸۔ نفرت جیسے منفی جذبات سے بچنے کی کوشش کریں کیوں کہ یہ ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ کسی کو نقصان یا تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ کبھی کسی کو ذلیل یا حقیر نہ سمجھیں۔

۹۔ ہر کام عقل و فہم سے کرنا چاہیے اگر کسی مسئلے میں الجھن محسوس ہو تو ہمدرد لوگوں سے مشورہ کریں کیوں کہ مشورہ غلط فیصلے سے بچاتا ہے۔ کسی بھی قسم کا جذباتی فیصلہ کرنے سے بچنا چاہیے کیونکہ جذباتی فیصلوں کا انجام اکثر اچھا نہیں ہوتا ۔

۱۰۔ خوش رہنا صحت و تندرستی کے لیئے انتہائی ضروری ہے اور اس کے لیئے چھوٹے بڑے کا ادب کرنا، بے مقصد باتوں سے گریز کرنا، مذہبی اور سیاسی بحثوں سے بچنا اور بے جا "خوشامد” نہ کرنا ضروری ہے۔

۱۱۔ ایک ہی وقت میں بہت سے کاموں کی انجام دہی سے گریز کرنا چاہیے۔اگر بیک وقت بہت سے کام درپیش ہوں تو انہیں علیٰحدہ علیٰحدہ اوقات میں عمل میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کام شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ اچھی امیدیں وابستہ کرکے خود اعتمادی سے کام کو تکمیل تک پہنچانے سے انسان ذہنی کوفت اور ناکامیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے ۔

۱۲۔ اکثریت کی رائے کے سامنے خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اس طرح بزرگوں کی تجربہ کار باتوں کو قبول کر لینا چاہیے خواہ آپ کو ان کی باتیں بری ہی کیوں نہ لگیں۔ آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ بزرگوں کے کیئے گئے فیصلوں میں حکمت اور بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔

 

۱۳۔ بے شک موجودہ ترقی یافتہ دور میں انسان کو طرح طرح کے تفکرات نے گھیررکھا ہے، ہمیں ان سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ بلاوجہ کسی سوچ یا کسی تکلیف میں مبتلا رہنے اور فضول خیالات سے بچنے کے لئے ہمیشہ اپنے آپ کو مثبت عمل میں مشغول رکھنا چاہیے ۔

 

مندرجہ بالا یہی وہ سچے اصول ہیں جن کو ہمیں اور ہر شخص کو اپنے کردار اور اپنے معموملات کا حصہ بنانا ہے کیوں کہ موجودہ دور میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ نے انسان کو دینی ونفسیاتی امراض میں مبتلا کردیا ہے۔