کیا آپ کے بال گر رہے ہیں؟

موذی امراض ذہنی دباؤ اورفکر و تشویش کے باعث گرنے والے بالوں کی قدرتی اشیا۶ سے دیکھ بھال

(شرجیل بٹ)

بالوں کا معاشی اثرات سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ بات ہر کسی کے مشاہدے میں ہے کہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے بعض گھنے بال لے کر دنیا میں آتے ہیں اور بعض بالعموم گنجے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً موروثی اثرات کا ہی نتیجہ ہوتا ہے رحم  مادر میں بالوں کی جڑوں کی نا مکمل تیاری بھی گنج پن کا سبب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ پیدائش کے بعد بھی بالوں کی جڑیں بنی رہتی ہیں جو کسی موذی مرض اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہیں جس کے باعث بالوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ ان امراض میں ٹائیفائد، انفلوئنزا اور ٹی بی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آتشک، ذیابیطس اور سر کی جلد میں خشکی ہونے سے بھی بال کم ہونے لگتے ہیں۔ بعض اوقات مخصوص ہارمونز اور وٹامنز کی کمی بھی بال گرنے کا سبب ہوا کرتی ہے۔ ان وٹامنز میں وٹامن اے اور بی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اکثر ممالک میں بالوں کو طرح طرح سے رنگنے اور عجیب وغریب طریقے سے ہیراسٹائل رکھنے کا رواج دن بدن بڑھ رہا ہے۔ بالوں کو فیشن کے لیے رنگا جائے یا کسی مجبوری یعنی کم عمری میں دھوپ کے باعث بال سفید ہو جانا وغیرہ کی وجہ سے، دونوں صورتوں میں انہیں نقصان ہی پہنچتا ہے اور یہ عمل بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ جتنے خضاب یا ہیر کلر کے لوشن بازار میں ملتے ہیں سب میں تیز کیمیائی اجزاء یا سیسے کے اجزا۶ شامل ہوتے ہیں جن سے رفتہ رفتہ بالوں کی قدرتی چمک زائل ہوجاتی ہے، جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں نتیجتاً بال تیزی سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

موجودہ دور میں کاروباری اور پیشہ ورانہ مصروفیات، تفکرات اور شدید ذہنی دباؤ کی شکار بے شمار خواتین و حضرات بالوں کے علاج کے مراکز سے رجوع کر رہے ہیں۔ ان کے حالات اس کے مطالعے سے یہ بات بھی عیاں ہو رہی ہے کہ چونکہ وہ اپنی مصروفیات کی بنا پر بروقت غذا نہیں لیتے اور ان میں اکثر کی غذائیں ناقص بھی ہوتی ہیں جس کے باعث ان کے بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں ۔

ماہرین ذہنی دباؤ یا پیشہ ورانہ فکر و تشویش سے لاحق ہونے والے گنج پن کا علاج مختلف قسم کے لوشنوں کی مالش اور سر کی جلد پر الٹرا وائلٹ شعائیں گزارنے سے کرتے ہیں۔ مالش اور شعائوں کے اثرات سے جسم کا مدافعتی نظام بیدار ہوتا ہے۔ مذکورہ علامات کے علاوہ گنج پن مردانہ ہارمونز کے عدم توازن کا بھی نتیجہ ہوتا ہے۔ مردوں میں گنج پن کا یہ عام سبب ہوتا ہے  لیکن جن خواتین کے جسم میں دباؤ کی وجہ سے مردانہ ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے ان کے بال بھی تالو اور کنپٹیوں کے پاس سے گرنے لگتے ہیں کیونکہ تجربات کی رو سے خواتین میں بھی مردانہ ہارمونز موجود ہوتے ہیں۔ ہارمونز کی خرابی سے ہونے والے گنج پن کا ایک علاج سرجری بھی ہے۔

علاج: اگر موروثی طور پر یا طویل عمری کی وجہ سے بال گر رہے ہوں تو پھر انہیں روکنا محال ہے اور یہ لا علاج تصور کیے جاتے ہیں۔

اگر بیماریوں کی وجہ سے یہ صورت پیش آ رہی ہو تو اس کا علاج کیا جا سکتا ہے جو کہ مرض رفع ہو نے اور کمزوری دور ہونے پر  دوبارہ بال نکل آتے ہیں۔

۔۔ گنج پن اگر ناقص غذا کے استعمال سے ہو تو غذا میں دودھ، بالائی، انڈے کی زردی، کلیجی، تازہ سبزیاں خصوصا بند گوبھی، گاجر، ٹماٹر، پالک اور سلاد کا استعمال کثرت سے کرنا مفید ہوتا ہے۔

۔۔ اگر سر میں خشکی پیدا ہوجائے یا جلدی امراض کے نتیجے میں بال گر رہے ہوں تو ریٹھے پانی میں بھگو کر اس سے بال دھوئے جائیں اور انہیں اچھی طرح کنگھی سے خشک کرکے روغن لگایا جائے۔

۔۔ اگر سر کی جلد میں دوران خون کی کمی اس کا سبب ہو تو انڈے کی زردی کا تیل لگانا مفید ہوگا یا خالص سرسوں کا تیل بھی موثر رہتا ہے۔ اس علاوہ ماش کی دال پانی میں بھگودی جائے اور اس میں بیری کے تازہ پتے ملا کر باریک پیس لیں  اور انہیں اچھی طرح سر پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد دھو لیں۔

۔۔ سیکا کائی، ماش کی دال اور میتھی دانہ سل پر باریک چٹنی کی طرح پیس کر اس سے سر دھونے سے بال گرنا بند ہو سکتے ہیں۔

۔۔ اطبا۶ خضاب وغیرہ سے بال کالے کرنے کے بجائے اس نسخے کو استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مٹھی بھر خشک آنولے کسی لوہے کے برتن میں ڈال کر اس میں پانی ڈالیں اور ایک دن بھیگنے دیں۔ دوسرے دن اس پانی سے سردھوئیں۔

۔۔ اگر خشکی کی وجہ سے بال گر رہے ہوں تو یہ نسخہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ دہی میں تھوڑا سا میٹھا تیل ڈال کر سر پر خوب ملئے اور پھر آدھے گھنٹے بعد نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس کے علاوہ غسل سے قبل بالوں کی جڑوں  اور سر دھونے کے پانی میں لیموں کا رس ڈالنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

ضروری ہدایات:

۔۔ بال دھونے کے لئے ہمیشہ نباتی مرکبات استعمال کرنے چاہئیں۔ جیسے آملہ، شیکا کائی، میتھی دانہ وغیرہ کے سفوف سے سر دھونا چاہیے۔

۔۔ ہمیشہ ہلکا شیوا استعمال کریں مثلاً بےبی شیمپو۔

۔۔ بالوں میں کلر نہیں لگانا چاہیے۔ ہیئر ڈرائیر بہت کم استعمال کریں۔اس کے علاوہ کھلے قسم کے کنگھے استعمال کرنے چاہیں تاکہ بال کم ٹوٹیں۔

۔۔ متوازن غذا کا استعمال اور بھرپور نیند لینا ضروری ہے ۔

۔۔ بال سیدھے سادے انداز میں سنوارنا بہتر ہے اور تیز دھوپ اور سخت سردی سے انہیں محفوظ رکھنا چاہیے۔