کیا آپ ہیئر کلر کا استعمال کرتے ہیں؟

نقصان سے بچنے کے لیئے یہ ضرور پڑھ لیں

دنیا بھر  میں بالوں کی مختلف اسٹائل کے بارے میں مختلف قسم کا رجحان ملتا ہے ۔ اس میں بالوں کا رنگ بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ کسی زمانے میں خواتین بالوں میں مہندی لگا کر انہیں بے رونق ہونے سے بچاتی تھیں لیکن اب سائنس کی فراہم کردہ جدت    نے  بالوں کو قوس و قزح کے سارے رنگ دے دیے ہیں ۔ جدید ترین ہیئر ڈائی بالوں کو قدرتی رنگ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں نئی چمک پیدا کر دیتے ہیں ۔

اپنے فیشن سینس کے مطابق بالوں کو رنگنے کا شوق ایک طرف ، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں پر مختلف کیمیکلز کا استعمال جلدی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ یہ کیمیائی مرکبات بالوں کی اندرونی تہہ میں جذب ہوکر اسے خشک اور روکھا بنا دیتے ہیں اور اس طرح ان میں سے ملائمت ختم ہو جاتی ہیں ۔ آجکل خواتین فیشن کے مطابق بالوں کو ہلکے ، گہرے سنہری اور سرخی مائل کے علاوہ دو شیڈز  میں بھی رنگ رہی ہیں ۔ ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کے بالوں کا رنگ فطری طور پر خوبصورت ہے تو  انہیں  ہرگز نہ چھیڑیں ۔ خوبصورت قدرتی بالوں کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا اس لیے ان پر مختلف رنگ استعمال کرنے سے گریز کریں۔

خشک اور آسانی سے ٹوٹ جانے والے بال

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیئر کلر عام طور پر بالوں کو نقصان نہیں پہنچاتا تاہم جب بالوں کی صحت کم ہونے لگتی ہے تو کیوٹیکل (خارجی جلد) کی پرتیں نمایاں ہونے لگتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بال انتہائی خشک اور نازک ہوجاتے ہیں، وہ اڑنے لگتے ہیں اور گنج پن نمایاں ہونے لگتا ہے، ان حالات میں ہیئر کلر سے دوری اختیار کرلینا چاہئے کیونکہ اس میں موجود اجزاءاس عمل کو زیادہ تیز کردیتے ہیں۔

بالوں 2 ہفتے میں دوبارہ سفید ہوجاتے ہیں

اگر آپ بالوں کو رنگتے ہیں اور وہ بہت جلد دوبارہ سفید (جڑیں یا مکمل طور پر) ہوجاتے ہیں تو بہتر ہے کہ کلر سے دوری اختیار کرلیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو ہر ہفتے بالوں کو رنگنا پڑتا ہے تو ان پر وقت ضائع کرنے کی بجائے زندگی کی دیگر مصروفیات سے لطف اندوز ہونے کو ترجیح دیں۔

سر میں خارش اور تکلیف کا احساس

آپ اپنے بالوں کو برسوں سے رنگ رہے ہوں مگر اچانک بغیر کسی وجہ کے خارش، سوجن یا سر پر رطوبت ظاہر ہونے لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ہئر کلر سے الرجی کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد کو ہیئر کلر میں موجود اجزاء کے نتیجے میں الرجی کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان علامات کا اکثر کو آغاز میں احساس نہیں ہوتا تاہم بہت جلد یہ نمایاں ہوکر تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں۔

مسلسل ہلکے رنگ میں بالوں کو رنگنا

اگر آپ اپنے بالوں کی سفیدی کو چھپانے کے لیے مسلسل ہلکے سے ہلکے رنگ کا انتخاب کررہے ہیں جو لگ بھگ سفید جیسا ہی ہو تو یہ ایک علامت ہے کہ اب ہیئر کلر سے جان چھڑا لینی چاہئے۔ یعنی اگر آپ بالوں پر اتنا ہلکا رنگ استعمال کررہے ہیں جو سفیدی سے تھوڑا بہت ہی مختلف ہے تو انہیں رنگنا سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے (ایسا عام طور پر سنہرے یا کسی اور رنگ کے بالوں کے حامل افراد کے ساتھ ہوتا ہے، سیاہ بالوں والے کے علامات اوپر درج کی گئی ہیں)۔

جو خواتین اپنے بالوں کو رنگتی ہیں وہ بالوں کا رنگ جلدی جلدی تبدیل کرنے سے بھی اجتناب کریں ۔ بار بار رنگ بدلنے سے بال کمزور ہو جاتے ہیں البتہ مہندی آپ کے بالوں کے فطری رنگ کو تبدیل نہیں کرتی ۔ اسے  سادہ پانی میں گھول کر دو سے چار گھنٹے تک کے لئے بالوں پر لگا کر بالوں کو خوبصورت قدرتی رنگ دیا جا سکتا ہے ۔ البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ   مہندی کم از کم تین ماہ کے وقفے سے لگائیں ۔ اگر آپ نے ہر ماہ مہندی استعمال کی تو آپ کے بال خشک ہو سکتے ہیں ۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں اگر آپ بالوں کو نیا رنگ دینا چاہتی ہیں تو  خود  تجربہ کرنے کے بجائے کسی ماہر بیوٹیشن سے رابطہ قائم کریں کیونکہ بیوٹیشن مختلف رنگوں میں شامل کیمیکلز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریٹمنٹ کرتی ہیں  جس کے باعث بالوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ کم ہوتا ہے ۔