کالے داغ اور جھائیوں سے نجات حاصل کرنےکے قدرتی طریقے

اکثر خواتین کی جلد پرپائے جانے والے بد نما کالے داغوں (Melasma) اور جھائیوں کی وجہ انکے جسم میں موجود جنسی ہارمون ایسٹرون اور پروجسٹرون میں تبدیلی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس بیماری کا شکار اکثر حاملہ خواتین ہوتیں ہیں۔ سورج کی مضر شعاعوں میں گھومنے کے علاوہ گرم علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی اس مرض میں مبتلا نظر آتی ہیں خاص طور پر ان خواتین کے چہرے پر کالے، بد نمادھبے اُبھر آتے ہیں جو سن یا کے دوران حمل روکنے کی گولیوں کا استعمال کرتی ہیں ۔ کاسمیٹک، ادویات سے ہونے والی الرجی ، غدود درقیہ کی خرابی سمیت غصہ اور پریشانی جلد پر ان بد نما داغوں کا باعث بن سکتی ہے یہ بیمار ی اکثرموروثی بھی ہوتی ہے۔

میلاسما کی علامات میں چہرے کی رنگت تبدیل ہوجانے کے ساتھ جلد کی ظاہری ساخت میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے متاثرہ حصوں کے رنگت سیاہ پڑ نے لگتی ہے ۔اس بیماری میں جلد کی رنگت سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔ یہ سیاہ دھبے چہرے کی دونوں جانب ماتھے، رخسار، ناک اور ہونٹ کے اوپری حصے پر نمودار ہوتے ہیں۔

جھائیاں ختم کرنے کے گھریلو ٹوٹکے

گھر میں موجود چند قدرتی اشیاء کی مدد سے آپ اس بیماری سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔ خواتین جو پیدائش روکنے والی گولیاں استعمال کریں یا کسی بھی قسم کی دوائی، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کے میلنین ہارمون کی جسم میں زیادتی میلاسما کی بنیادی وجہ ہے۔

اب خواتین کے لیے خوشخبری یہ ہے کے وہ گھر میں موجود اشیاء سے ہی اب اپنا علاج کرسکتی ہیں ۔

کیلے کی مدد سے چھائیاں ختم کرنے کا آسان ٹوٹکا

کیلے کو کچل کر متاثرہ حصوں پر پندرہ منٹ کے لیے لگا کر چھوڑ دیں پھر چہرے کو گرم پانی سے دھو لیں ،اس عمل کو ہفتے میں چار بار د ہرانا ہے۔

بینگن کی مدد سے چھائیاں ختم کرنے کا آسان ٹوٹکا

بینگن کو ٹکڑوں میں کاٹ کر اس کا گودہ ہٹا دیں اب اس مرہم کو متاثرہ حصے پر لگائیں اور پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں۔ اس عمل کو ہفتے میں تین بار دہرانے سے آپ چھائیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

سیاہ بلسان کی مدد سے چھائیاں ختم کرنے کا ٹوٹکا

چار سے پانچ قطرے سیاہ بلسان کو انڈے کی سفیدی میں اچھی طرح ملا کر صبح اور شام استعمال کرنے سے رنگت صاٖ ف ہوجائے گی اور چھائیاں بھی غائب ہوجائیں گی۔

پیاز اور سرکہ کی مدد سے چھائیاں ختم کرنے کا ٹوٹکا

ایک درمیانہ پیاز پیس کر اس میں تھوڑا سا سرکہ شامل کریں ۔اس مکسچر کو اپنے چہرے پر پندرہ منٹ کے لیے لگا کر چھوڑ دیں ۔ اگر جلن ہو تو فورا دھو لیں۔

چہرے کے داغ دھبوں سے نجات حاصل کرنے کا ماسک

دو کھانے کے چمچے سوکھا دودھ، چار کھانے کے چمچے شہد اور دو کھانے کے چمچے لیموں کا رس ملا کر پیسٹ بنا لیں ۔اس ماسک کو اپنے چہرے پر بیس منٹ کے لیے لگائیں ،چہرہ دھونے کے بعد دہی کو چہرے پر لگائیں اور دس منٹ تک لگا رہنے دیں اس سے آپ کی رنگت نکھرنے کے ساتھ چہرہ صاف ہوجائے گا۔

وٹامن سی لیں :

وٹامن سی بھی جھائیاں ہلکی کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔تمام سٹرس فروٹس ،پتوں والی سبزیوں اور کیوی میں وٹامن سی موجود ہے۔دن کے آغاز پر ان میں سے کوئی ایک چیز اپنی غذا میں ضرور شامل کریں اس کے علاوہ وٹامن سی کا سپلیمنٹ بھی لیا جاسکتا ہے۔

ایسی غذاؤں کااستعمال سے زیادہ سے زیادہ کریں جوجھائیوں کے خاتمے میں معاون ہیں مثلاً دودھ، دہی، کچی گاجریں اور شلجم اپنی خوراک کا لازمی جزو بنائیں۔

میلاسما کے بارے میں مزید آگاہی

اکثر یہ بیماری خاندانی یا موروثی ہوتی ہے اور نسل در نسل چلتی آرہی ہوتی ہے ایسی صورت میں آپ کو مزید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، سورج سے زیادہ سے زیادہ بچنا چاہیے جبکہ سن بلاک کریم کا باقاعدہ اور روز مرہ کی زندگی میں بھی استعمال رکھنا چاہیے۔ کوشش کریں کہ حمل روکنے کے لیے لی جانے والی گولیاں یا کوئی بھی ہارمونل تھراپی استعمال نہ کریں۔ اگر میلاسما کی شدت بہت زیادہ ہے تو کسی بھی طرح کے علاج کو اختیار کرنے میں محتاط رہیں چاہے وہ کوئی گھریلو ٹوٹکا ہی کیوں نہ ہو اسکا ر یکشن بھی ہوسکتا ہے اور صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

جلد کی یہ حساس بیماری زیادہ تر پچیس سے پچاس سالہ خواتین میں پائی جاتی ہے اسکو ختم کرنے کا باقاعدہ علاج تو نہیں لیکن مختلف طریقوں سے دھبوں کا رنگ ہلکا کیا جا سکتا ہے۔

دوبارہ حمل کی صورت میں یا دھوپ میں زیادہ تر گھومنے کے باعث یہ بیماری ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آسکتی ہے۔ یہ بیماری خواتین کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتی ہے اس کے علاوہ یہ اپنے شکار کو کوئی دوسرا نقصان نہیں پہنچاتی ۔

کئی مرتبہ تو یہ بیماری بنا علاج کے ہی ختم ہوجاتی ہے مثال کے طور پر بچے کو جنم دینے کے بعد اکثر خواتین کا چہرہ پہلے کی طرح خوبصورت ہو جاتا ہے ۔ اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے سب سے اچھا ذریعہ یہ ہے کہ مریض کسی اچھے ماہر امراض جلد سے رابطہ کریں آج کل اس بیماری سے بچاو کے جدید طریقے آگئے ہیں جسے میکروڈرمابریشن جس میں کسی کیمیائی مادہ استعمال کیے بنا ہی خراب جلد کو چہرے سے الگ کر دیا جاتا ہے اسکے علاوہ لیزر شعاعوں اور کیمیائی مادہ کے ذریعے بھی چند ہفتوں میں اس مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔