گھریلو خواتین تھکاوٹ سے کیسے بچیں

تسکین زہرا

بعض گھریلو خواتین اکثر جذباتی مسائل کا شکار رہتی ہیں۔ بظاہر انھیں جسمانی طور پر کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو بہتر محسوس نہیں کرتیں۔ کبھی سر درد، کمردرد، بیزاری یا پھر ہر وقت بلا وجہ کی تھکان محسوس ہوتی ہے۔ اکثر خواتین اعصابی تناؤ بھی محسوس کرتی ہیں۔ یہ تمام علامات فکر اور پریشانی کے باعث ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی جسمانی استطاعت سے زیادہ کام کرنا بھی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے اپنے غم و فکر  اور پریشانیوں کے بارے میں مسلسل سوچتے رہنے اور انہیں صرف خود تک محدود رکھنے کی وجہ سے سخت قسم کے اعصابی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق جس تھکان سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے وہ زیادہ تر ذہنی ہوتی ہے جسمانی نہیں۔

کوشش کریں کہ اپنی پریشانی, فکر اور کسی قسم کی الجھن کو اپنے شوہر سے ضرور شئیر کریں شوہر آپ کا بہترین دوست بھی ہوتا ہے. اس کے علاوہ آپ اپنی والدہ, بہن یا پھر کسی قابل اعتماد دوست سے ذکر کریں اور ان کے دیے گئے مناسب مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کریں.

بہت سی ایسی باتیں ہیں اگر گھریلو خواتین ان پر عمل کریں تو کسی حد تک تھکان سے دور رہ سکتی ہے۔

۱۔ اپنے کاموں کو سرانجام دینے کے لئے ان کی ایک فہرست بنالیں، اس طرح سے سب کام وقت پر ہو جائیں گے اور آپ کو خود پر توجہ دینے کے لیے بھی کچھ وقت میسر ہو جائے گا۔

۲۔ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھیں کیونکہ یہ سلیقہ شعار ہونے کی علامت ہے اس سے آپ کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہو جائے گی۔

۳۔ گھر کے اہم کام سب سے پہلے نمٹائیں اور جو معمولی نوعیت کے کام ہیں وہ بعد میں کریں ایسا کرنے سے آپ خود  کو پرسکون محسوس کریں گی۔

۴۔ اپنے قریبی ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر آپ لوگ ایک دوسرے کے کام آ سکیں۔ اچھے اور پُر خلوص ہمسائے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔

۵۔ اپنی کسی گھریلو پریشانی کا غصہ بچوں اور شوہر پر مت نکالیں۔ اس طرح آپس کے تعلقات میں دراڑ پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں اور کسی پرسکون جگہ پر اکیلے بیٹھ جائیں کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔

۶۔ اکثر خواتین اعصابی تناؤ کے باعث سردرد، آنکھوں اور گردن کے پٹھوں میں کھنچاؤ محسوس کرتی ہیں۔ آنکھوں کے مسلز کو آرام پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ آرام دہ حالت میں کسی کرسی پر بیٹھ جائیں، ذہنی طور پر خود کو پرسکون رکھیں۔ ہر قسم کی فکر و پریشانی کو ذہن سے نکال دیں۔ آنکھیں بند کرلیں اب دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں آنکھ اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیں، دونوں بازو کی کہنیوں کو یا تو میز پر ٹکا دیں یا پھر انھیں گھٹنوں کو ملا کر ان پر رکھیں، ایسا کم از کم دس سے بیس منٹ تک کریں، اس سے آپ خود کو ذہنی طور پر پرسکون محسوس کریں گی اور آپ کی آنکھوں کا تناؤ بھی کسی حد تک کم ہو جائے گا۔

گردن کے سکڑے ہوئے عضلات اور پٹھوں کو دوبارہ لچکیلا بنانے کے لئے صبح کے وقت آپ کسی ہوا دار جگہ پر کھڑی ہو جائیں اور گہرے گہرے سانس لیں۔ اس کے بعد سر کو پہلے بائیں جانب جس قدر لے کر جا سکے موڑیں پھر واپس سیدھی پوزیشن میں لے آئیں، اس کے بعد دائیں جانب جس قدر گردن کو موڑ سکیں موڑ دیں، اس ورزش کو کم از کم 5 سے 10 منٹ تک کریں اس سے آپ کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی کا اوپری حصہ آرام محسوس کرنے لگے گا اور گردن کے پٹھوں کا کھچاؤ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔