جلد کی شادابی

جلد کی شادابی کے لیے قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھائیں

جلد کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافے کےلئے آپ کئی طرح کی بیوٹی کریمز، لوشنز اور موسچرائزر کا استعمال کرتی ہیں لیکن ہم اگر آپ سے کہیں کہ اپنی خوبصورتی میں اضافے کےلئے کسی سپر اسٹور یا کاسمیٹک شاپ کے بجائے سبزی اور پھلوں کی دکان کا رخ کریں تو آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگنی چاہیے۔ اس لئے کہ قدرت نے آپ کی جلد کی نکھار اور شادابی کے لیے روزمرہ استعمال کی کئی اشیاء میں مفید اجزاء چھپا رکھے ہیں۔ جلد کا کوئی بھی مسئلہ ہو، آنکھوں کے گرد حلقے، چہرے پر داغ دھبے، جھائیاں اورروکھا پن، ان سب سے چھٹکارا پانے کے لئے آپ پھلوں اور سبزیوں سے مدد لے سکتی ہیں۔

جلد کی رعنائی میں اضافے کے لئے اپنے کچن یا فریج کا رخ کیجئے اور دیکھئے کہ وہاں ایسی کونسی اشیاء ہیں جو آپ کی جلد کو جلا بخشنے کیلئے مدد گار ہیں۔

ٹماٹر، نارنگی اور آملہ:

نارنگی میں وٹامن سی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے یہ وٹامن جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے محفوظ بنانے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن سی جلد کے داغ دھبوں اور جھائیوں سے بھی بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ وٹامن سی کالیجن بھی پیدا کرتا ہے۔  کالیجن ایک رطوبت ہے جو ہمارے جلد کو لچکدار بناتی ہے۔ اس کی مناسب مقدار نہ ہونے سے جھریاں اور داغ دھبے جنم لیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نارنگی کا رس پینے کے بجائے پورا پھل کھانے سے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ٹماٹر اور آملے میں بھی وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

دلیہ اور بی چھنا آٹا:

دلیے اور بی چھنے آٹے میں وٹامن ای کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ وٹامن ای ایک قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔ یعنی یہ جلد پر فضائی آلودگی اور دھوپ سے پڑنے والے مضر اثرات کی روک تھام میں موثر ثابت ہوتا ہے۔ دلیے میں شامل اجزا جلد کے مردہ خلیات سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں شامل فائبر نظام انہضام کے لئے مفید ہونے کے ساتھ جلد کی قدرتی چکنائی کو برقرار رکھتا ہے۔

گاجر اور چقندر:

وٹامن اے کے متواتر استعمال سے جلد کی سطح ہموار اور نرم رہتی ہے۔ یہ وٹامن بھی جلد کو فضائی آلودگی اور سورج کی شعاعوں کے مضر اثرات سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وٹامن اے کے لیے گاجر سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ چقندر کا استعمال خون بننے کے عمل میں تیزی پیدا کرتا ہے، تازہ خون کی فراہمی سے جلد بھی شاداب ہو جاتی ہے۔

پپیتا:

پپیتے میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے لیکن اس میں شامل کیروٹین وٹامن اے فراہم کرتے ہیں۔ جلد کو جوان رکھنے کے لئے روزانہ دو سو سے ڈھائی سو گرام پپیتے کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج:

سورج مکھی کے بیج میں پایا جانے والا ایسڈ جلد کی تہہ کے نیچے چکنائی کی مقدار متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جلد کو نرم و ملائم بنانے اور کیل مہاسوں سے بچاؤ کے علاوہ یہ بیج بالوں کیلئے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے مفید اجزاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہفتے میں دو تین مرتبہ تین چمچ چھلے ہوئے بیج کھانا کافی ہے۔ سورج مکھی کے بیجوں کے تیل میں کھانا پکانا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

سبز چائے:

سبز چائے جلد کو فضائی آلودگی اور جسم میں پیدا ہونے والے فاسد مادوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ اس کے استعمال سے سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے تحفظ ملتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی جلد پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ سن یاس میں جلد میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے مقابلے کے لیے سبز چائے ایک اہم ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں شامل مفید اجزاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے دن میں دو بار اس کا استعمال کافی ہے۔

گھیکوار Aloe Vera:

یہ کرشماتی صلاحیت رکھنے والا پودا ہے اس کے استعمال سے جلد پر ہونے والے کیل مہاسے اور چکنائی کی زیادتی سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے آپ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی بس روزانہ اس کا 30 سے 40 ملی لیٹر رس پینے سے آپ جلد کی شفافیت حاصل کر سکتے ہیں۔گھیکوار کا رس میڈیکل اسٹورز پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔ گھر میں اس کا رس نکالنے کے بجائے پیکنگ میں دستیاب رس کا استعمال بہتر ہے۔ گھر میں گودے سے رس حاصل کرنے کے دوران اس میں کچھ مضر صحت اجزا بھی رس میں شامل رہتے ہیں۔ اس لیے کسی مستند کمپنی کاتیارکردہ رس استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے۔

عام طور پر جلد کے مسائل سے چھٹکارا پانے کیلئے خواتین بازار میں دستیاب کاسمیٹکس مصنوعات کا سہارا لیتی ہیں۔ غیر معیاری کاسمیٹکس جلد کے مسائل کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے اگر ہم جلد کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافے کےلئے قدرت کے اہتمام کردہ اجزا سے فائدہ اٹھائیں تو نتائج بھی اچھے نکلیں گے اور مضر اثرات کا امکان بھی کم سے کم ہوگا۔