بچوں میں شرمیلا پن ختم کریں

صدف افضل

میری گڑیا تو بہت شرمیلی ہے، میرا بچہ تو انتہائی شریف ہے، جہاں بیٹھا ہو وہیں بیٹھا رہتا ہے, جب تک اٹھنے کو نہ کہو۔۔۔ میرا چھوٹا بیٹا تو بڑا شیطان ہے، مجال ہے جو ذرا بھی چین سے بیٹھ جائے، لیکن بڑا بیٹا معصوم بھولا بھالا اور شرمیلا ہے ذرا تنگ نہیں کرتا، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آپ اکثر اس طرح کے فقرے سنتے ہوں گے۔ بعض والدین جہاں ہوشیار، بے باک اور مستعد بچوں کی شرارتوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں وہیں خاموش اور ہچکچاہٹ کا شکار شرمیلے اور ڈرے سہمے رہنے والے بچے کی وجہ سے قدرے سکون محسوس کرتے ہیں۔ حد سے زیادہ شرمیلے بچے ہر کام کے لیے والدین کے محتاج اور ان کی توجہ کے طالب دکھائی دیتے ہیں، جب انہیں مناسب توجہ اور رہنمائی نہیں ملتی تو وہ بہت سے معاشرتی ذہنی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کچھ شرمیلے بچے اپنے والدین کی انگلی تھامے یا اپنی والدہ کے دوپٹے کا پلو پکڑے ان کے ساتھ دبکے رہتے ہیں، بہ نسبت ان با اعتماد بچوں کے جو مزے سے اپنے دوستوں اور کزنز کے ساتھ اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر کلاس ٹیچر ان شرمیلے بچوں کو پڑھانے میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اس لیے کہ وہ یا تو کلاس میں کھڑے ہو کر کوئی جواب نہیں دے پاتے یا پھر اگر جواب دیتے ہیں تو اس قدر دھیمی آواز میں کہ ٹیچر کو بالکل سمجھ میں نہیں آتا کہ جواب درست دیا گیا ہے یا غلط ۔ ؎

بچوں کے اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے ۔۔۔؟ یہ سوال اس وقت بہت سے ذہنوں میں ابھر رہا ہوگا۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کے لئے کچھ تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ ایسے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں۔ انہیں وقت دیجئے اور تعلقات بنانے اور بڑھانے کے گُربتائیے۔ دوسروں سے گفتگو کا طریقہ سکھائیے۔ بچوں کا شرمیلا پن دور کرنے کا ایک نسخہ یہ بھی ہے کہ ان کی کلاس میں تمام بچوں کے گروپ بنا دیے جائیں اور ہر بچے کے لئے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ اس فرینڈشپ کلب کا ممبر بھی بنے اور پھر انفرادی اور اجتماعی ہر طرح کی سرگرمیوں میں حصّہ لے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی اور مثبت رویے سے بچے میں مزید آگے بڑھنے کا رحجان اور اعتماد پیدا ہوگا اور یوں اس کی شرماہٹ اور ہچکچاہٹ ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ آپ اپنا تعارف کیسے کروا سکتے ہیں اور دوسروں کا تعارف حاصل کرنے کے لئے آپ کو کس قسم کے سوال کرنے چاہئیں۔۔۔؟ کلاس میں بحث کے دوران آپ اچھا انداز کیسے اختیار کر سکتے ہیں۔۔۔؟ والدین کا فرض ہے کہ وہ خود سے بچوں کی مناسب رہنمائی کریں تاکہ وہ بے جا شرمیلے پن سے چھٹکارا پاکر زندگی کے ہر میدان میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بل بوتے پر کامیاب ہوسکیں۔