اپنے چہرے کی حفاظت کریں

غیر معیاری مصنوعات، داغ دھبوں کا باعث بنتی ہیں۔ ہر کام میں اعتدال سب سے ضروری ہے۔

عام طور پر گورے رنگ کو خوب صورتی سمجھا جاتا ہے مگر دراصل خوب صورتی یا کشش رنگ کے سفید ہونے میں نہیں بلکہ بے داغ اور چمک دار ہونے میں ہے، سانولے رنگ والی خواتین اکثر زیادہ پر کشش لگتی ہیں۔ غور کریں تو ان کی جلد بے داغ ہموار اور چمک دار ہوتی ہے لہٰذا چہرے پر پڑنے والا کوئی بھی داغ آپ کی شخصیت میں کمی لا سکتا ہے۔ ان کو دور کرنے کی طرف فوری توجہ دینا چاہیے۔ پہلے ہم ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں جو عام طورپر داغ دھبوں اور جھائیوں کا باعث بنتی ہیں۔

یہ ایسا مسئلہ ہے جو ہر قسم کی جلد کے ساتھ در پیش ہے یعنی چکنی خشک یا ملی جلی کوئی بھی قسم ہو، یہ مسئلہ ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کی وجوہ اندرونی اور بیرونی دونوں ہوتی ہیں۔ اندرونی وجوہ سے مراد ہارمون کا توازن بگڑ جانا، نیند کی کمی، خون میں آئرن کی کمی، مانع حمل ادویات یا کسی بھی دوا کا مسلسل استعمال، پانی کا نا کافی پینا، غذا کا متوازن نہ ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ اور بیرونی وجوہ میں سب سے اہم عام دھوپ میں احتیاط نہ کرنا۔یا غیر معیاری آرائش حسن کی مصنوعات کو چہرے پر لگانا ہے، وجہ کوئی بھی ہو ان کا دور کرنا بے حد ضروری ہے ، ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ان کا علاج ایک بار ہو جائے اور یہ ختم ہو بھی جائیں تو مسلسل توجہ رکھنا پڑتی ہے ورنہ یہ دوبارہ ہو جاتی ہیں۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے، اپنے چہرے کو دھوپ سے اچھی طرح بچائیں اس سلسلے میں اپنے چہرے پر استعمال ہونے والی کوئی بھی مصنوعات چاہے جلد کی حفاظت کی ہو یا میک اپ کی ، غیر معیاری استعمال نہ کریں اور اپنی جلد کی قسم کو پیش نظر رکھتے ہوئے استعمال کریں۔

ضروری نہیں جو چیز آپ کی بہن یا دوست کو فائدہ پہنچا رہی ہو، وہ آپ کو بھی فائدہ دے۔ اس لیے ’’ سنی سنائی‘‘ باتوں پر ہر گزعمل نہ کریں، ہمیشہ اپنی جلد کے لحاظ سے پروڈکٹ خریدیں بہتر ہے کہ کسی ماہر آرائش حسن سے مشورے کے بعد ہی کریمیں اور میک اپ کی چیزیں استعمال کریں، کچھ شیڈ زاچھے لگنے پر خرید لیے جاتے ہیں مگر اس کا معیار اتنا خراب ہوتا ہے کہ وہ وقتی خوب صورتی تو دیتا ہے مگر داغ دھبے جلد میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مثلاً زیادہ تر گالوں پر استعمال کرنے والے بلشر اگر غیر معیاری ہوں ، تو دھوپ کو زیادہ جذب کرتے ہیں اس لیے داغ دھبے اور جھائیاں ہو جاتی ہیں۔

یہاں تھوڑی سی وضاحت یوں ضروری ہے کہ جھائیاں کوئی باہر سے آنے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی طور پر ہر شخص کی جلد میں موجود خلیوں میں چند مرکب کی وجہ سے ہوجاتی ہیں، دراصل یہ ایک ایسا چوکیدار ہے جو جلد کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر پیدا کیا ہے ورنہ جن لوگوں میں یہ کم ہو، وہاں جلد کے کینسر کی بیماری عام ہوتی ہے لیکن اگر یہ چوکیدار مالک سے خوش نہ ہو ، تو وہ گھر میں ہی چوری کروا دیتا ہے۔یعنی اگر آپ اس چوکیدار کو ناراض کر دیں، تو خطرہ بڑھ جاتا ہے ، اس لیے اس کو قابو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مناسب دیکھ بھال کی جائے۔

دھوپ میں نکلتے ہوئے اپنے چہرے پر سایہ رکھیں مناسب سن بلاک ضرور لگائیں۔ کاٹن کے کپڑے کا دوپٹہ یا اسکارف استعمال کریں، پولیسٹر یا نائلون ملے کپڑے کو چہرے کے ارد گرد لپیٹ کر نہ رکھیں، یہ ہر لحاظ سے غیر محفوظ ہوتا ہے۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں پانی کااستعمال کثرت سے کریں، یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔

پانی غذا کا خیال رکھیں یعنی متوازن خوراک لیں، چکنائی اور تیز مرچ مسالے نمک سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ سب چیزیں آپ کے اندر تیزابیت کو بڑھا دیتی ہیں اس کی سادہ سی پہچان پسینے میں بد بو تیز ہو، تو کچھ دن تیزمرچ مسالوں کا استعمال ترک کر دیں اور پانی زیادہ پی کر دیکھیں یقینا افاقہ ہوگا۔

اس کے بعد اپنی نیند کا خیال رکھیں، نیند بھی ایک ایساخوب صورت وقت ہے، جب ہم تو بے خبر ہو جاتے ہیں مگر ہمارے اندرونی نظام اپنی مرمت خود بہ خود کررہے ہوتے ہیں۔ جس طرح گاڑی کو بہتر حالت میں رکھنے کے لیے گاہے بہ گاہے ورکشاپ سروس کے لیے بھیجنا ضروری ہے، اس طرح اپنی اچھی صحت کے لیے نیند کا پورا ہونا بھی ضروری ہے اگر مصروفیت کی وجہ سے نیند پوری نہ ہو رہی ہو، تو اپنے دن بھر کے کام لکھ کر منصوبہ بندی کر کے معاملات کو نمٹائیں، اکثر ہماری بے ترتیب مصروفیت ہی کام کا وقت بڑھا دیتی ہیں، اعصاب میں جھنجلاہٹ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔

کئی دوائوں کا مسلسل استعمال بھی جھائیوں کا سبب ہو سکتا ہے، اچھی طرح اپنے مسئلے کو پرکھیں اور اس وجہ کو دور کریں جو اس کا سبب ہے، اس کے بعد علاج کی بات آتی ہے، بے شک بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل توجہ اور نگرانی رکھنا پڑتی ہے باقاعدہ اچھی جگہ سے فیشل لیں، اپنی ماہر آرائش یا ڈاکٹر کے مشورے سے وہ کریم یا دوا استعمال کریں، جو ان کو دور کرنے میں بہترین کام کرتی ہیں۔

مگر پھر وہی بات کہ ہر ایک کے لیے ایک ہی چیز کا ر آمد نہیں ہو سکتی مشورہ ضروری ہے اور باقاعدہ مسلسل فیشل بھی ضرور لیں اور عام سبب بلیچ کا با کثرت استعمال بھی ہے، گھر میں رہ کر خواتین بازار سے ملنے والی عام بلیچ کریم مسلسل استعمال کرتی رہتی ہیں۔ جو بے حد خطرناک ہے کیوں کہ کم از کم ایک ماہ سے دو ماہ کا وقفہ ضروری ہے بلیچ کے بعد چہرے کو کم از کم ۸ گھنٹے تک دھوپ سے بچائیں، وہ چیزیں جو نقصان دہ ہیں۔ مثلاً اسکرب وغیرہ ان کو بھی روزانہ استعمال نہ کریں، جلد کے اوپر سے حفاظتی تہیں زبر دستی اتار دینے سے نازک جلد اوپر آجاتی ہے۔ جو بہت زیادہ توجہ اور نگرانی مانگتی ہیں، یہ نازک جلد ہر طرح کے مسئلے کا شکار ہو سکتی ہے، اس لیے زبردستی اسکرب نہ کریں، کسی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اعتدال سب سے خوب صورت چیز ہے۔