آنکھوں کی خوبصورتی اور حفاظت کے لیئے گھریلو ٹپس

آنکھیں ہمارے جسم کے تمام اعضا میں حساس ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے قیمتی بھی ہیں۔ آنکھیں ہمارے چہرے کے بالکل درمیان میں ہوتی ہیں، جن پر قدرت نے حفاظت کے لیے انسانی جلد کے ٹشوز سے بنا ہوا ایک ڈھکن نما پپوٹا بھی رکھ دیا ہے۔ یہ آنکھوں کو ہر نقصان دہ چیز سے مکمل طور پر بچاتا ہے، مثلاً تیز روشنی، تھکن اور گردو غبار یا آلودگی وغیرہ۔

ان ہی عوامل کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری آنکھیں کتنی نازک اور حساس ہوتی ہیں۔ فی زمانہ جس قسم کا میک اپ عام ہے اس میں بھی آنکھوں کی خوب صورتی کو سب سے زیادہ فوکس کیا جاتا ہے، لیکن بھلا ہو بیوٹی ایکسپرٹس کا جو میک اپ سے عاری اور بری لگنے والی آنکھوں کو بھی نہایت خوب صورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ایسے میں ذرا سوچیں کہ اگر آنکھیں قدرتی طور پر بے حد خوب صورت ہوں تو پھر ان پر میک اپ واقعی سونے پر سہاگے کا کام کرے گا۔ سب سے پہلے تو میک اپ کے لیے آنکھ کا صحت مند ہونا ضروری ہے، اگر آنکھ صحت مند نہ ہو گی تو میک اپ بھی کچھ خاص اثر نہیں ڈال سکے گا۔

ہمارے ماحول میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی فضا میں پائی جانے والی آب و ہوا اور مختلف لہریں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہی مختلف اقسام کی لہریں آنکھوں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ تیز سفیدی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آپ محسوس کریں گے کہ تیز دھوپ میں رہنے کے بجائے اگر آپ تاریکی میں رہیں تو آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے اور دھوپ میں نکلنے سے پہلے ان ہی لہروں سے بچنے کے لیے سن گلاسز کا استعمال کرتے ہیں۔

وہ لوگ جو سردیوں کے موسم میں اسکیٹنگ کرتے ہیں، آپ نے غور کیا ہو گا کہ جب سورج کی تیز لہریں چمکیلی سفید برف سے ٹکرا کر براہ راست ان کی آنکھوں پر پڑیں تو ان کی آنکھیں انھیں برداشت نہیں کر سکتیں اور کھلی نہیں رہ سکتیں۔

آنکھوں کے بارے میں جیسا کہ تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ آنکھ کی پتلی، اس کی پلکیں اور کے اردگرد کی جلد نہایت نازک ہوتی ہے اور اسی نازک اور باریک سی جلد کے لیے مناسب نمی کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ Dehydration یعنی پانی کی کمی آنکھوں کے لیے بے حد نقصان کا باعث ہے۔ اس حصے میں اگر ذرا بھی بداحتیاطی سے کام لیا جائے تو اس حصے کی جلد اور تمام چہرے کی جلد کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اکثر آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن جاتے ہیں جو اس بات کی نشانی ہیں کہ آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال یا انھیں مناسب نیند کے ساتھ آرام نہیں مل رہا۔ اس سلسلے میں آپ ہائیڈریٹننگ انڈر آئی سیرم کا استعمال کر سکتی ہیں۔

آنکھوں میں اگر بے آرامی کی وجہ سے جلن یا سوجن وغیرہ ہو تو اس کے لیے جلد از جلد آئی اسپیشلسٹ سے رجوع کریں اور اپنی آنکھوں کا مکمل معائنہ کروائیں۔ آنکھوں کی صحت کے لیے ایک اور تدبیر یہ ہے کہ جب بھی مصنوعی روشنی میں لکھنے پڑھنے کا عمل انجام دیا جائے تو اس وقت روشنی کا خاص خیال رکھا جائے۔ روشنی نہ تو ضرورت سے زیادہ ہو اور نہ ہی کم اور اس کی ڈائریکشن کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ روشنی کی ڈائریکشن سے مراد ہے کہ روشنی یا تو بائیں جانب سے ٹیبل پر آئے یا پھر دائیں جانب سے۔ آنکھوں کے عین سامنے سے روشنی منعکس ہو کر آنکھوں میں پڑنا درست نہیں ہے۔

اگر آپ کے معمولات میں لکھنے یا پڑھنے کا کام شامل ہے یا آپ رات کو دلچسپی سے ناول وغیرہ پڑھنے کی یا موبائل استعمال کرنے کی شوقین ہیں تو ہر ایک گھنٹے کے بعد دس منٹ کا وقفہ لیں اور تقریباً ایک یا آدھے منٹ تک انھیں گھڑی کی سوئیوں کی ڈائریکشن میں گھمائیں۔ کوشش کریں کہ اپنی تمام نیند رات کو ہی پوری کر لیں کیوں کہ دن میں یا تو سونے کے لیے مناسب حالات میسر نہیں ہوتے اور اگر آپ دن میں کسی وقت سوئیں بھی تو اس کی نیند رات کی نیند کا نعم البدل کبھی بھی نہیں بن سکتی۔ ماہرین کے مطابق ایک رات کی مکمل آٹھ سے دس گھنٹے کی نیند ہفتے کے سات دنوں کی نیند سے بہتر ہے۔

رات کو سونے سے قبل یاد سے آئی میک اپ اتار کر سوئیں اور مسکارہ وغیرہ اتار کر آنکھوں کو ایک بار ٹھنڈے پانی سے دھو لینے کے بعد بستر کا رخ کریں۔ آنکھوں کے لیے سب سے مفید وٹامنز میں وٹامن اے ہے جسے آپ تقریباً تمام پیلے اور نارنجی رنگوں کے پھلوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً گاجر، خوبانی، آم وغیرہ۔ سبزیوں میں پالک آنکھوں کے لیے مفید ہے۔

مسلسل ذہنی دباؤ نہ صرف جسم پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ آنکھوں کی دلکشی زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ نیز یہی ذہنی دباؤ اور تناؤ اکثر اوقات بے خوابی کا سبب بنتا ہے۔ آنکھوں کی صحت اور حُسن برقرار رکھنے کے لیے ذہنی دباؤ اور تناؤ کو دور کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ کلیتاً اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ، مگر یہ کوشش ضرور کرنا چاہیے کہ پریشان کن باتوں کے اثرات مختلف طریقوں اور مختلف مصروفیات سے زائل کیے جاتے رہیں ورنہ یہ مسلسل ذہنی دباؤ، ڈیپریشن کا راستا کھول دیتا ہے۔

چند گھریلو ٹپس

۔ دو عدد کاٹن بالز ٹھنڈے دودھ میں بھگو کر انھیں دس منٹ کے لیے اپنی آنکھوں پر رکھ لیں۔

۔ آپ کھیرے کے اکسٹریکٹ سے بنے پیڈز بھی استعمال کرسکتی ہیں جو آپ اپنے ساتھ ہر جگہ پرس میں ساتھ لے جاسکتی ہیں۔

۔ آنکھوں کے نیچے آئی بیگز سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے استعمال شدہ ٹی بیگز ٹھنڈے پانی میں بھگوئیں اور انھیں آنکھوں پر رکھیں۔

۔ آنکھوں کو ری فریش کرنے کے لیے کھیرے  ککڑی یا کچے آلو کے قتلے اپنی آنکھوں پر رکھیں۔

۔ آئی برو کی شائن کے لیے گلوس کا استعمال کریں اور اُن کی شیپ بنانے کے لیے جیل پینسل کا استعمال کریں۔

بہرحال آپ کی آنکھوں کا انداز کچھ بھی ہو لیکن ان پر میک اپ اُسی صورت میں سوٹ کرے گا جب یہ خوب صورت نظر آئیں گی اور ظاہر ہے کہ آنکھوں کی قدرتی خوب صورتی کے لیے ان کی صحت کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔