شک ایک وائرس ہے

شک اور اعتماد دو متضاد چیزیں ہیں۔ جہاں بھی دل میں بال آجائے اعتماد کی زنجیریں وہاں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ شک اور اعتماد دونوں  ساتھ چلتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ انسان جس پہ شک کیا جائے اپنی کارکردگی سے آہستہ آہستہ اگر اعتماد کی فضا بھی قائم کردے تب بھی یہ شک ختم نہیں ہوگٰا۔ غرضیکہ شک اور شکی آدمی دونوں ہمارے لیے ضرر کا باعث ہیں۔ شک ایک ایسا وائرس ہے جو انسان کو اگر ایک بار مضبوطی سے چمٹ جائے تو یہ پھر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بیماری کس طرح پیدا ہوتی ہے کیونکہ ہر جراثیم کے پھیلنے کے لیے ماحول کا سازگار اور کسی ایسے عوامل کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس میں اس جراثیم کو بخیر وخوبی پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔ شک کی بیماری  ورثہ میں بھی ملتی ہے۔ یہ ذیابیطس، گٹھیا اور بلڈ پریشر کی طرح جسمانی ورثا نہیں ہوتا بلکہ ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ ماں باپ شکی مزاج ہوں تو بہت حد تک یہ بات ممکن ہے کہ بچہ بھی شکی مزاج بن جائے۔ ایک شکی مزاج ماں اپنے برتاؤ سے بیٹی میں یہ بات منتقل کر دیتی ہے۔

اگر ہم اس بیماری کے جغرافیہ پر نظر ڈالیں تو ساری دنیا میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔ مالک نوکر پر شک کرتے ہیں۔ ساس بہو پر شک کرتی ہے۔ شوہر بیوی کے شک کا شکار اور بیوی شوہر کے شک کا۔۔۔۔۔ اس بیماری کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ازدواجی زندگی میں ہوتا ہے۔ بیوی شوہر پر شک کرے یا شوہر بیوی پر دونوں صورتوں میں گھر جہنم کا نمونہ بن جاتے ہیں اور جہنم میں جانا کسے پسند ہو گا۔ بعض شوہر حضرات دیر سے گھر آتے ہیں اور بیگم کے سوال کے جواب میں زیادتی کام کو گردان دیتے ہیں، چلیے مانا کہ وہ آفس میں نہیں تھے دوستوں کے درمیان گپ شپ میں مصروف تھے بس یہی بات شکی عورتوں کے مزاج کے لئے ایک تازیانہ ہے۔

شک کا ایک سبب خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اگر شوہر کی صورت واجبی ہے تو وہ کمتری کے احساس میں مبتلا ہو جائے گا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر بیوی خوبصورت ہو تو یہ احساس کمتری اور بڑھ جائے گا۔ شک کا یہ عنصر ان کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ کیوں کہ میں خوبصورت نہیں ہوں اس لئے گمان ہے کہ میری بیوی مجھ سے محبت نہیں کرتی ہےاور مجھ سے بہتر شکل وصورت کا کوئی انسان نظر آجائے تو وہ اس کی طرف مائل بہ کرم ہو جائے گی۔ مرد اپنے ذہن میں شک کا یہ بیج بوتے وقت دراصل یہ بھول جاتا ہے کہ دراصل عورت کے لئے شکل و صورت ایک ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرد اگر ذہین ہے عقل مند ہے، اپنے کام میں ہوشیار ہے اور اس سے وابستہ تمام چیزوں کا بہ احسن و خوبی خیال رکھتا ہے تو بیوی کی ضرورتیں بڑی حد تک اسی طرح پوری ہو جاتی ہں۔ شادی کے متعلق ایک فلاسفر کا قول ہے کہ مرد اپنی ازدواجی ضرورت کے لئے شادی کرتا ہے۔ عورت کا حسن یا اس کی تمام اور خوبیاں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ کبھی عورت کے سنہری بالوں پر فدا ہو جاتا ہے کبھی وہ اس کی نیلی آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے، کوئی اس کے قدو قامت اور کوئی اس کے بوٹے سے قد پر جان سے چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عورت کے لیے مرد کی شکل و صورت اتنی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ صرف اپنے گھر بسانے کے لئے شادی کرتی ہے۔ اسکی آرزو ہوتی ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو، بچے ہوں۔اپنے گھر میں وہ آزاد انسان کی طرح زندگی بسر کرے اور اگر شوہر اچھا ہوخوبصورت ہوتو یہ مزید خوبی ہے۔ مرد حضرات اس نقطے کو نہیں سمجھتے وو بیوی کے حسن سے مرعوب ہو جاتے ہیں اور خود کواس سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اس کمتری کے احساس سے ہی شک پیدا ہوتا ہے۔ شک کا دوسرا سبب عمروں میں زیادہ فرق کا ہونا ہے۔ اگر کم عمر لڑکی کا شوہر زیادہ یا ادھیڑ عمر کا ہوتو  وہ بھی شک کا شکار ہو جاتا ہے۔ مشورہ ہے کہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مرد کے سامنے کسی دوسرے شخص کی، خصوصاً مردوں کی صنف میں سے کسی کی تعریف نہ کریں۔ شکی مزاج مرد کے سامنے تو یہ بات بُھس میں آگ لگانے کے برابر ہے۔

جب عورت شکی بن جائے تو وہ مرد کی تمام حرکات وسکنات کا بغور جائزہ لیتی ہے۔ اگر مرد زیادہ تیار ہوجائے۔ کلون اور پرفیوم کا استعمال کرے تو عورت شک کا جیتاجاگتا شکار بن جاتی ہے۔ بعض عورتیں تو خاوند کے کوٹ پر دیکھتی ہیں شاید کسی صنف نازک کے زلفوں کے کچھ آثار نظر آ جائیں۔ کبھی ٹٹول کر اس کی تمام جیبوں کی تلاشی لیتی ہی کہ شاید کسی حسینہ کی تصویر برآمد ہو جائے۔ جن عورتوں کے شوہر ایک عدد سیکریٹری کے بھی مالک ہوتے ہیں وہ اس مرض سے بخوبی واقف ہوں گی۔ شک کا ایک اور سبب انا ہے۔ بعض مرد بڑے خود پرست ہوتے ہیں۔ اگر وہ خوبصورت ہیں تو دوسرے کو بدصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں تو دوسرے کو جاھل، خود صاحب حیثیت ہیں تو دوسرے کو POOR کہہ کر اپنے جذبے کی تسکین کرتے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں میں خود پرستی کا مرض زیادہ پایا جاتا ہے اور یہی خودپرستی آگے چل کر شک بن جاتی ہے۔

شک کا دائرہ بہت وسیع ہے اس کی زد میں صرف ایک فرد واحد نہیں بلکہ پورے کا پورا خاندان آجاتا ہے۔ شک کی عادت سے پیچھا چھڑانے کے لئے انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیا وہ احساس کمتری کا شکار ہے؟ کیا یہ شک اس کو وراثت میں ملا ہے؟  یہ صرف اس کے لاشعور کی پیداوار تو نہیں ہے یا یہ کہ وہ خود کو نا اہل اور کمتر تو نہیں سمجھتا؟

اگر یہ عادت گھر کے ماحول سے ملی ہے تو اسے سمجھنے کے بعد اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ماں باپ ایک دوسرے پر شک کریں، بچوں پہ شک کریں، ملازم پہ شک کریں اور اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہ زندگی بھر ذہنی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ ہم بھی اسی تجربے کو دہرائیں.

اگر آپ خود کو کمتر سمجھتے ہیں تو یہ سوچ لیجئے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہے۔ اگر وہ خوبیوں کا مالک ہے تو خامیاں بھی اس سے الگ نہیں۔ کوئی بہت مالدار ہے مگر کنجوس بہت ہے۔ کوئی خوب صورت ہے مگر اس کے دماغ کا خانہ با لکل خالی ہے۔ کوئی جامہ زیب ہے تو دن رات شیخیاں بگھارتا رہتا ہے۔ کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے مگر زبان دراز بہت ہے۔غرضیکہ کوئی انسان ایسا نہیں جس میں صرف خوبیاں پائی جاتی ہوں اور وہ خامیوں سے مبرا ہو۔ اسی لیے کسی دوسرے سے مرعوب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی شکل و صورت واجبی سی ہے لیکن آپ سلیقہ شعار ہیں تو آپ کو شک کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ آپ کی سلیقہ شعاری آپ کے عیب کو چھپا لے گی۔  اگر آپ اعتبار کرنے کی عادت ڈالیں تو شک کی عادت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اس بات کا انتظار نہ کریں کہ دوسرے انسان اپنے آپ کو اعتماد کے قابل بنائے۔ آپ خود پہل کریں۔ اعتبار کرنے میں نقصان کا احتمال بھی ضروری ہے لیکن خطرہ مول لیے بغیر آپ شک کی بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ ایک سکون پسند انسان سے کسی نے پوچھا کہ تمہاری طما نیت کا راز کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ۔

”میرا اصول ہے کہ اعتبار کرو اور دھوکا کھاؤ، یہ بات اس سے بہتر ہے کہ شک کرو اور پریشانی کو مول لو۔”

اعتبار سے  اعتبار پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی پر اعتبار کریں اور اسے کہیں کہ وہ کسی چیز کی حفاظت آپ کی عدم موجودگی میں کرے تو گویا آپ نے اسے حفاظت کا ذمہ دے کر اس کو انسانیت کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائے اور اس کی سوئی ہوئی انسانیت جاگ جائے۔ لہٰذا دوسروں پر اعتماد کرنا سیکھیے۔ دوسروں پر اعتماد آپ کی خود اعتمادی کو بڑھائے گا۔ بالفرض محال اگر کوئی آپ کے اعتماد کوزک پہنچاتا ہے تو اس سے صرف اسی شخص کی بداعتمادی ظاہر ہوگی۔ آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ یاد رکھیے اعتماد ایک ایسی سنہری زنجیر ہے جو رشتوں کو مضبوط بناتی ہے۔