کیا آپ زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں۔۔۔؟

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

کسی دانا کا قول ہے کہ تم کسی کو سوچنے پر مجبور کرسکتے ہو مگر ماننے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

آزادی اظہار اور مکالمہ کسی بھی معاشرے کی فکتی آزادی کے لیئے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے لیئے ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ اور تہذیب کے پیرائے میں بات کریں۔ مگر ہمارے ہاں مکالمے کو جھگڑے میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔  اکثروبیشتر گلی، محلہ اور بازار کے نکڑ پر کھڑے تین چار بزرگ یا نوجوان کسی نہ کسی چیز پر لاحاصل بحث کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر بے ضرر نظر آنے والی ان مباحث کا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں بے تحاشہ نقصان ہوتا ہے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ ایسی بحث کرنے سے گریز کیا جائے جس کے بارے میں آپ کو علم نہ ہو، آپ اس کے متعلق سمجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں، کیونکہ ایسی بحث کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔

ایک کامیاب شخصیت بننے کے لیئے ضروری ہے کہ اپنا بیش قیمت وقت غیر ضروری چیزوں اور بے کار کی باتوں میں ضائع نہ کیا جائے۔ درج ذیل چند نکات پر عمل کرتے ہوئے ہم زندگی میں کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں۔

مثبت سوچ: مثبت سوچ کی پہلے شرط یقین ہے۔ آپ کو خود پر اور اپنے قریبی لوگوں پر یقین ہونا چاہیئے۔ جب تک آپ پُر یقین نہ ہوں گے اس وقت تک آپ کی سوچ مثبت نہیں ہوسکتی اور یقین پیدا کرنے کے لیئے سوچ کا مثبت ہو ضروری ہے۔ آپ کو دل سے اپنے آپ کو پسند کرنا ہوگا، اپنی قدر کرنا ہوگی اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ کامیابی کے لیئے اپنی ذات پر یقین بہت ضروری ہے۔

جب آپ پُر اعتماد ہوتے ہیں تو دنیا آپ کے لیئے بہت بدل جاتی ہے۔ ایک پُر اعتماد انسان بہتر سوچتا ہے اور بہترین منصوبہ بندی سے اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے۔ جب آپ کو اپنی قابلیت پر یقین ہوتا ہے تو آپ رسک لینے سے نہیں گھبراتے، آپ ناکامی سے نہیں ڈرتے اور اگر ناکامی راستے میں آئے تو بھی آپ بے خوف ہو کر اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ یقین ہی کامیابی کے متعلق سوچنے اور اسے حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

جو لوگ بلندی پر پہنچتے ہیں وہ عام لوگوں سے مختلف نہیں ہوتے۔ فرق یہ ہے کہ عام آدمی اپنے آپ کو درمیانی درجے کا تصور کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ترقی کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ ہم میں سے اکثر کی سوچ بچپن سے ہی محدود ہوتی ہے۔ ہم کامیابی کے لیئے تیار نہیں ہوتے۔ کبھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کامیابی تو اہرامِ مصر کی طرح بڑی چیز اور کافی مشکل ہوتی ہے۔ ہمارا یقین ایسی منفی باتوں پر پختہ ہوجاتا ہے اور ہم کامیابی کے متعلق سوچنے سے گھبراتے ہیں اور اس کے لیئے کوشش بھی نہیں کرتے۔

خود اعتمادی: خود اعتمادی ایک ایسی خوبی ہے جو کسی بھی کامیابی کے لیئے ضروری ہے۔ ایک پتھر کسی بزدل کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتا ہے، لیکن بہادر اس پر پائوں رکھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے۔

اپنے مقصد کو اہم بنائیں: اگر آپ کو یہ علم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو پھر سوچیے آپ کیا حاصل کر پائیں گے۔ صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے سوچنے، منصوبہ کرنے اور اس پر کام کرنے کی اہلیت دی گئی ہے۔ وہ اپنے مقاصد کا تعین کر سکتا ہے اور خوابوں کو پورا کرسکتا ہے۔ اپنے لیئے اور دوسروں کے لیئے ایک نئی، بہتر اور خوبصورت دنیا تخلیق کرسکتا ہے۔ وہ اپنے دماغ میں ایک نیا آئیڈیا سوچ سکتا ہے اور اسے حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ ہمیں زندگی میں اپنا مقصد بنانا چاہیئے تاکہ ہم اس کی طرف پیش قدمی کریں اور منزل حاصل کرسکیں۔ اگر ہم اپنے مقصد کا تعین نہیں کرتے تو ہماری زندگی نا مکمل رہے گی۔

فیصلہ کرتے وقت جلد بازی نہ کریں: کامیاب لوگوں میں قوتِ فیصلہ بھی ہوتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی روز مرہ کی زندگی میں بے شمار فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض فیصلے اتنے اہم ہوتے ہیں جن پر آپ کے مستقبل اور ساری زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے جلد بازی میں اور جذباتی ہو کر ہرگز نہیں کرنے چاہیئیں۔ تمام پہلوئوں پر اچھی طرح غور و فکر کرکے، بڑوں اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ کر کے کوئی قدم اٹھانا چاہیئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم جوتے اور کپڑے جیسی عام سی چیزوں کی خریداری سے پہلے مشورہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ نقصان نہ ہوجائے تو اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے کس طرح بغیر سوچے سمجھے کر سکتے ہیں۔

کامیابی صرف ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو بہادری کے ساتھ اپنے خوابوں کو تصور میں دیکھتے ہیں۔ ان پر محنت کرتے ہیں، حل تلاش کرتے ہیں۔ جو بڑے خواب دیکھنے کی جرأت کرتا ہے وہ انہیں پالیتا ہے، وہ جوناکامیوں اور غلطیوں سے نہیں گھبراتا اور جانتا ہے کہ منفی کو مثبت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ مشہور ماہرِ نفسیات الفریڈ ایڈلر انسانی دماغ کی اس غیر معمولی قابلیت کی زبردست وکالت کرتا تھا کہ یہ ہارنے والے کو جیتنے والا بنا سکتا ہے۔

اچھی توقعات آپ کی ذہانت سے بڑھ کر ہیں۔ ہماری بہترین توقعات حالات کو ہمارے حق میں سازگار بنادیتی ہے۔ ہم منظم، پُر اعتماد اور تخلیقی ذہن رکھنے والے بن جاتے ہیں۔ ہم ناکامی سے نہیں گھبراتے اور ان سے سبق سیکھتے ہیں۔

الزام تراشی سے گریز: کامیاب لوگ مواقع تلاش کرتے ہیں جبکہ ناکام لوگ بہانے۔ انہیں دوسروں کی کامیابی مشکوک نظر آتی ہے جبکہ اپنی ترقی کی راہ میں وہ فرضی رکاوٹوں سے ڈرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کی بات کا جواب دلیل سے نہیں دے سکتا تو وہ الزام لگانا شروع کردیتا ہے۔ اگر ایک آدمی آپ پر الزام لگاتا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ بھی اس پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیں، بلکہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی غلط فہمی دور کی جاسکتی ہے، اگر وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ نہ ہو تو خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیئے۔

اپنی غلطی جلد مان لیں: غلطی ناکامی کا باعث نہیں بنتی بلکہ غلط بات پر اصرار اور ڈٹے رہنا ناکامی کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی میں کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اسے مان لینا چاہیئے، نہ کہ اسے اپنی انا کا مسٔلہ بنالیا جائے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے وقتی طور پرشاید آپ کو فائدہ نہ ہو لیکن بعد میں اس کے بہت اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ جو بندہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا وہ مزید غلطیاں کرتا ہے اور آہستہ آہستہ ناقابلِ اصلاح ہو جاتا ہے۔

موضوں لباس کا انتخاب: لباس انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لباس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے۔ نوجوانوں کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ایسے لباس کا انتخاب کریں جس سے اس کی شخصیت کا اچھا تاثر بنے۔ جب آپ کسی جگہ انٹرویو وغیرہ دینے جاتے ہیں تو وہاں بھی اس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے نت نئے فیشنوں کی نقالی کرتے ہوئے اپنی شخصیت کا منفی تاثر نہیں دینا چاہیئے۔