کامیابی کا گُر

آمنہ خان

عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ بڑے ذوق و شوق سے کسی کام کا آغاز کرتے ہیں اور پورے تن من دھن سے اس کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں۔ ان کا انہماک اور جوش و ولولہ ان لمحات میں قابل دید ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کام کے علاوہ وہ کسی شے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ مگر جب اس کام سے متعلق دشواری و مشکلات سامنے آنے لگتی ہیں تو ان کا شوق اور جذبہ جھاگ بن جاتا ہے۔ وہ کام سے بیزار ہو جاتے ہیں اور اپنے اندر کام جاری رکھنے کا ہمت و حوصلہ نہیں پاتے, بالآخر ہمت ہار جاتے ہیں اور کام کو ترک کردیتے ہیں. اس میں شک نہیں کہ اگر کام کی نوعیت پیچیدہ ہے اور اعلیٰ درجہ کی لیاقت و استعداد کی طالب ہے تو کام دشوار ہوتا ہے اور اس کی تکمیل کے مراحل بھی کٹھن ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے اندر اس کام کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود بھی ہے یا نہیں؟ کہیں ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسے کام میں ہاتھ تو نہیں ڈال رہے جو ہماری صلاحیتوں، ہمارے اردگرد کے ماحول، مذہبی اور معاشرتی قدروں سے متصادم ہے۔

ہر طرح کے اطمینان کے بعد جب عقل و سلیم اس کام کو قبول کرلے تو ارادہ مضبوط کر کے مشن کی طرح آغاز کر دینا چاہیے۔ زیادہ تردد اور تذبذب ذہانت پر خراش ڈال دیتی ہے۔ لہٰذا جب کام کا آغاز ہوجائے تو پھر وسوسوں اور خدشات سے عقل کو مضحمل نہ ہونے دیں۔ ارادے کے استحکام اور پختگی سے مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

کام ذاتی نوعیت کا ہو یا اجتماعی فلاح کا، ثابت قدمی اور لگن کا متقاضی ہوتا ہے۔ کوشش اور محنت کا سفر طرح طرح کی تکالیف اور رکاوٹوں سے اٹا ہوتا ہے۔ جس طرح باغبان اپنے چمن کو دلکش اور حسین بنانے کے لئے سردی گرمی، موسموں کی سختی، حشرات الارض اور خاروں کی چبھن برداشت کرتا ہے بالکل اسی طرح کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کرنے والوں کو مختلف قسم کی تکالیف اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ صبر و تحمل کا دامن حاصل ہی چھوڑ تے۔ کسی نے کہا ہے صبر اور کامیابی دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور کامیابی ہمیشہ صبر کے نتیجے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

بعض لوگ کام کو تیزی سے سمجھنے اور حسن و خوبی کے ساتھ نمٹانے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرا شخص کم فہمی کی بنا پر وہی کام دیر سے کرتا ہے اور انجام دہی کے دوران بیزاری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اجتماعی فلاح و بہبود سے متعلق امور بہت زیادہ مستقل مزاج،  ثابت قدمی اور صبر و حوصلے کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے نتائج بھی عموماً دیر سے حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسا کام سے وابستہ لوگوں میں قوت برداشت اور مضبوط قوت ارادی ہونا بہت ضروری ہے۔ ضروری نہیں کہ محنت کا پھل فوری طور پر حاصل ہو جائے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کی شدید محنت اور کوشش کے باوجود کامیابی کی منزل دور نظر آتی ہے اور کبھی کبھی اس کے نتائج تجربے کی صورت میں ہی حاصل ہوتے ہیں۔ کر کبھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو کہ اس میں متوقع کامیابی حاصل نہ ہو سکے تو کبھی خود کو ناکام نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس دوران جو تجربہ حاصل ہوا ہے وہ .کامیابی کی منزل میں ہر قدم پر آپ کی راہنمائی کرے گا اور یہ بجائے خود ایک بڑی کامیابی ہے